گائے بہن! آپ بُرا نہ مانیں تو۔۔۔

محمد عثمان جامعی  اتوار 23 دسمبر 2018
  اب اتنی اہم مخلوق کے جذبات کا خیال رکھنا تو ہمارا فرض ٹھہرا ناں۔ فوٹو: فائل

اب اتنی اہم مخلوق کے جذبات کا خیال رکھنا تو ہمارا فرض ٹھہرا ناں۔ فوٹو: فائل

یونی ورسٹی آف برٹش کولمبیا (کینیڈا) میں ہونے والی ایک تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ گائے بڑا جذباتی جانور ہے، گائیں پُرامید بھی ہوتی ہیں مایوس بھی، اور ذہنی دباؤ کا شکار بھی ہوجاتی ہیں۔

ویسے گائے پر جتنی تحقیق ہم مسلمان کرتے ہیں اس کا عشرعشیر بھی یہ گورے کیا کریں گے۔ ہمارے ہاں تو بقرعید کے موقع پر گھر گھر تحقیق کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ کس کی گائے کتنے کی آئی؟ کس گائے سے کتنا گوشت نکلے گا؟ جانور بوڑھا تھا یا بچھیا تھی؟ آخرکار تحقیقی موضوعات کا سلسلہ گائے کا گوشت سڑنے سے بچانے اور نت نئی ترکیبوں سے پکانے تک پہنچ جاتا ہے۔

جب سے ہم نے اس تحقیق کی خبر پڑھی ہے گائے کے بارے میں ہم بہت حساس ہوگئے ہیں۔ تصورجاناں کی طرح تصویر گائے آنکھوں میں سجائے سوچ رہے ہیں کہ مزید تحقیق کی جائے تو شاید یہ بھی منکشف ہو کہ گائے محبت بھی کرتی ہے، متنفر بھی ہوتی ہے، خوش بھی ہوتی ہے مغموم بھی، کھی کھی کرکے ہنستی بھی ہے اور بھوں بھوں کرکے روتی بھی ہے۔ اتنے جذباتی اور حساس جانور کے جذبات اور احساسات کا ہم انسانوں کو پوری طرح خیال رکھنا چاہیے، خاص طور پر ہم پاکستانیوں کو، کیوں کہ ہماری قومی زبان کے ایک شاعر اسمعٰیل میرٹھی نے کہا تھا:

رب کا شکر ادا کر بھائی

جس نے ہماری گائے بنائی

مزید کہتے ہیں:

رب کی حمدوثناء کر بھائی

جس نے ایسی گائے بنائی

گویا دیگر سارے جانور، سبزیاں، پھل پھول، پہاڑ، صحرا، سمندر، دریا، سورج، چاند ستارے، یہ سب نہ بھی ہوں تو زندگی گزر سکتی ہے گائے جیسی نعمت کے سہارے، چناں چہ شاعر نے تلقین کی ہے کہ رب کا شکر ادا کر جس نے تیرے لیے گائے بنادی، ورنہ تیرا کیا ہوتا اے گاؤدی۔

اب اتنی اہم مخلوق کے جذبات کا خیال رکھنا تو ہمارا فرض ٹھہرا ناں۔ سو ہم سب کو چاہیے کہ گائے خریدنے سے پہلے اس کے قریب جاکر پوچھیں: گائے بہن! آپ بُرا نہ مانیں تو ہم آپ کو خرید کر ذرا ذبح کرلیں؟ دراصل پائے کھانے کا بہت دل چاہ رہا ہے‘‘، اگر گائے کی آنکھوں میں برہمی نظر آئے تو فوراً معذرت کرکے کہہ دیں ’’چلیے کوئی بات نہیں، ہم مرغی کے پنجوں پر گذارہ کرلیں گے۔‘‘

اسی طرح جب بڑے کے گوشت کی دکان پر جائیں تو قصائی سے کہیں ’’پہلے ہمیں اس مقتول گائے کے کُھر کا نشان لگا این اوسی دکھاؤ، جس پر اس نے اپنے ذبح کیے جانے کی اجازت دی ہو، پھر ہم گوشت خریدیں گے۔‘‘ دودھ لیتے وقت بھی گوالے سے صاف صاف کہہ دیں،’’بھیا! گائے بی بی کا اس عبارت کا خط دکھاؤ کہ میں اپنا دودھ بیچنے کی اجازت کے ساتھ رقعہ حامل ہٰذا کی بالٹی میں ڈال رہی ہوں، اگر یہ خط نہیں ہے تو جاؤ ہم دودھ بھی نہیں لیں گے۔‘‘

محمد عثمان جامعی
[email protected]



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔