ملک بھر میں ایس ایم ایز کی تعداد 38لاکھ سے زائد ہے، بی ایس ایف

اے پی پی  پير 8 جولائ 2013
54فیصد ایس ایم ایز ٹیکس نیٹ سے باہر، شامل کرکے حکومتی آمدن بڑھائی جاسکتی ہے. فوٹو: فائل

54فیصد ایس ایم ایز ٹیکس نیٹ سے باہر، شامل کرکے حکومتی آمدن بڑھائی جاسکتی ہے. فوٹو: فائل

اسلام آباد: ملک میں 3.8ملین سے زائد چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاورباری ادارے (ایس ایم ایز) کام کر رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ایس ایم ایز کے زیادہ تر حصے کو مناسب تعلیم و تربیت کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

ایس ایم ایز بزنس سپورٹ فنڈ کے سی ای او ثاقب محی الدین نے کہا ہے کہ سرکاری طور پر ملک میں کام کرنے والے ایس ایم ایز کی تعداد 3.8ملین سے زائد ہے تاہم مجھے یقین ہے کہ اس وقت ملک میں 5ملین ایس ایم ایز کام کر رہے ہیں، اس میں زیادہ فعال اداروں کا تعلق گوجرانوالہ ، گجرات، سیالکوٹ اور فیصل آباد سے ہے جو ملک کی معیشت میںقابل قدر کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 54فیصد ایس ایم ایز ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں جبکہ 10لاکھ ایس ایم ایز ملکی معیشت میں 28فیصد کے حصہ دار ہیں۔

جس میں سے ریٹیل کا شعبہ ٹیکسز میں صرف 1.75فیصد کا حصہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ریٹیل کے شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ملک میں ریٹیل کے شعبے کو ترقی دیکر معاشی اہداف کے حصول میں معاونت حاصل کی جاسکتی ہے  جبکہ ایس ایم ایز کے شعبے کی تعلیم و تربیت اور قرضوں تک رسائی کے عمل کی بہتری سے اداروں کی کارکردگی بڑھائی جا سکتی ہے اور زیادہ سے زیادہ ایس ایم ایز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کر کے حکومتی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔