یو ایس ایف کے50ارب سرکلر ڈیٹ پر خرچ نہیں کرینگے، وزارت آئی ٹی ٹیلی کام سیکٹر کو یقین دہانی

کاشف حسین / بزنس رپورٹر  اتوار 7 جولائ 2013
 فنڈ میں جمع رقم آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی خدمات کا دائرہ کار دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک پھیلانے پر ہی خرچ کی جائیگی، وزارت. فوٹو: فائل

فنڈ میں جمع رقم آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی خدمات کا دائرہ کار دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک پھیلانے پر ہی خرچ کی جائیگی، وزارت. فوٹو: فائل

کراچی:  وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ٹیلی کام سیکٹر کو تسلی دی ہے کہ 50ارب روپے کی یونیورسل سروس فنڈ کی رقم سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی پر خرچ نہیں کی جائیگی۔

جس کے بعد انڈسٹری نے یونیورسل سروس فنڈ کی وزارت خزانہ کو منتقلی کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔ ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمٰن نے یونیورسل سروس فنڈ کی وزارت خزانہ کو منتقلی اور یہ رقم سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جانے کی اطلاعات پر ٹیلی کام انڈسٹری میں پائی جانے والی بے چینی دور کرنے کے لیے یقین دہانی کرائی ہے کہ یونیورسل سروس فنڈ میں جمع ہونے والی رقم فنڈ کے قیام کے اولین مقصد کو پورا کرنے کے لیے آئی ٹی اور ٹیلی کمیونی کیشن کی خدمات کا دائرہ کار ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک پھیلانے پر ہی خرچ کی جائیگی۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے یونیورسل سروس فنڈ کی رقم جو اس سے قبل مختلف اکاؤنٹس میں جمع ہوتی تھی یکجا کرکے اسٹیٹ بینک کے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد یونیورسل سروس فنڈ کی مینجمنٹ اور پراجیکٹس کے لیے فنڈز کے اجراکے عمل کو آسان بنانا ہے۔ یونیورسل سروس فنڈ 2006میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت قائم کیا گیا جو وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماتحت چل رہا ہے، یہ فنڈ یونیورسل سروس فنڈ بورڈ کی نگرانی میں چلایا جاتا ہے۔ بورڈ میں سرکاری نمائندوں کے علاوہ انڈسٹری اور صارفین کے نمائندے شامل ہیں۔ ٹیلی کام سیکٹر کی جانب سے ترقیاتی پراجیکٹس بورڈ کو پیش کیے جاتے ہیں۔ یو ایس ایف بورڈ سہ ماہی بنیادوں پر ان پراجیکٹس کے لیے بجٹ ضروریات وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سامنے پیش کرتا ہے۔

وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے فنڈ کے ریلیز کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کررکھی ہے جس میں سیکریٹری آئی ٹی، ایڈیشنل سیکریٹری فنانس، ایڈیشنل سیکریٹری کیبنٹ اور وزارت آئی ٹی کے ممبر ٹیلی کام شامل ہیں، اس کمیٹی کی منظوری کے بعد ہی رقم یونیورسل سروس فنڈمیں منتقل کی جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے یونیورسل سروس فنڈ میں سے 50ارب روپے کی رقم وزارت خزانہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے جانے کے بعد ٹیلی کام سیکٹر میں شدید تشویش پائی جاتی تھی اور انڈسٹری نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے پر غور شروع کردیا تھا تاہم وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی یقین دہانی کے بعد ٹیلی کام انڈسٹری کی تشویش دور ہوگئی ہے۔ ٹیلی کام انڈسٹری نے امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کام کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی پوری کی جائے گی اور ٹیلی کام انڈسٹری کو محصولات اکھٹا کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔