جناب چیرمین! جلدی کریں، کہیں بہت دیر نہ ہو جائے

میاں اصغر سلیمی  ہفتہ 6 جولائ 2013
قومی ٹیم کے وہ روشن ستارے جن کی روشنی دیکھ کر نوجوان کرکٹرز اپنی منزل کا تعین کرتے رہے ہیں. فوٹو: فائل

قومی ٹیم کے وہ روشن ستارے جن کی روشنی دیکھ کر نوجوان کرکٹرز اپنی منزل کا تعین کرتے رہے ہیں. فوٹو: فائل

’’اگر کوئی کرکٹر پاکستانی ٹیم کی لمبے عرصے تک نمائندگی کرنے کا خواہشمند ہے تواسے ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کرکٹ ٹیم 11 نہیں بلکہ پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے کیونکہ یہ وہ کھلاڑی ہوتے ہیں جنہوں نے ہر صورت میں قومی سکواڈ کا حصہ بننا ہی ہوتا ہے۔

اسی نظریئے، اسی تھیوری، اسی فارمولے اور اسی حکمت عملی پر عمل کر کے میں نہ صرف پاکستان کے لئے 18برس تک کھیلا بلکہ میری غیر معمولی کارکردگی کی مثالیں آج بھی پوری دنیا دیتی ہے۔ برطانوی ’’ٹیلیگراف‘‘ نے گزشتہ ایک ہزار سال کی عظیم شخصیات کا انتخاب کیا جس میں مجھے چوتھے نمبر پر رکھا گیا۔‘‘ یہ باتیں سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر نے راقم کو ایک ملاقات کے دوران بتائیں، ماضی کے جادوگر اسپنر جب اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے تو میرا ذہن بے اختیارشعیب ملک، یونس خان عمران فرحت اور اسی طرح کے اور کرکٹرز کی جانب گھوم گیا۔

بلاشبہ شعیب ملک دنیائے کرکٹ کا ایک ایسا ہیرا ہے کہ جس نے یہ مقولہ سچ کر دکھایا ہے کہ وہ آیا ، دیکھا اور فتح کر لیا۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے چیئرمین پی سی بی کا منصب سنبھالنے کے بعد قیادت کا کانٹوں بھرا تاج شعیب ملک کے کندھوں پر سجایا، انہیں کی کپتانی میں گرین شرٹس متعدد عالمی کامیابیاں سمیٹنے کے بعد جنوبی افریقہ میں شیڈول پہلے ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ میں فائنل تک رسائی بھی حاصل کی۔ بعد ازاں شعیب ملک کی قسمت کا ستارہ ایسا چمکا کہ آل راؤنڈر کا آئی سی سی کی ٹاپ رینکنگ میں رہنا معمول بن گیا۔ غیر معمولی کارکردگی کے صلہ میں شعیب ملک کروڑوں دلوں پر راج کرنے لگا، انہوں نے بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کو شریک حیات منتخب کیا تو ان کی شادی کی کوریج نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔

14 برس کے بعد اب ان کا کرکٹ کیریئر ڈگمگاتا نظر آ رہا ہے، آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں ناقص کارکردگی کے بعد اقبال قاسم کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے ان پر عدم اعتماد کرتے ہوئے دورئہ ویسٹ انڈیز سے ڈراپ کر دیا۔ ایسا پہلی بار نہیں بلکہ ماضی قریب میں بھی متعدد بارایسا ہوتا آیا ہے، شعیب ملک کو میرا مشورہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں قومی ٹیم کی دوبارہ نمائندگی کی بجائے کسی اور آپشن پر غور کرنا چاہیے۔ یہ تلخ حقیقت اور کڑوا سچ ہے کہ عروج کو ایک نہ ایک دن زوال آنا ہوتا ہے، جس طرح بچپن کے بعد جوانی اور جوانی کے بعد بڑھاپا آتا ہے اسی طرح کوئی بھی کھلاڑی اگر چاہے یا نہ چاہے ایک نہ ایک دن اسے کھیلوں کا بھرا میلہ چھوڑنا ہی پڑتا ہے اگر حقائق کا سامنا نہ کیا جائے تو پھر سیاسی وابستگیوں کا سہارا ہی ڈھونڈنا پڑتا ہے۔

اسی طرح یونس خان کا کرکٹ کیریئر بھی سمندری طوفان میں پھنسی کشتی کی طرح ڈگمگا اور ہچکولے کھا رہا ہے، ابھی چند برس پہلے ہی کی بات ہے جب ان کا ستارہ عروج پر تھا۔اس وقت کے چیئرمین شہریار خان انہیں اپنے آفس سے باہر انتظار کرنے کی غلطی کر بیٹھے جس کے بعد منجھے ہوئے اس سفارتکارکی سفارتکاری کے تمام حربے ناکام ہو گئے اور انہیں بورڈ کے سربراہ کے عہدہ کو خیر باد کہنا پڑا۔ قومی ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف بھی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید ان کی قسمت دوبارہ جاگ جائے اور وہ قومی ٹیم میں دوبارہ جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں، اس لئے وہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا کھلم کھلا اعلان کرنے کی بجائے ابھی نہیں، فی الحال نہیں کے صیغے استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح اوپنر عمران فرحت جب بھی قومی ٹیم سے دور ہوتے ہیں تو بورڈ میں پہلے سے موجود ان کا ایک قریبی رشتہ دار ان کی مدد کو آ جاتا ہے، وہ ٹیم میں آتا ہے اور بعد میں جس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑتا ہے۔کامران اکمل کے پاس بھی جانے کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ ناقص کارکردگی کے باعث ڈراپ کئے جانے کے بعد مزید ناقص پرفارمنس کے لئے ٹیم میں واپس آجاتے ہیں۔

قومی ٹیم کے وہ روشن ستارے جن کی روشنی دیکھ کر نوجوان کرکٹرز اپنی منزل کا تعین کرتے رہے ہیں، ان کو جان لینا چاہیے کہ ان کی روشنی اب مانند پڑچکی ہے اور انہیں دوسروں کے لئے اپنی جگہ خود ہی چھوڑ دینی چاہیے۔ ان کھلاڑیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی جگہ اب اگر قومی ٹیم کے ٹاپ 5 کھلاڑیوں میں نہیں بن رہی تو انہیں باعزت طور پر خود ہی کھیل کو خیر باد کہہ دینا چاہیے۔ دنیائے کرکٹ میں بے شمار کرکٹرز کی مثالیں ایسی ہیں جنہوں نے اس وقت عالمی کرکٹ کو چھوڑا جب وہ اپنے کیرئر کے عروج پر تھے، ایسے کھلاڑی اب بھی شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔

کپتان مصباح الحق آج قومی سکواڈ کو ساتھ لئے کراچی سے ویسٹ انڈیز جانے کے لئے تیار ہیں۔ کریبین جزائر کے سفر پر روانہ ہونے سے قبل میں کپتان مصباح الحق کو عمران خان کا ایک سبق یاد دلانا چاہتا ہوں،1992ء کے ورلڈ کپ کے ہیرو کے مطابق ’’کھیلوں کی دنیا بڑی بے رحم ہوتی ہے اور جب میں کرکٹ سے وابستہ تھا تو میں رحم کرنے والوں میں شامل نہ تھا، میرا فلسفہ ہے کہ اگر آپ دشمن ٹیم کاکام تمام نہ کریں گے تو وہ آپ کا بھرکس نکال دیں گے، اسی لئے کھیل کے میدان میں میں نے کبھی کسی مخالف پر ترس کھایا نہ ہی اپنے لئے رحم کی آرزو کی، اگر بے رحم قاتل جبلت موجود نہ ہو تو آدمی ٹاپ پلیئر کبھی نہیں بن سکتا۔‘‘ مصباح الحق صاحب آپ کی خوش اخلاقی، میچ پلاننگ اور کرکٹ کی خداداد صلاحیتوں پر کسی کو کوئی شک نہیں لیکن حریف ٹیم کے خلاف میدان میں اترتے وقت ساتھی کرکٹرز میں بھی حریف ٹیم سے لڑنے کا جذبہ اجاگر کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

جاتے جاتے قائم مقام چیئرمین کی بھی بات کر لیتے ہیں، ہائیکورٹ نے نجم سیٹھی کو 90 دن کی مہلت دے کر ان کو عبوری ذمہ داریوں سے بھی فارغ ہونے کا خدشہ ٹال دیا ہے، بورڈ کے عارضی سربراہ کے لئے اب یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے ماضی کے کارناموں کی طرح پی سی بی میں بھی ایسے انقلابی اقدامات کریں کہ ان کا نام پاکستانی کرکٹ میں سنہری حروف سے لکھا جائے۔ نجم سیٹھی کو یہ جان لینا چاہیے کہ پی سی بی میںگزشتہ ایک عشرہ سے ایسے افراد اعلی عہدوں پر بیٹھے ہیں کہ جن کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر بورڈکے5 چیئرمین گھر کی راہ لے چکے ہیں لیکن کوئی ان افسروں کا بال بھی بیکا نہ کر سکا، پی سی بی کے ان مشیروں کی مفاد پرست پالیسیوں کی وجہ سے بورڈ کا بھرا خزانہ خالی ہوتا جا رہا ہے، ڈومیسٹک سطح پر کھیلنے والے کرکٹرزکے ماہانہ مشاہرے ختم کئے جا چکے ہیں لیکن ان آفیشلز اور غیر ملکی کوچز کو ڈالروں میں تنخواہیں دینے کے بہت کچھ ہے۔ ڈیو وائمور، جولین فاؤنٹین کے بعد ظہیر عباس، جاوید میانداد، انضمام الحق، باسط علی کے ہوتے ہوئے ٹرینٹ وڈہل کوآئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بیٹنگ کوچ کی ذمہ داری سونپنا سمجھ سے بالاہے۔اس تجربے کا بھیانک انجام بھی پوری قوم نے دیکھ لیا، جناب چیئرمین پی سی بی کی کوچ کمیٹی کے سربراہ قومی ٹیم کے مرض کا علاج کوچنگ کورس میں ڈھونڈتے ہیں لیکن کیا بھول گئے ہیں کہ عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر، سرفراز نواز، عبدالقادر، جاوید میانداد، ظہیر عباس، انضمام الحق، اقبال قاسم کو بڑا کھلاڑی بنانے والے کیا گورے کوچ تھے۔ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بننے والوں کا زیادہ تر تعلق امراء کی بجائے غریب اور متوسط طبقے سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کی فٹنس کا راز غیر ملکی ٹرینر میں نہیں بلکہ ہمارے مالشیوں میں ہے، لاکھوں، کروڑوں روپے کی انٹرنیشنل مشینوں میں نہیں بلکہ باہر کی کھلی فضا میں،بیٹھکیں لگانے اور دوڑ لگانے میں ہے۔ بھاری معاوضوں پر نیوٹریشن کی خدمات حاصل کر کے طرح طرح کے کھانوں پر پابندی لگانے کی بجائے کھلاڑیوں کو اپنے من پسند کے کھانے کھانوں کی کھلی چھوٹ دینے میں ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کی عالمی مقابلوں میں فتح کا راز بھاری معاوضوں پر رکھے گئے غیر ملکی کوچز میں نہیں بلکہ حب الوطنی کے جذبہ کو اجاگر کرنے میں ہے۔

جناب چیئرمین آپ کے لئے ایک مفت مشورہ ہے کہ آپ بورڈ میں موجود مشیروں کی باتوں کو ضرور سنیں لیکن کریں وہی جو وقت کا تقاضا اور آپ کا تجربہ کہتا ہے۔ ان دنوں خبریں گردش کر رہی ہیں کہ آپ ماضی میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہوئے 70 کے قریب ملازمین کو بورڈ سے فارغ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جناب چیئرمین جلد کیجئے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے بورڈ کو دیمک کی طرح چاٹ کر کھوکھلا کر دیا ہے۔دیر مت کریں کہ آپ نے اس کام کو پورا کرنے کے بعد ابھی بورڈ میں اور بہت سے ضروری اور انقلابی اقدامات اٹھانے ہیں، جلدی کیجئے کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر بہت دیر ہو جائے اور آپ بعد میں افسوس سے ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

[email protected]

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔