سندھ میں بلدیاتی تماشا

محمد سعید آرائیں  ہفتہ 6 جولائ 2013

سندھ میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے سندھ میں ایک بار پھر اسی جنرل ضیاء الحق کے دور کا 1979کا بلدیاتی نظام بحال کردیاہے۔ جس کو پی پی رہنما اپنے قائد ذوالفقار علی بھٹو کا قاتل قرار دیتے نہیں تھکتے اور آج بھی 36سال قبل لگائے گئے مارشل لاء کے خلاف یوم سیاہ 5جولائی کو ضرور مناتے ہیں۔ پی پی کو جنرل ضیاء الحق کا بلدیاتی نظام اس قدر پسند تھا کہ پی پی نے 1979اور 1987میں دوبار آمر کے بلدیاتی نظام کے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور صرف 1983میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن کا ایم آرڈی کے دباؤ پر بائیکاٹ کیا تھا۔ 15سال سے زائد برسراقتدار رہنے والی پیپلزپارٹی کی چاروں حکومتوں میں یہ اہلیت نہیں تھی کہ وہ ملک کو یا سندھ ہی کو کوئی اچھا اور عوام کے مفاد والا بلدیاتی نظام ہی دے سکتی۔

پی پی کو ہمیشہ جنرلوں کے دیے گئے بلدیاتی نظام پسند رہے ہیں۔ پی پی نے جنرل پرویز مشرف کے ضلعی نظام میں دوبار بلدیاتی الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ جس میں فریال تالپور نواب شاہ کی اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی نفیسہ شاہ خیرپور ضلع کی ضلع ناظمہ منتخب ہوئی تھیں۔ مگر اب قائم علی شاہ سمیت پیپلزپارٹی کو جنرل پرویز کا با اختیار بلدیاتی نظام پسند نہیں آرہا اور اب انھیں جنرل ضیاء کا بے اختیار 1979کا بلدیاتی نظام زیادہ پسند ہے۔ پی پی کی سندھ حکومت نے 2008 میں حکومت میں آتے ہی 1979کا نظام نافذ کرنے کی کوشش کی تھی مگر متحدہ رکاوٹ بنی رہی۔ مگر پی پی نے کمشنری نظام ضرور بحال کرلیاتھا۔ کیونکہ عوام کے حقوق کی دعویدار پی پی عوام کے منتخب نمائندوں کو با اختیار نہیں دیکھنا چاہتی بلکہ اسے بیوروکریسی کی غلامی زیادہ پسند ہے اور چاہتی ہے کہ نچلی سطح پر عوام با اختیار نہ ہوں اور ان کے منتخب نمائندوں پر بیورو کریٹ حکومت کرتے رہیں۔

سندھ حکومت نے یکم جولائی سے جس 1979کے بلدیاتی نظام کی بحالی کا اعلان کیا ہے وہ حقیقت میں بحالی نہیں بلکہ 03جون کو بلدیاتی نظام کا ٹرانزٹ پیریڈ ختم ہوگیاہے۔ 1979کا بلدیاتی نظام تو منسوخ ہوچکا ہے جو بحال نہیں ہے اور سپریم کورٹ بھی 1979کے بلدیاتی نظام کی بحالی کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ مگر عدلیہ سے محاذ آرائی کی شوقین پیپلزپارٹی 1979کے بلدیاتی نظام کی بحالی پر تلی ہوئی ہے اور سندھ میں اب تک غیر قانونی بلدیاتی نظام ہی چلایا جا رہاہے۔

ملک کی تاریخ میں یہ ریکارڈ بھی پی پی حکومت کے حصے میں آیا جب گزشتہ سال 7ستمبر سے27 ستمبر تک سندھ میں کوئی بھی بلدیاتی نظام ہی موجود نہیں تھا۔

سندھ میں بلدیاتی نظام کو تماشا بنانا پیپلزپارٹی نے دسمبر2009 کے آخر میں بلدیاتی نظام 2001کو حاصل آئینی تحفظ ختم ہونے کے بعد شروع کیا تھا۔ متحدہ اس وقت حکومت میں شامل تھی اور بلدیاتی نظام پر متفق ہونے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔ جس کے تحت دونوں نے ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں سندھ اسمبلی سے نیا بلدیاتی نظام منظور کراکر سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے تھے مگر اس معاہدہ پر عمل نہیں ہوا۔ پہلے اس میں تین تین ماہ کی توسیع کی جاتی رہی اور پیپلزپارٹی نے مختلف بہانوں سے اس سلسلے میں قائم دونوں پارٹیوں کی کی کور کمیٹی کے اجلاس نہیں ہونے دیے۔ سندھ میں سیلاب اور بارشوں کو جواز بناکر بلدیاتی انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیے گئے۔ بلدیاتی نظام کے لیے کورکمیٹی میں پی پی اور متحدہ شامل تھے جو اے این پی سے برداشت نہیں ہورہا اور فنکشنل لیگ بھی معترض تھی۔ جو 1979کے بلدیاتی نظام اور کمشنری نظام کے حامی تھے جس پر پی پی کو موقع مل گیا کیونکہ یہ دونوں بھی سندھ حکومت میں شامل تھے اور این پی پی بھی فنکشنل لیگ کے موقف کی حامی اور سندھ میں حکومتی حلیف تھی اور ان تینوں پارٹیوں کو پی پی اور متحدہ کے اتفاق رائے سے بنایا جانے والا بلدیاتی نظام منظور نہیں تھا۔

جس سے پیپلزپارٹی کو موقع مل گیا اور اس نے کہنا شروع کردیا کہ مجوزہ بلدیاتی نظام کی اسمبلی سے منظوری سے قبل فنکشنل لیگ، این پی پی اور اے این پی کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا اور سندھ حکومت کی منصوبہ بندی کے تحت ان تینوں حکومتی حلیفوں نے متحدہ کی مرضی کے ضلعی حکومتوں کے متبادل بااختیار بلدیاتی نظام پر راضی ہی نہیں ہونا تھا۔ اس طرح پی پی کو تاخیر پہ تاخیر کا موقع ملتارہا اور پی پی اور متحدہ کی کور کمیٹی کے ڈرامے تقریباً تین سال چلتے رہے۔ مگر سندھ کے لیے کور کمیٹی بلدیاتی نظام نہ بناسکی۔

اس وقت سندھ کے وزیر بلدیات آغا سراج درانی بلدیاتی انتخابات کرانے کے دعوے اور اعلانات کرتے تھے اور خود صدر آصف علی زرداری نے بھی آئندہ چار ماہ میں سندھ میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا اعلان کیا جس پر عمل نہیں ہوا۔ سندھ ہائی کورٹ نے بھی سندھ حکومت کو بلدیاتی انتخابات دو ماہ میں کرانے کی ہدایت کی مگر دو ماہ بعد سندھ حکومت نے عدالت عالیہ سے بلدیاتی نظام پر اتفاق رائے نہ ہونے کو جواز بناکر مزید مہلت مانگ لی۔ سپریم کورٹ نے بھی واضح کیا کہ ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانا غیر آئینی ہے مگر کسی بھی صوبائی حکومت نے بلدیاتی الیکشن نہیں کرائے۔ تین سال کور کمیٹی کے درجنوں اجلاسوں کے بعد حالیہ عام انتخابات سے 6ماہ قبل پی پی اور متحدہ نے سندھ کے لیے ایک بلدیاتی نظام سندھ اسمبلی سے منظور کرالیا اور حسب توقع فنکشنل لیگ این پی پی اور اے این پی نے مخالفت کی اور نئے بلدیاتی نظام کو سندھ کی تقسیم اور دوہرا بلدیاتی نظام قرار دے کر حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی۔ حالانکہ وہ نظام بھی با اختیار نہیں تھا۔

قوم پرستوں اور سابق حکومتی حلیفوں کو انتخابی شوشا ہاتھ آگیا اور سندھ میں احتجاج ہونے لگا۔ نگراں حکومت سے ایک ماہ قبل متحدہ سندھ حکومت سے الگ ہوگئی اور موقع دیکھتے ہی پی پی نے اچانک سندھ اسمبلی سے کور کمیٹی کے منظور کردہ بلدیاتی نظام کو مسترد کراکر 1979کا نظام بحال کرالیا اور دوبارہ اقتدار میں آکر پی پی نے متحدہ کو دباؤ میں لانے اور حکومت میں شامل کرنے کے لیے متنازعہ نظام اپنالیا ہے اور کہاجارہاہے کہ متحدہ اگر حکومت میں آجائے تو بلدیاتی نظام پر اسمبلی میں ترامیم کرائی جاسکتی ہیں۔

متحدہ نے 1979 کا نظام مسترد کردیاہے اور اب تک حکومت میں بھی شامل نہیں ہوئی اس لیے متحدہ کو پھر دانہ ڈالا جارہاہے۔

بلدیاتی انتخابات نہ کرانا پی پی کا ریکارڈ رہا ہے اور وہ تین سال تک متحدہ کے ساتھ کھیلتی رہی ہے اور اس نے پھر ثابت کردیاہے کہ وہ سندھ کو ایک غیر متنازعہ اور با اختیار بلدیاتی نظام دینا ہی نہیں چاہتی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔