بے امنی کے باوجود کراچی سرمایہ کاری کیلیے محفوظ شہر ہے، قائم علی شاہ

اسٹاف رپورٹر / نمائندہ ایکسپریس  ہفتہ 6 جولائ 2013
بھٹو حکومت کیخلاف فوجی بغاوت کے 36 سال مکمل ہونے پر وزیراعلیٰ قائم علی شاہ ،جہانگیر بدر اور دیگرحیدرآبادمیں منعقدہ تقریب کے دوران فاتحہ خوانی کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

بھٹو حکومت کیخلاف فوجی بغاوت کے 36 سال مکمل ہونے پر وزیراعلیٰ قائم علی شاہ ،جہانگیر بدر اور دیگرحیدرآبادمیں منعقدہ تقریب کے دوران فاتحہ خوانی کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی / حیدرآباد: وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ بدامنی کے باوجود کراچی اب بھی سرمایہ کاری کیلیے محفوظ ترین شہر ہے اور دنیا کی بیشتر کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں، سیاسی جماعتوں، بزنس مین، سوسائٹی، پروفیشنلز، فیڈریشن اور چیمبرز آف کامرس سمیت تمام اسٹیک ہولڈرزکراچی میں یکجہتی کیلیے کھلے دل کا مظاہرہ کریں۔

وہ جمعرات کی شب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی5 جولائی سے کراچی ایکسپوسینٹر میں شروع ہونے والی دسویں سالانہ تجارتی نمائش ’’مائی کراچی اوسس آف ہارمونی‘‘(میرا کراچی امن کا گہوارہ) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی، کے سی سی آئی کے صدر ہارون اگر، سینئر نائب صدر شمیم فرپو اور سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین زبیر موتی والا نے بھی خطاب کیا تقریب میں سینیٹر عبدالحسیب خان، سینیٹر سعید غنی، رکن قومی اسمبلی عبدالرشید گوڈیل، رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر ارشد وہرہ، راشد ربانی، وقار مہدی، اٹلس ہنڈا کمپنی کے چیئرمین یوسف شیرازی اور دیگر بھی موجو د تھے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ایک پرامن شہر تھا مگر نائن الیون کے بعد اس شہر کے حالات بتدریج خراب ہوتے گئے جس میں کسی ایک سیاسی جماعت کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔

سندھ میں کاروباری کشش موجود ہے اور صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جب سے ہم نے اقتدار سنبھالا کئی سرمایہ کاروں کے وفود نے ہم سے ملاقاتیں کیں، آسٹریلیا، انگلینڈ اور دیگر ممالک کے سرمایہ کار وفود نے سندھ میں پانی اور توانائی کے شعبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اگر ہم مشترکہ جدوجہد کریں تو بدامنی پر قابو پاکر کراچی کو ایک بار پھر پرامن شہر بنایا جاسکتا ہے۔ سراج قاسم تیلی نے کہا کہ کراچی کا امن خراب کرنے کیلیے بیرونی عناصر ضرور کارروائی کرتے ہیں مگر چھوٹے کرائم میں مقامی لوگ ہی ملوث ہیں۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر ہارون اگر نے بتایا کہ مائی کراچی نمائش میں500 اسٹالز لگائے گئے ہیں اور کئی ممالک نمائش میں شرکت کررہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ آج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کراچی ہمارا ہے لیکن جب ذوالفقارعلی بھٹوزندہ تھے اس وقت بھی کراچی بھٹو کا تھا اور آج بھی کراچی بھٹوکا ہی ہے۔ وہ جمہوری حکومت کا 5 جولائی1977  کوتخت الٹنے کے خلاف  منائے جانے والے یوم سیاہ کے موقع پر پیپلزپارٹی یوتھ ونگ کے تحت سندھ میوزیم حیدرآبادمیں منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے ۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ لوگ  جمہوریت کا تختہ الٹنے والے آمر کا بعدازمرگ احتساب کرنے کا کہتے ہیں تومیں  جواب دیتاہوں کہ اس کی تولاش تک موجود نہیں۔  ابھی توہم کو اربابوں سے بھی حساب لینا ہے لیکن  کوئی جلدی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کراچی ہمارا ہے لیکن جب ذوالفقار بھٹو زندہ تھے اس وقت بھی کراچی بھٹو کا تھا اور آج بھی کراچی بھٹو کا ہی ہے۔

سینیٹر جہانگیر بدر نے کہا کہ اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پیپلز پارٹی، بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تاریخ نکال دیں تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ نظر نہیں آئے گا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما وصدارتی ترجمان سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ غیرجمہوری قوتیںسن لیں کہ اگر اس ملک میں جمہوریت اورآئین نہیں رہا تو پھر یہ فیڈریشن موجودہ صورت میں نہیں رہے گی،جولوگ آج دہشت گردوں اور انتہاپسندوں سے بات چیت کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں وہ یہ بھی یاد رکھیںکہ 13 جون 2011 تک ان لوگوں کے ساتھ حکومت نے13 معاہدے کیے لیکن انھوں نے ہر معاہدے کی خلاف ورزری کی اوریہ کہا کہ ہم جمہوریت کو نہیں مانتے، دہشت گرداور انتہا پسند جمہوریت کے دشمن ہیں جن کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔   پیپلزپارٹی یوتھ ونگ سندھ کے صدرسینیٹرعاجزدھامرا نے کہا کہ  اگر اب بھی کوئی آمر آیا تو ہم آخری سانس تک جدوجہد کریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔