ڈرون حملے اور لفظی احتجاج

ثناء غوری  جمعـء 5 جولائ 2013
sana_ghori@live.com

[email protected]

جا بہ جا پیوند لگی چادر پر بچھے دسترخوان پر آج کئی دنوں بعد میسر آنے والے گوشت کا سالن وہاں بیٹھے اہل خانہ کی اشتہا بڑھا رہا ہے۔ ہاتھ رکے ہوئے ہیں کہ گھر کا سربراہ روٹی لینے گیا ہے۔ اچانک اس کچے گھر سے پورے گاؤں تک پھیلا رات کا سکوت ایک خوف ناک آواز نے توڑدیا۔ ماں کے پہلو میں بیٹھے چار سالہ گل زیب نے سالن کی پتیلی سے نظریں ہٹا کر ماں کی طرف دیکھا، ’’ماں! وہی آواز۔۔۔۔ کہیں بابا تو نہیں مارا گیا۔‘‘، ’’چپ، اﷲ نہ کرے‘‘ ماں کی آواز میں غصے سے زیادہ اپنی اس دعا پر بے یقینی کی لرزش تھی۔ ’’ماں! جب یہ آواز آتی ہے تو ہمارے گاؤں میں کسی کا بابا ضرور مارا جاتا ہے۔‘‘

کچھ خبر نہیں گل زیب کا ’’بابا‘‘ روٹی لے کر آیا کہ اس معصوم کا خدشہ سچ ثابت ہوا۔ خبر ملتی ہی کب ہے۔ بس اتنا پتا چلتا ہے کہ ڈرون حملے میں فلاں فلاں عسکریت پسند سمیت اتنے افراد مارے گئے، اتنے مشکوک عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ یہ ’’سمیت‘‘ مارے جانے والے کون تھے؟ یہ ’’مشکوک‘‘ واقعی عسکریت پسند تھے یا بے قصور؟ کچھ پتا نہیں چلتا۔

پاکستان پر امریکی حملوں۔۔۔۔ چلیے، یوں نہیں کہتے کہ قومی غیرت اور ’’دفاعی وقار‘‘ کا سوال ہے، یوں کہہ لیتے ہیں کہ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہونے والے ڈرون حملوں‘‘ کا آغاز 2004 سے ہوا تھا، جس کے بعد سے یہ یلغار مسلسل جاری ہے۔ آزادی، خودمختاری، قومی عزت و وقار اور ڈرون حملوں کی مخالفت کے نعروں کے ساتھ انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے برسراقتدار آنے کے بعد اب تک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دو ڈرون امریکی حملے ہوچکے ہیں۔ نواز شریف ڈرون حملوں کی مذمت اور مخالفت کرتے رہے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے پہلے قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ اب یہ حملے ختم ہوجانا چاہئیں۔ اس سلسلے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے اسے پاکستانی کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا تھا۔

پاکستانی حکومت کے اس مطالبے یا ’’اپیل‘‘ کا جواب یکے بعد دیگرے دو ڈرون اٹیکس کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔ ان میں سے پہلا حملہ 7 جون کو ہوا، جس میں سات جانیں گئیں اور تین افراد زخمی ہوئے، دوسرا جواب 13 جون کو آیا اور شمالی وزیرستان ایجنسی کے صدرمقام میراں شاہ میں ہونے والا امریکی ڈرون حملہ مزید سات جانیں نگل گیا۔

بے شک ان حملوں میں عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن اندھے ڈرون طیارے جب بے دردی سے موت بانٹتے ہیں تو قصوروار اور بے قصور میں امتیاز نہیں کرتے۔ چنانچہ ان حملوں میں کتنے ہی پھول سے بچے جھلس کر خاک ہوچکے ہیں، کتنے ہی بے گناہ شہری موت کی آغوش میں جاچکے ہیں اور لاتعداد گھر مٹی ہوچکے ہیں، مگر اس خوں ریزی اور تباہی کا جواب وحساب دینا اور ذمے داری قبول کرنا تو کجا، ان واقعات کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آتیں۔ مارا جانے والا دہشت گرد قرار پاتا ہے، مگر اکثر اس کے بارے میں کوئی تفصیل دی جاتی ہے نہ اس کی تصویر۔ ہمارے حکمراں اس بات سے انکاری ہیں کہ یہ حملے ان کی اجازت یا اعانت سے ہورہے ہیں، مگر ان کے خلاف زبانی کلامی احتجاج کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ قوم کے منتخب نمایندے ان حملوں کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہیں۔ رہی قرارداد، تو یہ محض ایک رسمی کارروائی ہی ثابت ہوئی ہے۔ اگر یہ حملے ’’قومی مفاد‘‘ کا تقاضا اور ان میں ہونے والی ہلاکتیں اور تباہی ’’ملک کے استحکام‘‘ کے لیے ناگزیر ہیں تو ان حملوں کو ’’ہماری جنگ‘‘ قرار دے کر واشگاف الفاظ میں ان کی ذمے داری کیوں نہیں قبول کی جاتی؟

ڈرون حملوں کو ہر پاکستانی قومی عزت اور خودمختاری پر حملہ تصور کرتا ہے۔ امریکا کی ان کارروائیوں پر ہر پاکستانی کا دل زخمی اور ملول ہے۔ یہی جذبات تھے جن کا اظہار انتخابی نتائج کی صورت میں سامنے آیا اور عوام نے مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کو جو کام یابی دلائی اس کی ایک اہم وجہ ان جماعتوں کی پاکستان کے معاملات میں امریکی مداخلت اور ڈرون حملوں کی مخالفت تھا۔ تحریک انصاف نے ان حملوں کی محض مذمت ہی نہیں کی بلکہ مظاہروں اور دھرنوں کے ذریعے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ مگر آج جب تحریک انصاف قومی اسمبلی میں ایک بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت قائم کرچکی ہے، اپنے موقف سے کئی قدم پیچھے ہٹتی نظر آتی ہے۔ توقع تھی کہ تازہ حملوں کے خلاف عمران خان اور ان کی جماعت کا بھرپور ردعمل سامنے آئے گا، مگر مایوسی ہوئی۔ شاید ہمارے حکمراں اور سیاست داں اس حوالے سے سخت اور دوٹوک موقف اپنانے سے کتراتے ہیں کہ کہیں دنیا کی بڑی سرکار ان سے ناراض نہ ہوجائے، مگر ان حملوں کو واضح موقف اور عملی اقدامات کے ذریعے ہی روکا جاسکتا ہے۔

ان دو جماعتوں کا ذکر تو اس لیے آیا کہ یہ ڈرون حملوں کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور اب برسراقتدار ہیں، ورنہ ملک کی ہر سیاسی جماعت، تنظیم، این جی او اور عوام کو تسلسل سے جاری اس امریکی جارحیت کے خلاف بھرپور احتجاج کرنا چاہیے، جس میں کتنے ہی بے گناہ پاکستانی مارے جا چکے ہیں اور مارے جارہے ہیں۔ موثر اور وسیع پیمانے پر ہونے والا احتجاج ہی اس ننگی جارحیت کا خاتمہ کرسکتا ہے، نہ کہ مذمتی بیانات اور قراردادیں۔

اس معاملے میں ویسے ہی بھرپور احتجاج کی ضرورت ہے جیسا 26 نومبر  2011 کو نیٹو فورسز کی جانب سے پاک افغان سرحدی چوکیوں پر ہونے والے حملے کے خلاف کیا گیا تھا۔ اس حملے میں پاک فوج کے 24 اہلکار اور 13 دیگر افراد شہید ہوگئے تھے۔ اس حملے کے خلاف بطور احتجاج پاکستان نے نیٹو کی سپلائی لائن بند کردی تھی۔ احتجاج کا یہ موثر طریقہ ڈرون حملوں کے خلاف بھی کیوں نہیں اپنایا جاتا؟ ان حملوں میں ہونے والی ہر ہلاکت اور ہر گھر کی تباہی کی ذمے داری پاکستان کی حکومت پر عاید ہے، جسے یہ ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔