شہر میں صفائی نہ ہونے سے امراض پھیلنے کا خطرہ

اسٹاف رپورٹر  ہفتہ 6 جولائ 2013
بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے شہر سے کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کام نامعلوم وجوہ کی بنا پر رک گیا ہے۔ فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے شہر سے کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کام نامعلوم وجوہ کی بنا پر رک گیا ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی: شہر میں صفائی و ستھرائی نہ ہونے اورجگہ جگہ پڑے کچرے نے تعفن پھیلادیاجبکہ شہرکو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

بارشوں کے موسم کے باوجود انتظامیہ غفلت کا مظاہرہ کررہی ہے، اس صوتحال کے باعث شہر میں کسی بھی وقت وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں ، ماہرین طب نے کہا ہے کہ عوام کو نگلیریا ، ڈنگی، ڈائریا ، پولیواور خسرہ جیسی بیماریوں کا سامنا ہے، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر سے مختلف امراض وبائی صورت اختیارکرسکتے ہیں، مون سون کی بارشوں کا موسم بھی شروع ہورہا ہے، ہلکی بارش کے بعدکچرے سے شدید تعفن پھیل رہا ہے جس میں مختلف جراثیم اور وائرس جنم لے رہے ہیں، کچرے کا تعفن سانس کے ذریعے انسانی جسم اور پھیپھڑوں میں داخل ہوکر تباہی پھیلا سکتا ہے، تیز بارش ہوتے ہی کچرا مختلف بیماریوں کی آماجگاہ بن جائے گا، حکومت سندھ عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد سرکاری سطح پر طبی سہولتیں نہ ہونے کے باعث علاج نجی اسپتالوں میں کرانے پر مجبور ہیں۔

ڈنگی، نگلیریا ، ڈائریا ، ملیریا سے متاثرہ مریضوں کو علاج کے حوالے سے اخراجات خود برداشت کرنا پڑرہے ہیں، ماہرین نے کہا کہ کراچی میں 3 افراد نگلیریا اور3 ڈنگی وائرس کا شکار ہوکر جاں بحق ہوگئے ہیں، ہزاروں افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہیں لیکن حکومت کی جانب سے علاج کی سہولتیں میسر نہیں اور نہ صفائی و ستھرائی کا کوئی موثر انتظام ہے،  بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے شہر سے کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کام نامعلوم وجوہ کی بنا پر رک گیا ہے، شہرمیں جگہ جگہ کچرے وگندگی کے ڈھیر لگ گئے ہیں جس کی وجہ شہر میںالرجی،دمہ ، سانس سمیت وائرل بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

گزشتہ چند روز سے شہر بھر میں صفائی ستھرائی کا نظام درہم برہم ہے، مختلف علاقوں میں کچرا نہ اٹھائے جانے کے باعث کچرے کے ڈھیر سے تعفن اٹھنے لگا اور بعض مقامات پرکچرے کو جلایا جارہا ہے، ایک اندازے کے مطابق روزانہ شہر میں10ہزار ٹن کچراجمع ہوتا ہے، بلدیہ شرقی میں روزانہ 15سوٹن ، ضلع جنوبی میں 2 ہزار ٹن ، ضلع ملیرمیں ایک ہزار ٹن ، ضلع بن قاسم میںایک ہزار ٹن اور ضلع غربی میں 15سو ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے،شہر میں قائم 5کنٹونمنٹ کراچی ،کلفٹن ، ملیر ، فیصل اور کورنگی کریک کنٹونمنٹ بورڈز اس کے علاوہ ہیں۔

بارش کی پیش گوئی کے بعد ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شہر میں بارش کے نتیجے میں تعفن اور وبائی امراض پھوٹ سکتے ہیں ، کچرا غیر قانونی طریقے سے جلایا جارہا ہے جس سیشہریوں میں سانس اور جلدی امراض بڑھ گئے، 10ہزار ٹن کچرے میں سے صرف 12سو ٹن محفوظ طریقے سے لینڈ فل سائیڈ پر جلایا جاتا ہے ، بقیہ کچرا لیاری اور ملیر ندی سمیت مختلف مقامات پھینک دیا جاتاہے محکمہ ماحولیات کے ذرائع کے مطابق شہر میں روزانہ 10ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے جسے محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا بندوبست موجود نہیں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔