سینٹرل جیل میں پھانسی دینے کیلیے ’’جلاد‘‘ تعینات نہیں

مانیٹرنگ ڈیسک  پير 8 جولائ 2013
ڈیوٹی پر موجود سپاہی ہی فرائض انجام دیتا ہے ،آخری جلاد 25 برس قبل ریٹائر ہوگیا تھا،ذرائع، اسامی منظور شدہ نہیں، جیل حکام۔ فوٹو: فائل

ڈیوٹی پر موجود سپاہی ہی فرائض انجام دیتا ہے ،آخری جلاد 25 برس قبل ریٹائر ہوگیا تھا،ذرائع، اسامی منظور شدہ نہیں، جیل حکام۔ فوٹو: فائل

کراچی: سینٹرل جیل کراچی میں پھانسی دینے کے لیے ’’جلاد‘‘ تعینات نہیں ہے، ڈیوٹی پر موجود سپاہی لیور کھینچنے کے فرائض انجام دیتا ہے۔

حکام نے بتایا کہ ’’جلاد‘‘ کی اسامی منظور شدہ نہیں، تفصیلات کے مطابق سزائے موت کے قیدی کو پھانسی دینے کے لیے پھانسی گھاٹ میں ایک شخصیت ’’جلاد‘‘ کی بھی ہوتی ہے جس کے فرائض میں قیدی کو تختہ دار پر لے جاکر گلے میں پھندا ڈالنے کے بعد چہرے کو سیاہ کپڑے سے ڈھانپ کر لیور کھینچنا ہوتا ہے، حیرت انگیز طور پر سینٹرل جیل کراچی میں پھانسی دینے کے لیے باقاعدہ طور پر جلاد کی تعیناتی نہیں کی گئی، جیل حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صوبہ سندھ میں جلاد کی اسامی ہی نہیں ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پھانسی دینے کے لیے باہمت اور مضبوط اعصاب کے مالک شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس کی وجہ سے پھانسی کے وقت ڈیوٹی پر موجود کسی بھی شخص کو جیلر منتخب کرکے اسے ہی لیور کھینچنے کا حکم دیتا ہے جس کے بعد پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کردیا جاتا ہے ، تختہ دار پر لٹکنے کے بعد جب روح قفس عنصری سے پرواز کرجاتی ہے تو ڈاکٹر لاش کا معائنہ کرکے موت کی تصدیق کرتا ہے جس کے بعد لاش کو تختہ دار سے نیچے اتارا جاتا ہے اور مجسٹریٹ کی نگرانی میں ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جاتی ہے ، کاغذی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی جاتی ہے ، ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ کئی برس قبل ایک جلاد تھا جوکہ تقریباً 25 برس قبل ریٹائر ہوگیا تھا جس کے بعد کوئی جلاد بھرتی نہیں کیا گیا ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔