انٹارکٹیکا پر قبضے کی جنگ

فرحین شیخ  اتوار 23 دسمبر 2018
غیرآباد براعظم کے وسائل ہتھیانے کے لیے امریکا، چین اور روس برسرپیکار۔ فوٹو: فائل

غیرآباد براعظم کے وسائل ہتھیانے کے لیے امریکا، چین اور روس برسرپیکار۔ فوٹو: فائل

براعظم انٹارکٹیکا کی تو گویا دنیا ہی اور ہے۔ اِدھر پوری دنیا اپنے پیدا کردہ مسائل سے سر پھوڑ رہی ہے، اُدھر انٹارکٹیکا کے دہوہیکل برفانی اور آدم بے زار تودے بڑے غرور سے ایستادہ ہیں۔

برف کے یہ دیوہیکل پہاڑ اور آنکھیں خیرہ کردینے والا قدرتی حسن ہی صرف انٹارکٹیکا کو دیگر براعظموں میں ممتاز نہیں کرتا بلکہ یہاں پائی جانے والی نایاب جانوروں کی نسلیں اور اور ان گنت قدرتی وسائل کے بڑے بڑے ذخائر بھی دنیا کی توجہ یہاں سے ہٹنے نہیں دیتے، لیکن کیا کیجیے کہ چھے براعظموں کے رہنے والے اپنے گمبھیر مسائل کے باوجود اس پرسکون جگہ کا ماحول تباہ کرنے اور ان برفانی تودوں کا غرور خاک میں ملانے کے لیے انگڑائی لے چکے ہیں۔

انٹارکٹیکا دنیا کا واحد براعظم ہے جہاں حکومت نامی کسی شے کا وجود نہیں۔ ’’سیکریٹریٹ آف انٹارکٹیکا ٹریٹی‘‘ کے نام سے ایک دفتر البتہ یہاں موجود ہے۔ یہ مختلف ممالک کا ایک مشترکہ گروپ ہے، جس کا کام انٹارکٹیکا میں سائنسی تحقیقات کے نام پر براجمان ممالک کے معاملات کا جائزہ لینا ہے۔ انٹارکٹیکا، براعظم آسٹریلیا سے دوگنے رقبے پر محیط ہے۔ سونا، ہیرے، کوئلے اور کاپر سے لے کر تیل اور گیس کی قدرتی سوغاتیں یہاں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ دنیا کے 53 ممالک یہاں سالوں سے امن اور سائنسی تحقیقات کے میدان میں مشترکہ کام کر رہے ہیں۔

مختلف ملکوں کا یہ اتحاد بظاہر تو ایک آئیڈیل صورت حال ہے لیکن اندرونی کہانی بڑی کرب ناک ہے۔ ایک آزاد اور خوش حال براعظم پر قبضے کی یہ کہانی جس پر آج لوگ کان دھرنے کو تیار نہیں، کئی دہائیوں بعد بطور تاریخ نصابوں میں شامل کی جائے گی۔ بہتر ہے کہ اس بات کو اس وقت بھی تسلیم کرلیا جائے کہ انٹارکٹیکا کے زمینی وسائل پر قبضے کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ جلد ہی انٹارکٹیکا معاہدے کی دھجیاں بکھرتے دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گی۔

سرد جنگ کے گہرے بادلوں کے سائے میں یہ معاہدہ1959 میں طے پایا تھا، جس کی رُو سے اس براعظم کو کسی بھی فوجی کارروائی اور نیوکلیائی اسلحے سے پاک رکھا جائے گا اور یہاں کسی قسم کی کان کنی نہیں کی جائے گی تاکہ اس خطے کے قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ اس معاہدے پر دستخط کرنے والے اولین اور اصل اراکین بارہ ممالک تھے، جن میں ارجنٹینا، آسٹریلیا، بیلجیئم، چلی، فرانس، جاپان، نیوزی لینڈ، ناروے، روس، ساؤتھ افریقا، یو کے اور امریکا شامل تھے۔ یہ ممالک اس بات پر بھی متفق ہوئے تھے کہ 2048 تک کوئی ملک یہاں ملکیت کا کوئی دعویٰ نہیں کرے گا۔

اس معاہدے میں بعد میں برازیل، چین اور آئس لینڈ سمیت بے شمار ممالک شامل ہوگئے یوں یہ تعداد بارہ سے 53تک جا پہنچی۔ انٹارکٹیکا میں قدم جمانے کی خواہش مند اقوام کی حرص بھری نگاہیں یہاں کے وسائل پر ایسی جمی ہوئی تھیں کہ انہوں نے بلا چوں و چرا اس معاہدے کی پابندیوں کو قبول کر کے ڈیرہ ڈال لیا ، لیکن اب انہیں اس معاہدے کی پابندیاں بری طرح کَھل رہی ہیں اور 2048 تک کا انتظار ان کے لیے سوہانِ روح بنتا جا رہا ہے ۔ انٹارکٹیکا معاہدے کی دھجیاں اڑانے کے لیے بڑی طاقتوں کی بے چینی چھپائے نہیں چھپ رہی۔ تیزی سے جنم لیتی ماحولیاتی تبدیلیاں اور آرکٹک کی تیزی سے پگھلتی ہوئی برف نے وہاں شپنگ روٹس کا راستہ کیا کھولا ، یوں لگا جیسے سب کی لاٹری نکل آئی ہو۔

بے پناہ قدرتی وسائل پر شب خون مارنے کے دیرینہ خواب کی تعبیر انہیں قریب نظر آنے لگی ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انٹارکٹیکا کس کے حصے میں آئے گا ؟ کیا اس پر قبضہ کرنا کسی کے لیے بھی آسان ہوگا؟ اس کی قیمت کس کس کو چُکانی پڑے گی؟ کیوں کہ فی الحال اس مذموم ارادے کی تکمیل میں ہر ملک ایک دوسرے کے خلاف کھڑا ہے، جس سے نت نئے جیوپولیٹکل مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ہر کوئی یہاں قبضے کا متمنی بھی ہے اور دوسرے ملک کے ساتھ مل کر کام کرنے پر مجبور بھی ہے۔ بظاہر شیروشکر ہوکر امن کے لیے کام کرنے والے دراصل ایک دوسرے کو منہہ کے بل گرتا دیکھنے کے منتظر ہیں، جس کی وجہ سے سفید برف کے تودوں پر جنگ کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

براعظم انٹارکٹیکا میں تازہ اور شفاف پانی کا دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے، تیل، گیس اور ہیروں کے ذخائر سونے پہ سہاگہ ہیں، اسی لیے سب نے اس براعظم سے معاشی مفادات وابستہ کر لیے ہیں جس سے انٹارکٹیکا ٹریٹی کی ناؤ ڈول رہی ہے۔ 1980تک صرف تیرہ ممالک کو اختیار حاصل تھا کہ وہ اس معاہدے کے فیصلے میں شامل ہوسکیں لیکن اب یہ تعداد انتیس تک جا پہنچی ہے۔ فن لینڈ سے پیرو اور انڈیا سے بیلجیئم تک مختلف اقوام اس معاہدے کا حصہ ہیں جن کے 75 سے زائد تحقیقاتی مراکز یہاں قائم ہوچکے ہیں۔ ان سب ممالک میں چین وہ ملک ہے جس نے یہاں سب سے زیادہ تحقیقاتی مراکز تعمیر کیے ہیں، جب کی اس کی شمولیت کا سال 1983ہے۔ یہ امر ناقابلِ تردید ہے کہ سائنسی تحقیق اور قیامِ امن کی آڑ میں سب کا اصل ہدف براعظم انٹارکٹیکا کے وسائل ہیں، جس دن کسی ایک نے بھی ان وسائل کو کھود نکالنے کی کوشش کی وہ دن اس خوب صورت جگہ کے لیے ایک خونی دن ہوگا۔

اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی یہاں موجودگی نے دنیا پر اس براعظم کی اہمیت کو مزید اجاگر کردیا ہے اور اب یہ حقیقت آشکار ہوتی جا رہی ہے کہ بہت جلد یہ خطہ کرۂ ارض اور انسانیت کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس براعظم میں سیاحوں کی آمد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ سال کی نسبت اس سال یہاں آنے والے سیاح تعداد میں سترہ فی صد زیادہ تھے۔ سیاحت کو مزید فروغ دینے کے لیے یہاں بیس سمندری جہاز تیاری کے مراحل میں ہیں جب کہ تینتیس جہاز اس مقصد کے لیے پہلے ہی رجسٹرڈ ہیں۔ مختلف ممالک سے یہاں آنے والے سیاح اس سفر پر دس ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک خرچ کرتے ہیں۔ یہاں آنا سیاحوں کے لیے کسی ایڈونچر سے کم نہیں، لیکن انٹارکٹیکا میں سیاحت کا شعبہ بڑی حد تک بدانتظامی کا شکار ہے۔

رواں سال آنے والے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق چین سے تھا۔ بیجنگ دیگر ممالک کے مقابلے میں یہاں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ Polar great power کے منصوبے کو چین بہت تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے ۔ یہاں تعمیر ہونے والے چین کے نئے تحقیقی مرکز کو دیگر ممالک انتہائی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ماحولیاتی تغیرات اور اثرات پر تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ہی چین کا یہاں بتدریج تعمیراتی کام کو آگے بڑھانا انتہائی متنازعہ معاملہ بنتا جارہا ہے، کیوں کہ یہ انٹارکٹیکا پروٹوکول کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے ملک کو سزا دینے کا کوئی طریقہ پروٹوکول میں موجود نہیں جو اس معاہدے کا ایک منفی اور کم زور پہلو اور ایک بڑی خامی ہے۔ براعظم پر چینی سرمایہ کاری کا مقصد صرف وسائل پر قبضہ کرنا ہی نہیں بلکہ اس خطے کی اسٹریٹجک اہمیت بھی ہے، جس کے پیشِ نظر وہ یہاں اپنی تمام طاقت جھونک رہا ہے۔ قطبِ جنوبی کے پاس گراؤنڈ اسٹیشن ہونے کی وجہ سے چین کے عالمی سیٹیلائٹ نیوی گیشن نظام کی درستی میں تیزی آرہی ہے۔

انٹارکٹیکا میں اس وقت دراصل تین بڑی طاقتوں کے درمیان قبضے کی سرد جنگ جاری ہے اور وہ ہیں چین، امریکا اور روس۔ جی ہاں وہی تین ممالک جن کے ذاتی مفادات اور باہمی چپقلشوں نے خشکی و تری سب جگہ عام انسان کا جینا دوبھر کر رکھا ہے اور اب برف سے ڈھکے کوہ ساروں کا سکون اور ان کی تہہ میں چھپے وسائل بھی ان کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹک رہے ہیں۔ برفیلے پانیوں میں جنگ کے بادل ہلکورے لے رہے ہیں۔ یہاں تعمیر ہونے والے انفرا اسٹرکچر پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب انٹارکٹیکا معاہدے کے تحت عائد کردہ پابندیاں غیراہم اور ملکی مفادات اہم ہوجائیں گے۔ ماہرین کے اندازوں سے کہیں پہلے اس خطے میں ڈرامائی تبدیلیاں پیدا ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں۔

کیپ ٹاؤن میں پانی کے سنگین بحران سے کون واقف نہیں؟ اس کمی پر قابو پانے کے لیے ماہرین نے تجویز دی کہ انٹارکٹیکا سے برف کا ایک بڑا تودہ یہاں لاکر نصب کر دیا جائے۔ ماہرین کی تجویز تھی کہ اگر انٹارکٹیکا سے ایک بڑا تودہ لایا جاتا ہے تو وہ ایک سال تک یہاں پانی کی قلت بڑی حد تک دور کر سکتا ہے۔ اس سے روزانہ ڈیڑھ سو ملین لیٹر تازہ پانی حاصل کیا جاسکے گا، جس سے کیپ ٹاؤن کے تیس بڑے علاقے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ لیکن انٹارکٹیکا سے برف کے بڑے تودے کو ساؤتھ افریقا لانا جان جوکھم کا کام ہے۔ اس کے لیے سو ملین ڈالر کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے جو بلاشبہہ ایک بڑی رقم ہے۔ برف کو پگھلنے سے بچانے کے لیے اسے Textile Insulation skirt میں لپیٹ کر لایا جائے گا اور اس کو کیپ ٹاؤن پہنچنے میں تین ماہ کی مدت درکار ہوگی۔

لیکن سوال پھر گھوم کر وہیں آجاتا ہے کہ اگر برف کے تودے دنیا کے دیگر ممالک تک پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے لے جائے جانے لگے تو انٹارکٹیکا معاہدے کا کیا بنے گا؟ اور اگر انسانیت کی فلاح کے لیے اس معاہدے کو پسِ پشت ڈال بھی دیا جائے تو ان تودوں کی نقل و حمل پر جتنی بھاری لاگت آئے گی، کیا اس سے غریب اور پسماندہ ممالک کے غریب اور بلکتے شہری فائدہ اٹھا سکیں گے یا اس بہتی گنگا میں صرف امیر اور خوش حال ممالک ہی ہاتھ دھوئیں گے؟ کیا اتنا قیمتی آبی ذخیرہ صرف ترقی یافتہ ممالک میں تقسیم ہوجائے گا؟ سائنسی تحقیقات اور امن کے نام پر براجمان اقوام کیا ان وسائل سے دنیا بھر میں غربت کے خاتمے پر کوئی ریسرچ کر رہی ہیں یا ان کا واحد مقصد ان وسائل پر قبضہ کرکے اپنی طاقت کا سکہ بٹھانا ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب یقیناً مایوس کن ہے۔ اگر یہاں کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے منصوبوں کی ابتدا ہوتی ہے تو تمام طاقت ور ممالک آپس میں برسرِپیکار ہوجائیں گے، اور برف سے ڈھکی سفیدزمین کا رنگ سرخ ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

صرف پانی اور زمینی وسائل ہی نہیں بلکہ روس اور چین کی نظریں تو براعظم انٹارکٹیکا میں پائے جانے والے جانوروں کی خوب صورت اور نایاب نسلوں پر بھی جمی ہوئی ہیں۔ انتہائی سرد اور برفیلے موسم میں خود کو زندہ اور محفوظ رکھنے والے جانوروں کے حیاتیاتی جانچ کے بعد ان کی ادویات سازی کے شعبے میں ضرورت اور اہمیت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے، لیکن اس قدرتی جائیداد کا مالک کون بنے گا یہ سوال ان حکومتوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ جب کہ عام افراد کے لیے پریشانیوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔

رواں سال اکتوبر میں چین نے انٹارکٹیکا پر پہلا مستقل ہوائی اڈا بنانے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ برف سے ڈھکی سڑکوں پر رن وے بنانا بچوں کا کھیل نہیں۔ یہ انٹارکٹیکا میں چین کا پینتیسواں منصوبہ ہے۔ اس سے قبل اپنی پچیسویں مہم میں چین نے یہاں فکسڈ ونگ جہازوں کی آمدورفت کے لیے چار کلومیٹر لمبا اور پچاس میٹر چوڑا رن وے قائم کیا تھا۔ جس کے بعد وہ امریکا، روس، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی صف میں شامل ہوگیا جن کی پہلے سے ہی انٹارکٹیکا میں ایئرفیلڈز تھیں۔ اب ہوائی اڈے کی تعمیر سے انتظامی اختیارات کا چین کے لیے اپنے قبضے میں کرنا آسان ہو جائے گا اور چینی سائنس دانوں کو لاجسٹک سپورٹ بھی بھرپور طریقے سے فراہم کی جاسکے گی۔ سفر کا دورانیہ کم ہو جائے گا اور چھوٹے طیاروں کے ساتھ بڑے طیاروں کی بھی ساؤتھ پول میں آمد ممکن ہوجائے گی۔

یہ سچ ہے کہ گلوبل وارمنگ کی ایک بڑی وجہ انسانی کارگزاریاں ہیں۔ جس سے خود انسان نے اپنے لیے مسائل کا انبار کھڑا کر لیا ہے۔ انٹارکٹیکا میں برف پگھلنے سے اب سب نے اپنا رُخ اس طرف موڑ کر بقا کا ایک راستہ تو ڈھونڈ لیا ہے لیکن قرائن بتاتے ہیںکہ اس براعظم پر قبضے کی جنگ بالکل آسان نہ ہوگی۔ یہ جگہ سب کے لیے ہاٹ سپاٹ بن چکی ہے۔ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ 2030 تک اس براعظم کا ایک بڑا حصہ برف سے محروم ہوجائے گا، اسی لیے سب کی دوڑیں اس طرف لگی ہوئی ہیں۔ بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ نفسانفسی کے دور اور وسائل کی اس جنگ میں انٹارکٹیکا کے تحفظ کا معاہدہ زمین بوس ہو رہا ہے۔ دنیا میں موجود قدرتی گیس کے وسائل کا تیس فی صد انٹار کٹیکا میں ہے۔ تیل کے ذخائر بھی حیران کن حد تک وافر مقدار میں موجود ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ ان بے صبری اقوام میں سے کوئی بھی یہاں کان کنی کی ابتدا کر دے۔ اگر ایسا ہوا تو تمام مہذب اقوام جانوروں کی طرح ایک دوسرے پر جھپٹ پڑیں گی اور سفید برف سے ڈھکے یہ پہاڑ انسانی درندگی کا تماشا دیکھیں گے۔

انٹارکٹیکا سے برف برآمد کرنے کا منصوبہ

متحدہ عرب امارات پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے انٹارکٹیکا کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ منصوبے کے مطابق ساؤتھ پول سے برف کے تودے لاکر یہاں نصب کیے جائیں گے۔  2022 کی پہلی سہ ماہی میں اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے کے طور پر ایک ویب سائٹ لانچ کی جائے گی جس میں اس پلان کے بہترین نتائج کو اجاگر کرنے کے لیے مہمات چلائی جائیں گی۔ اس کے لیے حکومت نے پانچ سے چھے کروڑ ڈالر کا ابتدائی تخمینہ لگایا ہے۔ یو اے ای کمپنی اس منصوبے کی تکمیل کے لیے کمربستہ ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ تودوں کی نقل وحمل کے خرچ میں بھی کمی آئے اور ان کے پگھلنے کی شرح کو بھی کم سے کم کیا جاسکے۔ 2017 میں یو اے ای حکومت نے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ یہ منصوبہ اسی خواہش کی ایک کڑی ہے۔

ساتواں براعظم اور پاکستان

انٹارکٹیکا معاہدے میں شامل ممالک کو  دو درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک  Consultative members اور دوسرے Non Consultative members  ہیں۔  پہلے درجے میں شامل ممالک  کے پاس یہاں کے معاملات میں فیصلے کے اختیارات ہیں اور وہ  معاہدے کے تحت ہونے والی میٹنگ میں شرکت کے اہل ہیں، جب کہ دوسرے درجے میں شامل ممالک کو میٹنگ میں شرکت کی دعوت تو دی جاتی ہے لیکن وہ کسی بھی فیصلے میں شامل نہیں کیے جاتے۔ پاکستان کا شمار انٹارکٹیکا معاہدے میں شامل دوسرے درجے کے ممالک میں ہوتا ہے۔

یوں تو سابق وزیراعظم نواز شریف کے دورِ حکومت میں پاکستان نیوی نے انٹارکٹک پراوگرام لانچ کردیا تھا، اور وہاں دو پولر اسٹیشن قائم کیے تھے جن میں سے ایک جناح انٹارکٹک اسٹیشن اور دوسرا  پور ریسرچ سیل ہے، لیکن کم زور معاشی حالت کی وجہ سے پاکستان انٹارکٹیکا ٹریٹی میں کوئی بھی فعال کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ برفانی براعظم میں قائم پاکستانی تحقیقی مرکز نے اب تک کیا پیش رفت کی اور کتنا پاکستانی عملہ وہاں موجود ہے؟ اس بارے میں بھی کسی قسم کی کوئی معلومات دستیاب نہیں، جب کہ پڑوسی ملک انڈیا اب تک انٹارکٹیکا میں تین ریسرچ اسٹیشن قائم کر چکاہے۔

انٹارکٹیکا پر پہلا قدم رکھنے کی سال گرہ  پر ہر سال بھارتی میڈیا اس بارے میں جائزے اور رپورٹیں پیش کرتا ہے اور سال بھر میںوہاں ہونے والی بھارتی پیش قدمی کو موضوع بنایاجاتا ہے۔ افسوس ناک امر ہے کہ پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد تو اس بات سے ہی لاعلم ہے کہ پاکستان نے انٹارکٹیکا پر قدم رکھا بھی ہے یا نہیں؟ نیز پاکستانی تحقیقی مراکز وہاں کیا کر رہے ہیں اور پاکستان کا مستقبل انٹارکٹیکا میں کیا ہے؟  ان میں سے کسی سوال کا جواب کسی حکومت کے پاس نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان دوسرے ممالک کی دوڑ میں انٹارکٹیکا تک پہنچ تو گیا لیکن دوسری اقوام کے درمیان خود کو منوانا کیسے ہے اور ترقی کا سفر کس طرح طے کرنا ہے، ایسی کسی منصوبہ بندی کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی جارہی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔