مصر ۔۔۔۔۔ تاریخ کے پیچ دار دوراہے پر

محمد ابو بکر جمیل  اتوار 7 جولائ 2013
صرف ایک سال میں کیا سے کیا ہو گیا ؟۔ فوٹو: فائل

صرف ایک سال میں کیا سے کیا ہو گیا ؟۔ فوٹو: فائل

25 جون 2012 کی رات تحریر اسکوائر نعروں سے گونج رہا تھا ’’مرسی! مرسی!۔۔۔۔‘‘  یہ نام اتنے زور سے پکارا جا رہا تھا کہ لگتا تھا مصری ہی نہیں قاہرہ کے در، دیوار، اہرام، گلیارے، منارے، چوبارے ہر چیز بھی اسی نام کا ورد کر رہی ہے۔

آسمان تھا کہ ہزارہا رنگوں کی روشنی سے منور تھا، مصر کے مطلق العنان حکم ران حسنی مبارک کے تیس سالہ جبرِ بے صبر کا سورج دور مغرب کے تاریک گوشوں میں لہو رو رہا تھا۔ مرسی کے نام کی دھن پر مصر کے مرد اور عورتیں عمر، صنف اور مرتبے کی تمئیز کے بغیر دیوانہ وار رقصاں تھے، آزادی کا خمار جیسے ان کو مدہوش کیے دیتا تھا، یگانہ کا آدھا شعر کافی  رہے گا

خودی کا نشہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیا

حالات آگے بڑھتے ہیں، مصر کی باگ ڈور مرسی کے حوالے ہوتی ہے، دنیا کے مختلف حکم رانوں کی جانب سے ٹیلی فوں کالوں کا تانتا بندھ گیا، امریکی صدر بارک اوباما اور انگلستان کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سمیت ہر کوئی مصری عوام کو مبارک باد دینے میں سبقت لے جانے کا آرزو مند تھا۔ انتخابات میں مرسی کی کام یابی کو مشرق وسطی میں ایک نئی صبح کے طلوع ہونے کا استعارہ قرار دیا جا رہا تھا۔ سال ہا سال سے دلوں میں چھپی خواہشیں زبان پہ آ کر مصری عوام  کو اپنے پورا ہونے کا یقین دلا رہی تھیں۔ امید کا دیا اپنی پوری آب و تاب سے جگ مگا رہا تھا اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔

ایک سال گزرنے کے بعد وہی تحریر اسکوئر ہے مگر منظر بہت ہی مختلف ہے۔ وہی مرسی جس کے نام پہ مصری جان نچھاور کرنے پہ تیار تھے آج اس کے دور حکومت کا ایک طویل اور ہنگامہ خیز سال مکمل ہونے پر ملک گیر احتجاج کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مرسی مخالف احتجاجی مظاہروں میں لاکھوں کی تعداد میں مصری عوام کی شرکت کی متوقع ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے مابین معمول کی جھڑپوں میں اضافہ صاف نظر آرہا ہے اور اس سے بھی بڑھ کرمرسی کے بنیاد پرست حامیوں اور مرسی مخالف عوام کے بیچ خونی تصادم کا خدشہ خوف ناک حد تک حقیقت کا روپ دھارتا  دکھائی دیتا ہے۔ ڈر یہ ہے کہ عوام کے دو دھڑوں کے درمیان یہ لڑائی کہیں ملک گیر سطح پہ نہ شروع ہو جائے جس کا انجام یقیناً مصر کے لیے کسی بھی صورت اچھا ثابت نہیں ہو گا۔

حکیم الزوہری، جو مرسی مخالف مظاہروں کی روح رواں سمجھے جاتے ہیں، ہر صورت مرسی کو ایوان اقتدار سے باہر دیکھنا چاہتے ہیں خواہ اس کے نتیجے میں فوج دوبارہ مصر پر قابض ہی کیوں نہ ہو جائے۔

گزشتہ ایک سال کے دوران ۳۸ سالہ حکیم الزوہری، مرسی کے سب سے بڑے مخالف کی صورت میں سامنے آئے ہیں اور مرسی مخالف عوامی تحریکوں کے منتظم کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ سال کے اولیں دنوں میںالزوہری نے مرسی کے خلاف ایک دست خطی مہم کا آغاز کیا، جس میں مرسی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر ازسرِنو انتخابات کا اعلان کریں۔ دیکھتے ہی دیکھتے الزوہری کے اس مطالبے کو مصری عوام کی حمایت حاصل ہونا شروع ہو گئی اور چند ہی دنوں میں ان کے حامیوں کی تعداد ۱۵ ملین سے تجاوز کر گئی۔ اتنی بڑی تعداد میں مصری عوام نے انتخابات کے وقت سے قبل انعقاد کی پیٹیشن پر دست خط کر کے دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ مصری عوام بہت بڑی تعداد میں مرسی سے بے زار ہو چکے ہیں اوران کو مصر کے صدر کے طور پر قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ اب مرسی کے دور حکومت کا ایک سال پورا ہونے پر حکیم الزوہری مصری عوام اور مرسی مخالف سیاسی رہ نمائوںکی مدد سے مرسی کے خلاف ایک ملک گیر مہم چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تا کہ مرسی کو کسی بھی صورت استعفی دینے اور انتخابات کا اعلان کرنے پر مجبورکیا جا سکے۔

مرسی کے ماضی کے رویے کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کاامکان نظر نہیں آتا کہ وہ اتنی آسانی سے اپنے مخالفین کے مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔ اس صورت میں مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان لڑائی مار کٹائی اور خونی جھڑپیں ہونے کا امکان اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ جب اس متوقع صورت حال کا ذکر الزوہری سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس کو بھی اپنی کام یابی تصور کریں گے، اگر عوام کے مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے مصری فوج حکومت پر چڑھ دوڑے اور مرسی کے خلاف بغاوت کر کے ان کو ایوان اقتدار سے باہرنکال پھینکے۔ الزوہری سمجھتے ہیں کہ مصری فوج مصر کی ہے نہ کہ مرسی کی اور اسی بات کی بنیاد پر وہ امید رکھتے ہیں کہ مصری فوج عوامی جذبات کی قدر کرے گی لہٰذا ان مظاہروں میں ان کی حمایت کرتے ہوئے مرسی کے خلاف بغاوت کرنے پہ رضا مند ہو جائے گی۔

دوسری طرف وہ مصری جو مرسی کے حامی ہیں وہ اپنے رہ نما کی حفاظت اور ان سے اظہار یک جہتی کرنے کے لیے اپنی صفیں درست کرنے میں مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسلام پسند مرسی کے حامیوں نے قاہرہ میںایک بہت بڑی تعداد میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تاکہ مرسی کے دشمنوں کو اس بات کی خبر ہو کہ مرسی تنہا نہیں اور عوام کی ایک بڑی تعداد اس کی صدارت پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔ اس موقع پر مرسی کو اپنا راہ نما ماننے والے چند مصری نوجوانوں نے اپنی دفاعی طاقت کو مرسی کے مخالفین پر ظاہر کرنے کے لیے مارشل آرٹس کا مظاہرہ بھی کیا۔ اس موقع پر مرسی نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے اور اسلام کے دشمنوں کی باغیانہ چالوں سے ہوشیار رہیں اور ان کی کسی بھی سازش کا حصہ نہ بنیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مصر پردوبارہ مصری فوج قابض ہو جائے، ان پر واضح کر دیں کہ ایسا نہیں ہو ہی نہیں سکتا، اتنی طویل برسوں کی جد و جہد کے بعد مصری عوام اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے کہ وہ اپنی فوج کو ایک بار پھر مصر پر حکومت کرنے کا غیر معمولی، غیر اخلاقی اور غیر آئینی اختیار سونپ دیں اور حسنی مبارک کے سیاہ دور کا ایک بار پھر سے آغاز ہو جائے۔

اپنے مخالفین کا ذکر کرتے ہوئے مرسی نے خصوصی طور پر محمد الامین کا نام لیا، جو کہ مصر کے ایک ٹی وی چینل کے مالک ہیں اور اپنے چینل کے ذریعے مرسی مخالف مہم چلاتے ہیں۔ محمد الامین پر حال ہی میں ٹیکس چوری کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، ان کے مصر کی سرزمین چھوڑنے پرپابندی کا حکم جاری بھی کیا گیا ہے۔ اسی طرح ایک مقبول مصری مزاحیہ پروگرام کے ہوسٹ باسم یوسف پر بھی مقدمہ قائم کیا گیاہے، جو اپنے پروگرام میں مرسی کو مسلسل تضحیک کا نشانہ بناتے تھے۔ مرسی کے ان اقدامات پر ان کے مخالفین شدید تنقید کر رہے ہیں اور انہیں ڈکٹیٹر جیسے گندے اور رذیل خطاب سے نوازا۔

مرسی کی حکومت کے ایک سال پورا ہونے پر ان کے سیاسی مخالفین نے جن مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔  اس کو لے کر مرسی اور ان کے حامیوں میں خاصی  بے چینی پائی جاتی ہے اور اگر مرسی مخالف طاقتیں اپنے ارادوں میں کام یاب ہو جاتی ہیں اور مصر کے طول و عرض میں ہنگامے شروع ہو جاتے ہیں تو اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ مصری فوج اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے میدان میں اتر آئے اور پھر وہی رو نُما ہو جس کی مرسی کے مخالفین توقع کر رہے ہیں۔ مرسی کی پوری کوشش ہے کہ امن و امان قائم رہے اور مصری فوج کو اس صورت حال میں ایک فریق بننے کا موقع نہ ملے۔ اگر حالات مرسی کے ہاتھوں سے یک سر نکل ہی جاتے ہیں تو مرسی کا مستقبل دائو پر لگ سکتا ہے، جس کے ساتھ ہی مصر ایک بار پھر ایک غیر یقینی صورت حال کاشکار ہو جائے گا۔

مصری افواج دوبارہ وہ غلطی نہیں دہرانا چاہتیں، جو ان سے حسنی مبارک کی حکومت  کے ختم ہونے پر سرزد ہوئی تھی۔ حسنی مبارک کے بعد جیسے ہی مصری فوج نے مصر کی باگ ڈور سنبھالی تو مصری عوام نے شدید مخالفت کی اور فوج کے خلاف فوری طور پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے، اسی لیے مصری فوج موجودہ صورت حال کا انتہائی احتیاط سے جائزہ لے رہی ہے اور پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہی ہے کہ کہیں حالات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید خراب نہ ہونے پائیں۔

مصر کے سیکیولر اور لبرل حلقوں کی جانب سے گزشتہ سال کے انتخابات میں مرسی کوجو حمایت حاصل ہوئی، اس کی بنیادی وجہ ان حلقوں میں پائی جانے والی فوجی حکومت کے خلاف نفرت بھی تھی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد جیسے ہی مرسی نے اپنا اسلام پسند ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے پالیسیاں وضع کر کے جاری کیں تو وہی  لبرل اور سیکیولر حلقے ان پر شدید تنقید کرنے لگے ، بعد میں اپنی حکومت کو مضبوط بنانے کے ارادے سے جب مرسی نے اپنے آپ کو غیر معمولی اختیارات دیے تو ان کے خلاف ہنگامے شروع ہو گئے اور ان کو مصر کے نئے آمر جیسے خطابات سے نوازا جانت لگا۔ صدارتی محل کے سامنے جب مظاہرین خیمہ لگا کر بیٹھ گئے تو مرسی کے حامیوں کے ساتھ ان کی شدید جھڑپیں ہونا شروع ہو گئیں جو آج خاصی طاقت پکڑ چکی ہیں اور یوں مرسی کے اقتدار کے لیے خطرے کی گھنٹی مسلسل بجنے لگ گئی ہے۔

ابھی تک مصری فوج نے ان مظاہروں میںایک غیر جانب دارانہ کردار ادا کیا ہے مگر اب مرسی کے مخالفین اس بات پر بہ ضد نظر آتے ہیں کہ فوج مرسی کے خلاف ان کے ساتھ کھڑی ہو۔ حالات کو دیکھتے ہوئے اور آنے والے خطرے کو بھانپتے ہوئے مصری فوج نے  ملک کے مختلف شہروں میں حساس مقامات پر فوجی اہل کاروں کو متعین کر دیا ہے تاکہ اگر کوئی ناخوش گوار واقعہ ظہور پذیر ہو تو سرعت اور چابک دستی کے ساتھ فوری طور پر صورت حال پر قابو پایا جا سکے۔

’’وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ مصر کو لاحق خطرات کا مصری افواج کو اندازہ نہیں ہے، وہ غلطی پر ہیں‘‘۔  جنرل عبد الفاتح السِسی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا  ’’ہم مصری عوام کے خلاف کی جانے والی کسی بھی سازش کو کام یاب نہیں ہونے دیں گے اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مصری افواج کی موجودگی میں مصری عوام پر وہ ظلم ڈھانے میں کام یاب ہو جائے گا توہم ان تمام قوتوں کویہ پیغام دینا چاہیں گے کہ ایسی صورت میں مصری افواج خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کریں گی اور مصرکی حفاظت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔‘‘

حکیم الزوہری کو امید ہے کہ مصری فوج مرسی کو اقتدار سے ہٹا دیں گی اور ان کی خواہش کے مطابق عنان حکومت مصری عدلیہ کے سپرد کر کے نئے انتخابات کا موجب بنیں گی،۔ اس کے باوجود بہت سے مرسی خالفین کو اس بات کا بھی ڈر ہے کہ کہیں فوج ایک بار پھر عوامی ردعمل کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ماضی کی طرح ان پر مسلط نہ ہو جائے۔ حالات پر نظر رکھنے والے البتہ اس امکان کو یک قلم مسترد کرتے نظر آتے ہیں کہ مرسی اپنے سیاسی مخالفین کے دبائو میں آ کر رضاکارانہ طور پر حکومت سے دست بردار ہو جائیں گے۔

مصر کے عوام دو دھڑوں میں بٹ چکی ہیں، ایک طرف اسلام پسند قوتیں مرسی کی حمایت کر رہی ہیں تو دوسری طرف مصر کی لبرل طاقتیں الزوہری کو تقویت پہنچا رہی ہیں اور مصری فوج درمیان میں کھڑی اس بات کا فیصلہ کرنے میں تذبذب کی شکار دکھائی دیتی ہے کہ کس کا ساتھ دے اور یقیناً یہ ایک ایسا پیچ دار دوراہا ہے کہ جس کے دونوں جانب وہم و خوف کے عفریت کھڑے ہیں۔ اگلے چند ہفتے مصر کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب حالات مصر کو کس طرف لے جاتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔