آئی ایم ایف معاہدہ: صوبوں کو زرعی آمدن پرسیلز ٹیکس لگانا ہوگا

 ہفتہ 6 جولائ 2013
معاہدے کی شرائط کے مطابق صوبائی حکومتیں ستمبر 2013 سے قبل زرعی آمدن  و خدمات پرٹیکس عائد کریں گی ۔ فوٹو: فائل

معاہدے کی شرائط کے مطابق صوبائی حکومتیں ستمبر 2013 سے قبل زرعی آمدن و خدمات پرٹیکس عائد کریں گی ۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: حکومت اورآئی ایم ایف کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت وفاقی حکومت کو 5.3 ارب ڈالرکے توسیعی امدادی پروگرام کی آئی ایم ایف بورڈ میں حتمی منظوری سے قبل مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری لینا ہو گی۔

معاہدے کی شرائط کے مطابق صوبائی حکومتیں ستمبر 2013 سے قبل زرعی آمدن  و خدمات پرٹیکس عائد کریں گی جبکہ وفاقی حکومت ٹیکس میں چھوٹ و استثنیٰ دینے والے تمام ایس آر اوز منسوخ کرے گی، ویلیوایڈڈ ٹیکس کونئے نام سے نافذکریگی،بجلی کے نرخوں میں اضافہ اورنجکاری پروگرام کا آغازکرے گی۔ قابل اعتماد  ذرائع کاکہنا ہے کہ حکومت پاکستان اورآئی ایم ایف کے وفد میں 5.3 ارب ڈالر کے قرضے  کے لیے جو معاہدہ طے پایا ہے اس کے مطابق 4ستمبر 2013 کو مذکورہ معاہدہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں حتمی منظوری کیلیے پیش کیا جائے گا اس سے قبل حکومت پاکستان کو معاہدے کی شرائط  پرپیشگی عملدرآمد کرنا ہوگا۔

آئی ایم ایف معاہدے کی مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کے بعد (دوسرے مرحلے پر) صوبوں کوستمبر 2013 سے قبل زرعی آمدن پرانکم ٹیکس جبکہ خدمات کے شعبے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر نا ہو گا۔ اس کے علاوہ ستمبر 2013 سے قبل ایف بی آر  کے جاری کردہ ایسے تمام  ایس آراوز منسوخ کرے گی جن کے ذریعے بعض افراد یا اشیا کو ٹیکس میں چھوٹ یا استثنیٰ دیا گیا۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت کو ستمبر سے قبل ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی طرز پرایک نیا ٹیکس بھی لاگو کرنا ہو گا۔ واضح رہے کہ اگر معاہدے کے مطابق پیشگی اقدامات نہ کیے گئے تو آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ پاکستان کیلیے 5.3 ارب ڈالر کا توسیعی امدادی پروگرام مسترد کر سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔