سارے رنگ

رضوان طاہر مبین  اتوار 23 دسمبر 2018
ایک دن اعصابوں کو ’شل‘ کر دینے والی زندگی سے کچھ وقت ملا ، تو وہ ساحلِ سمندر پر آگئے۔ فوٹو: فائل

ایک دن اعصابوں کو ’شل‘ کر دینے والی زندگی سے کچھ وقت ملا ، تو وہ ساحلِ سمندر پر آگئے۔ فوٹو: فائل

کرسی کے فائدے
ابن انشا


’’یہ کیا ہے؟‘‘
’’یہ کرسی ہے۔‘‘
’’اس کے کیا فائدے ہیں؟‘‘
’’اس کے بڑے فائدے ہیں۔‘‘
’’اس پر بیٹھ کر قوم کی بے لوث خدمت اچھی طرح کی جاسکتی ہے۔‘‘
اس کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ اسی لیے تو جب لوگوں میں قومی خدمت کا جذبہ زور مارتا ہے تووہ کرسی کے لیے لڑتے ہیں۔ ایک دوسرے پر کرسیاں اٹھاکر پھینکتے ہیں۔

۔۔۔

’’تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا‘‘
مرسلہ: واحد مسرت، مکا چوک ، کراچی
تم نے کہا تھا کہ تمہیں ہائیڈ این سیک (Hide and Seek) کھیلنا بہت پسند ہے، اور وہ بھی میرے ساتھ۔ کتنا اچھا لگتا تھا ناں تمہیں۔ میرا تلاش کرنا، پریشان ہونا۔ تمہیں آواز دینا۔

وہ دسمبر کا مہینہ تھا، درد کا، سردی کا موسم تھا، یا خزاں کا، بس اتنا یاد ہے کہ بچھڑنے کا موسم تھا، پتوں کا درختوں سے اور میرا تم سے۔۔۔ پتا نہیں درد کی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ موسم اور مہینے سب مکس ہوگئے ہیں، خزاں بھی کتنی خراب ہوتی ہے، سڑکوں پر زرد اور درد، دونوں بکھیر دیتی ہے۔

سال کے آخری مہینے میں تمہاری یاد بھی اخیر کردیتی ہے، وہ عجیب دہشت زدہ دوپہر تھی، سڑک پر پتے بکھرے تھے اور ان پر ہم کھڑے تھے، تم نے کہا تھا، تمہیں چپس کھانا ہیں، اور وہ بھی کیچپ کے ذائقے کی، اچھی خاصی مل تو رہی تھی، جہاں ہم کھڑے تھے، کیا ہوا جو اس کے پاس کیچپ نہ تھا، مجھے سامنے بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔۔

کبھی سوچوں تو لگتا ہے، جیسے تمہیں سب پتا تھا، جان بوجھ کر بھیجا ہوگا مجھے، کچھ منٹوں کا ہی تو فاصلہ رہا ہوگا، جب میں تمہیں سنہری سوٹ میں کھڑا کرکے گیا تھا، کتنے خوش تھے نا ہم دونوں، آفت سے پہلے، سکون اپنے عروج پر ہوتا ہے۔

واپسی پر عجیب سی ہالی ووڈ موویز جیسا منظر، میرا منتظر تھا، چیتھڑے لوتھڑے، درد زدہ دیواریں، گری ہوئی گاڑیاں، مڑی ہوئی موٹر سائیکلیں، اور سب سے بڑھ کر بکھرئی ہوئی تم اور پھٹا ہوا میں۔ باقی سب بھول گیا بس اتنا یاد ہے کہ ایک ’شہادت کی انگلی‘ تھی جو جسم سے جدا ہونے کے بعد بیچ سڑک پر پڑی تھی، تابڑ توڑ تڑپ رہی تھی۔

نفرت کی جنگ میں نقصان ہمیشہ محبت کرنے والوں کا ہی کیوں ہوتا ہے؟

یونیورسٹی کی بس میں، تم بلاوجہ لڑکوں سے لڑ پڑی تھیں کہ تمہیں ساتھ بیٹھنا ہے، سب کہتے تھے، تم بہت بولڈ ہو، کتنی بولڈ ہو؟ بھلا یہ مجھ سے زیادہ اور کون جانتا ہوگا کہ میرے مذاق ہمیں امر کردیا جائے، ایک ساتھ دفن کردیا جائے پر مجھ سے ہی الجھ پڑی تھی۔

شرم کرو، ہم مسلمان ہیں، اور مسلمان اپنے مُردوں کو عزت سے علاحدہ علاحدہ دفن کرتے ہیں، تو پھر اب انہوں نے تمہاری اجتماعی قبر کیوں بنادی ہے؟ نامحرموں کے ساتھ۔ میرے ساتھ دفن ہونا، باعث شرمندگی تھا، اور اب جو تم بے شمار لوگوں کے ساتھ آرام کرکے مجھے بے آرام کر رہی ہو۔ اب میں کس سے الجھوں؟

سال نو کی آمد ہے، ساری دنیا میں خوشیوں خواہشوں خوابوں کے پھوڑ پھوڑے جا رہے ہیں اور ایک میں ہوں کہ دسمبر کی اس یخ بستہ دھند زدہ آدھی رات کو میاں میر دربار سے ملحق مسجد کی یخ بستہ ٹھنڈی تازہ دھلی سنگ مرمر کی سیڑھیوں پر بیٹھا سامنے پڑے سوئے ہوئے قبرستان کو دیکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں یہاں تو خوشیوں کی عمر اتنی سی ہے، پلٹو تو حادثہ آپ کا حلق پکڑ لیتا ہے

اچھا سنو، Enough is Enough ، بس بہت ہوگئی، ہائیڈنگ کہ اب میں سِیک کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔

نئے سال کے نئے سورج کے ساتھ واپس آجائو تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا!

(’ابنارمل کی ڈائری‘ از صابر چوہدری سے لیا گیا)

۔۔۔

امی کی سال گرہ!
مبشر علی زیدی

امی کو اپنی سال گرہ کا دن معلوم نہیں تھا۔ شادی کے بعد بابا نے اُن کا شناختی کارڈ بنوایا، تو یکم جنوری تاریخ مقرر کر دی۔

ہر بچہ اپنی ماں کی کائنات کا مرکز ہوتا ہے۔ ہر ماں اپنے بچے کی کائنات کا مرکز ہوتی ہے۔

میں بچپن میں یہی سمجھتا تھا کہ نیا سال اس لیے یکم جنوری کو شروع ہوتا ہے کہ وہ امی کی سال گرہ کا دن ہے۔ اگر امی کی سال گرہ کی تاریخ کوئی اور ہوتی تو سال اسی دن شروع ہوتا۔

دراصل ہر شخص کا سال اس دن شروع ہوتا ہے جس دن اس کی ماں اسے جنم دیتی ہے۔ ہمارا سال اس دن شروع ہوتا تھا، جس دن امی نے جنم لیا تھا۔

ہم اپنے چھوٹے سے گھر میں امی کی سادہ سی سال گرہ کا اہتمام کرتے تھے۔ ایک کیک لے آتے۔ کبھی کچھ پھول۔ میں کمانے لگا تو کبھی کوئی چھوٹا سا تحفہ۔

رات کے 12 بجتے، امی کی آنکھیں چمکتیں اور آسمان پر انار پھوٹنے لگتے۔ امی مسکراتیں اور پوری دنیا رنگوں میں نہا جاتی۔

امی کیک کاٹتیں تو پورا وجود مٹھاس سے بھر جاتا۔ امی مجھے گلے سے لگاتیں تو پوری کائنات رقص کرنے لگتی۔

ایسے مناتا تھا میں نیا سال اور ایسے مناتا تھا امی کی سال گرہ۔۔۔!

امی کو جدا ہوئے سات سال ہوگئے۔

نیا سال تو اب بھی یکم جنوری کو آتا ہے، لیکن نہ رنگ مسکراتے ہیں، نہ روشنی رقص کرتی ہے۔

پھولوں کی دکان سے کچھ گلاب ضرور خرید لیتا ہوں۔۔۔
امی کی قبر پر بچھا دیتا ہوں۔

۔۔۔

صد لفظی کتھا
’’قدر دان‘‘
رضوان طاہر مبین

’’دراصل تمہیں ابھی تک کوئی قدر کرنے والا ہی نہیں ملا۔۔۔!‘‘
ثمر جب بے وفائی کا شکوہ کرتا تو میں اُسے کہتا۔
’’جب تمہارے خلوص کا قدر دان ملے گا تو دیکھنا کتنی محبت ملے گی۔۔۔‘‘
پھر وہ ایک ’واردات قلبی‘ سے گزرے اور خوب شاد ہوئے، مگر کچھ دن بعد پھر وہی تنہائی مقدر ہو گئی، میں نے پھر وہی بات دُہرائی تو بولے:
’’نہیں، وہ تو بہت قدر دان تھی۔۔۔!‘‘
’’پھر کیا ہوا۔۔۔؟‘‘ میں حیران ہوا۔
’’وہ بولی تم بہت مخلص ہو، میں اتنے خلوص کی مستحق نہیں!‘‘
ثمر نے اَشک بار آنکھوں کے ساتھ بتایا۔

۔۔۔

جب غلط ہی ہونا ہوتا ہے۔۔۔
ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی

اگر بحرانی کیفیت میں آدمی کے پاس دو راستے ہوں تو اکثر لوگ غلط کا انتخاب کریں گے۔ اگر کسی کا آغاز اچھا ہو تو اس امکان کو رد نہ کیجیے کہ اس کا انجام برا ہوسکتا ہے۔ جس کام کا آغاز بد ہو اس کا انجام بدترین ہوگا۔ آپ کی دی ہوئی وہ کتاب کبھی واپس نہیں آتی جسے آپ بطور خاص اپنے ریکارڈ رکھنا چاہتے ہیں۔

اگر آپ کے گھر میں کوئی پرانی یا بے کار چیز بہت عرصے سے پڑی ہوئی ہے تو آپ اسے پھینک دیتے ہیں، کسی کو دے دیتے ہیں یا اونے پونے داموں بیچ دیتے ہیں پھر جیسے ہی وہ چیز گھر سے نکلتی ہے اس کے اگلے دن آپ کو اس کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔ آپ بازار سے کوئی چیز ( کپڑا، گھڑی ، کیمرا وغیرہ) بہت بھائو تول کر کے خریدتے ہیں۔ آپ دکان چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں تو قریب کی کسی دکان میں اسی برانڈ کی وہی چیز کم قیمت پر دست یاب ہوگی۔ آپ کف افسوس ملتے رہ جاتے ہیں کہ میں نے دو دکانیں اور کیوں نہ دیکھ لیں، لیکن اگر آپ دو دکانیں اور دیکھ لیتے تو وہ چیز ان کے بعد کسی دکان پر سستی ملتی۔

چند سال قبل ہمیں براستہ دبئی لندن جانے کا اتفاق ہوا۔ جہاز کراچی میں تاخیر کا شکار ہوگیا جب وہ دیر سے دبئی پہنچا تو لندن کی رابطہ پرواز وقت پر نکل چکی تھی کیوں کہ ’مرفی‘ کا قانون ہے ’’آپ جس جہاز میں سفر کررہے ہیں اگر وہ لیٹ ہے تو وہ جہاز جس سے آپ کو آگے سفر جاری رکھنا ہے وقت پر روانہ ہوجائے گا۔‘‘ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب ہم محفل میں کسی سے بحث کرتے ہیں تو تمام قائل کردینے والے اور بر محل نکات ہمارے ذہن میں اس وقت آتے ہیں جب بحث ختم ہوجاتی ہے اور ہم لوگوں کو متاثر کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

۔۔۔

گڑیا
کاشف شمیم صدیقی

اَن گنت رت جگوں میں مانگی دعاؤں۔۔۔ منتوں اور مرادوں کے بعد رب تعالیٰ نے بانو اور برکت کی خالی جھولی بھری تھی، اور گڑیا رحمت بن کر ان کے گھر میں جگ مگا اٹھی تھی۔ وہی تو تھی، برکت او ر بانو کی جینے کی وجہ۔ سو دونوں اپنی ننھی سی گڑیا کی ہر آرزو کو پورا کرنے کے لیے خوب محنت مزدوری کی اور خود کو بھی بھُلا بیٹھے!

ایک دن اعصابوں کو ’شل‘ کر دینے والی زندگی سے کچھ وقت ملا ، تو وہ ساحلِ سمندر پر آگئے۔

’’اولاد کا ساتھ ماں ، باپ کے لیے کتنا اطمینان بخش ہوتا ہے ناں‘‘

گیلی ریت پر چلتے ، بانو نے کہا۔

’’ہاں۔۔۔‘‘برکت نے اثبات میں سر ہلایا ’’اور بچوں کے اچھے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی کی تکلیفوں کو جھیلنے کی ہمت آہی جاتی ہے۔‘‘

’’خدا سب کو اولاد کی نعمت سے نوازے اور ان کی خوشیاں دکھائے‘‘ بانو بے خودی میں بولی۔

’’آمین!‘‘ برکت نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔

اگلی صبح وہ مزدوری پر تھا کہ عقب سے پڑوسی فضلو کی آوازیں کانوں سے ٹکرائیں

’’برکت۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ گڑیا۔۔۔‘‘ وہ ہونق تھا۔

’’کیا۔۔۔ کیا ہوا گڑیا کو؟‘‘ اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔

’’گڑیا کی سانس۔۔۔ سانس رُک رہی ہیں اس کی۔۔۔ چلو، جلدی چلو!‘‘

اور برکت دیوانہ وار اسے لے کر اسپتال دوڑا۔

’’جینا ہو گا۔۔۔ مرنا ہو گا، دھرنا ہوگا۔ دھرنا ہو گا!‘‘

انہی آوازوں کے شور میں بانو ، برکت ، فضلو اور محلے کے کچھ اور لوگ ’گڑیا‘ کو لے کر اسپتال میں داخل ہو ہی رہے تھے

’’میں معذرت چاہتا ہوں۔۔۔ہم کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔ مجبوری ہے۔۔۔ابھی تو سب بند ہے!

آپ اسے دوسرے اسپتال لے جائیں۔۔۔‘‘ سب نے ہاتھ کھڑے کردیے۔

اُس نے بہتیری التجا کی، لیکن بے سود، وہ دوسرے اسپتال لپکے، لیکن آزمائشوں کے سفر پر نکلی زندگی نے ساتھ چھوڑ دیا!

گڑیا نے جس گود میں لوری سنی اسی گہوارے میں دم دیا!

محلے کی ہر دل غم زدہ، ہر آنکھ اشکب بار تھی، ایسے میں فضلو اس کے پاس آیا تھا ’’برکت، برکت میرے بھائی‘‘ اس نے برکت کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور بولا

’’یہاں کہیں جگہ نہیں مل رہی۔۔۔ ایک دور کے قبرستان میں بات تو ہوئی، لیکن وہ۔۔ وہ بہت زیادہ پیسے مانگ رہے ہیں ‘‘

’’برکت ہمیں۔۔۔ہمیں گڑیا کو۔۔۔ گڑیا کو گھر کے آنگن میں ہی دفنانا ہوگا۔‘‘

دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر ز ور سے بھینچ لیا تھا ،، زخم جسم نہیں ، روح پر لگا تھا!

برکت دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا،، پھر آنگن کی اُسی کچی زمین پر، جہاں رنگ برنگے پھو لوں نے کھِلنا تھا ،، جہاں خوشبوؤں نے فضاؤں میں بکھرنا تھا ،، وہاں ننھی گڑیا کے معصوم وجود کو آہوں اور سسکیوں میں دفنا دیا گیا تھا۔

’’ہم آپ کی تقدیر بدلنے نکلے ہیں، ہم آپ کو نوکریاں دے رہے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں، 24 گھنٹے کام کرنے والے اسپتال بنا رہے ہیں، اب کوئی بچہ علاج نہ ہونے کی وجہ سے نہیں مرے گا۔۔۔

آپ کا ایک ووٹ بدل دے گا آپ کی قسمت!‘‘

باہر ایک ’جلسے‘ کی بلند آوازیں گڑیا کی قبر پر فاتحہ پڑھتے لوگوں کی سماعتوں سے ٹکرا رہی تھیں۔۔۔!

۔۔۔

’صدر‘ بے قدر!
امر جلیل
میں نے کبھی شہ سواری کی ہے اور نہ کبھی میدان جنگ کا رخ کیا ہے، پھر بھی میں گرپڑتا ہوں، پچھلے دنوں صدر میں گھومتے ہوئے گر پڑا تھا۔ ایک شخص نے مسکراتے ہوئے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس نے مجھے کھینچ کر پیروں پر کھڑا کرتے ہوئے کہا
’’گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں۔‘‘
وہ وجیہہ قسم کا نوجوان تھا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا
’’بیٹے میں کسی گھوڑے پر سوار نہیں تھا اور یہ جگہ جنگ کا میدان نہیں ہے۔ یہ صدر ہے ۔ صدر بے قدر۔‘‘
میں نے کہا ’’ایک زمانہ تھا کہ سانولی سلونی اینگلو انڈین اور گوری چٹی پارسی لڑکیاں خوب بن سنور کر صدر میں ٹہلنے اور خریداری کرنے آتی تھیں، اچھے اچھے من چلوں کی دال نہیں گلتی تھے، تب صدر کو صدر بے قدر کہتے تھے۔‘‘



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔