ملک میں بجلی کے بحران کا بہترین حل…

عابد محمود عزام  اتوار 7 جولائ 2013

پاکستان گزشتہ کئی سال سے بجلی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ ایک دن میں آٹھ دس گھنٹے بجلی کا غائب رہنا معمول ہے جس سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے، صنعتیں دن بدن دم توڑ رہی ہیں، کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں۔ بجلی بندش کی وجہ سے روزانہ ملک کو ایک ارب سے زائد کا نقصان ہورہا ہے۔ اس مشکل سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایسا طریقہ اپنانے کی ضرورت ہے جس سے عوام کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ممکن ہو۔ سورج کی کرنیں قدرت کا وہ عطیہ ہیں جس سے توانائی کے حصول کو یقینی بناکر بجلی کے بحران سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ملک کا شمار دنیا کے ان خوش نصیب ممالک میں ہوتا ہے جہاں سال کے 365 دنوں میں 250 سے لے کر 320 دنوں تک 8 سے 12 گھنٹے 90 فیصد علاقوں میں سورج چمکتا ہے۔ اس طرح پاکستان میں سالانہ 3600 گھنٹے اوسطاً سورج دھوپ دیتا ہے۔ سورج سے حاصل ہونے والی اس توانائی کو سولر انرجی یا شمسی توانائی کہا جاتا ہے۔

دیگر ذرایع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی کرنوں سے 36 گنا زیادہ توانائی حاصل ہوسکتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق سورج سے ایک گھنٹے میں حاصل ہونے والی توانائی پوری دنیا کی کل سالانہ پیدا کردہ مجموعی توانائی سے زیادہ ہے۔ دنیا کے صحرائوں کا اگر صرف آدھا فیصد بھی شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے دنیا میں توانائی کی طلب پوری کی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں شمسی توانائی پیدا کرنے کے بے شمار مواقعے موجود ہیں کیونکہ پاکستان سال بھر میں فی مربع میٹر انیس میگا جول سے زیادہ شمسی توانائی حاصل کررہا ہے، جس سے پاکستان کے تقریباً 50 ہزار دیہاتوں میں رہنے والی 90 فیصد آبادی کو شمسی توانائی سے بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کے متبادل انرجی بورڈ کے چیئرمین کے مطابق پاکستان سالانہ سورج سے 29 لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے، جب کہ اس وقت پاکستان میں تقریباً 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔

ایک عام آدمی کے لیے یہ بات باعث حیرت ہوگی کہ سورج کی روشنی سے توانائی کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟ سورج سے توانائی کے حصول کے لیے بنیادی عنصر سولر سیل کہلاتا ہے۔ سولر تھرمل بجلی پیدا کرنے کا طریقہ ہے۔ اس طریقے میں پانی کو بھاپ کی شکل دی جاتی ہے اور بھاپ کی مدد سے ٹربائنز کو چلایا جاتا ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ گیس یا کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں حرارت آگ سے لی جاتی ہے جب کہ سولر تھرمل میں حرارت براہ راست سورج سے حاصل کی جاتی ہے۔ اس طریقے میں دھوپ کی شعاعوں کو ایک ہی نقطے پر مرکوز کرتے ہوئے کسی پائپ میں موجود مایع کو گرم کیا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں سورج سے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک اپنی روز مرہ زندگی میں شمسی توانائی کا استعمال کرکے توانائی کے بحران سے کوسوں دور ہیں۔ اس وقت دنیا میں سورج سے ایک لاکھ میگاواٹ کے لگ بھگ توانائی پیدا کی جارہی ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کو ہی لے لیجیے۔ بھارت نے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شمسی توانائی کے استعمال پر زور دیا ہے۔ دہلی کے نزدیک گوالی پہاڑی میں شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے ایک بڑا بجلی گھر بنایا گیا ہے۔ بھارت کے دیگرعلاقوں میں سولر فوٹو والٹک سینٹرز قائم کیے جاچکے ہیں جو ایک کلو واٹ سے ڈھائی کلوواٹ تک سولر سیل تیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر اشیاء مثلاً موبائل، گیزر، کھانا پکانے اور دوسری چیزوں کے لیے بھی شمسی توانائی استعمال کی جا رہی ہے۔ امریکا میں بھی ہزاروں کی تعداد میں شمسی گھر تعمیر کیے جاچکے ہیں۔ امریکا میں انجینئر اور فن تعمیر کے ماہرین نے شمسی گھروں سے متعلق طرح طرح کے ڈیزائن نکالے ہیں۔ ان شمسی گھروں میں کسی نہ کسی طرح سورج کی گرمی کو ذخیرہ کیا جاتا ہے اور ضرورت کے حساب سے استعمال کیا جاتا ہے۔ فرانس کے ماہرین تحقیقی مقام ’’پیرانیز‘‘ میں شمسی توانائی کی مدد سے بھٹیوں کو چلا رہے ہیں۔ یہ بھٹیاں اس قدر بڑی ہیں کہ ان میں سے صرف ایک کا رقبہ 43 مربع فٹ ہے اور اس میں 516 عکسی شیشے لگے ہوئے ہیں۔ اس کے 80 فٹ کے فاصلے پرایک شیشہ ’’کاپیرابولا‘‘ ہے جو 31 فٹ چوڑا اور 33 فٹ لمبا ہے۔ اس نظام سے جو گرمی پیدا ہوتی ہے وہ فی گھنٹہ 130 پونڈ لوہے کو پگھلا سکتی ہے۔

روسیوں نے بھی سولر تھرمل کا استعمال کرتے ہوئے ایک بہت بڑا ’’ہیلیو بوائیلر‘‘ بنایا ہے۔ یہاں ایک 80 فٹ اونچا مینار ہے جس کے چاروں طرف 23 ہم مرکز ریل کی پٹریاں ہیں۔ ان پٹریوں پر چلنے والے ڈبوں میں 16 فٹ لمبا اور 10 فٹ چوڑا عکسی شیشہ ہوتا ہے۔ ان شیشوں سے سورج کی شعاعیں مرکوز ہوکر مینار میں بوائلر پر پڑتی ہیں جس سے حرارت والی بھاپ اس قدر پیدا ہوتی ہے کہ ایک ایسے جزیٹر کو چلایا جاتا ہے جو ایک ہزار کلو واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ تائیوان کے جنوب مغرب میں 2009 میں ورلڈ کپ گیمزکے لیے دنیا کا پہلا ایسا اسٹیڈیم تعمیر کیا گیا تھا جو مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلتا ہے۔ اس اسٹیڈیم میں 55 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔ 19 ایکڑ وسیع رقبے پر محیط اس اسٹیڈیم کی شمسی چھت 14155 اسکوائر میٹر ہے اور اس پر 8844 شمسی پینل نصب کیے گئے ہیں۔ سورج سے حاصل کی گئی شمسی طاقت کی مدد سے اسٹیڈیم کے تین ہزار بلبوں کو روشن اور دو بڑی دیوہیکل ٹی وی اسکرینز کے لیے توانائی کا حصول ممکن بنایا گیا۔ یہ اسٹیڈیم سال بھر میں شمسی توانائی کے ذریعے 1.14 گیگا واٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کرتا ہے جس کے ذریعے سالانہ کاربن کے اخراج میں 602 ٹن کمی واقع ہوئی ہے۔

ایران بھی شمسی توانائی سے چلنے والی گاڑی کا کامیاب تجربہ کرچکا ہے۔ یہ گاڑی عام گاڑی کی نسبت ایک سو کلو گرام ہلکی ہے۔ اس گاڑی میںایک سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس میں نصب شمسی پینل بیٹریز توانائی جمع کر کے اسے چلنے میں مدد دیتے ہیں۔ جرمنی میں سورج کم وقت چمکتا ہے اس کے باوجود جرمنی نے دنیا کے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ شمسی توانائی کا پروگرام شروع کیا ہے، جرمنی نے یونان میں بیس ہزار ایکڑ پر شمسی تونائی کا سسٹم لگایا ہے۔ ابوظہبی میں 600 ملین ڈالر سے سو میگاواٹ کا شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا پلانٹ لگ رہا ہے۔ اسپین کے علاقے نیورا میں بجلی کی 70 فیصد ضرورت کو شمسی توانائی اور پن بجلی کی مدد سے پورا کیا جا رہا ہے۔ اس علاقے میں کوئلے، گیس یا تیل کے ذخائر بالکل نہیں ہیں، اس کے باوجود یہاں شمسی توانائی کے ذریعے بلاتعطل بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ علاقہ متبادل ذرایع سے بجلی حاصل کرنے کی بہترین مثال ہے۔ اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایسے علاقے میں بجلی کی پیداوار ممکن ہے تو پاکستان میں بھی شمسی توانائی سے بجلی کے پیداواری مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اگر پاکستان شمسی توانائی کے استعمال پر توجہ دے تو ہم نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پاسکتے ہیں بلکہ بجلی کو ذخیرہ بھی کرسکتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔