عمران خان بمقابلہ خادم رضوی

سلمان نثار شیخ  پير 24 دسمبر 2018
 عمران خود بھی اپنے طریقے کو اس قدر پریکٹس نہیں کر سکے جس قدر خادم رضوی نے کر لیا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

عمران خود بھی اپنے طریقے کو اس قدر پریکٹس نہیں کر سکے جس قدر خادم رضوی نے کر لیا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

وطن عزیز کی سیاسی جماعتیں، ورکرز یونینز، پریشر گروپس اور مختلف سماجی تنظیمیں و احتجاجی دھڑے ہمیشہ سے دھرنے دیتے آئے ہیں۔ جماعت اسلامی تو بات بات پر دھرنا دینے کے حوالے سے اپنی ایک خاص شہرت بھی رکھتی تھی، اور ایک زمانے تک اس کا نعرہ ’’جینا ہو گا، مرنا ہو گا، دھرنا ہو گا، دھرنا ہو گا‘‘ خاصا مقبول بھی رہا ہے۔ لیکن دھرنے کو جو شہرت اور شکل عمران خان اور تحریک انصاف نے بخشی، اس نے اس طرز احتجاج کو ایک نیا روپ، ایک نئی روایت اور ایک جداگانہ تشخص عطا کر دیا ہے۔

اب دھرنا صرف ایک مظاہرہ نہیں ہوتا، صرف احتجاج ریکارڈ کرانے کا طریقہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک دھمکی ہوتی ہے، ایک خطرہ اور ایک حملہ ہوتا ہے۔ نظام کو مفلوج کر دینے کی دھمکی، معاشی نقصانات کا خطرہ اور سیاسی و حکومتی نظام پر حملہ۔

لیکن اس کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دھرنے کی ازسرنو داغ بیل ڈالنے والے اور اسے نئی جہات سے روشناس کرانے والے عمران خان اور ان کی جماعت نے اپنے دھرنے کے ذریعے سیاسی و حکومتی بساط لپیٹنے کی ہر ممکن کوشش تو ضرور کی، مگر وہ بری طرح ناکام ہوئے؛ اور الٹا اپنی ساکھ اور شہرت کو اس دھرنے کے ذریعے کاری ضرب لگوا بیٹھے۔ ملک کے کئی اہم اسٹیک ہولڈرز کو اپنا مخالف بنوا بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس ملک میں دھرنا ایک دھمکی، ایک خطرہ اور ایک حملہ بن چکا ہے۔

دھرنا ایک ٹرینڈ بن چکا ہے۔ نظام کو جام کرنے کا ٹرینڈ۔ اپنے جائز و ناجائز مطالبات کو پورا کروانے کا مؤثر ہتھیار۔ کسان ہوں یا ڈاکٹر، اساتذہ ہوں یا کلرک یا کوئی اور مصیبت کا مارا، حالات کا ستایا، دھرنا سب کے ہاتھ آ جانے والا ایک کارگر نسخہ بن کر ابھرا ہے۔ بالخصوص ایک نئی دینی جماعت نے تو جیسے اس نسخۂ جاں فزا کو گھول کر پی لیا ہے، اور اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان شدید ناکامی کے باوجود اس باب میں ٹرینڈ سیٹر کیوں کہلاتے ہیں؟ جب بھی کوئی گروہ دھرنا دیتا ہے تو سماجی حلقوں کی جانب سے اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کو کیوں کوسا جاتا ہے؟

شاید اس کا صرف ایک ہی جواب ہے، اور وہ ہیں 126 دن۔ عمران خان کے دھرنے کی طوالت اور استقامت ہی دراصل اسے شہرت بخشنے اور روایت ساز بنوانے میں کامیاب ہوئیں۔ اس دھرنے نے لوگوں کو یہ سمجھا دیا کہ جو جتنی دیر تک، جتنی زیادہ بڑی تعداد میں اور جتنی زیادہ مصروف یا اہم جگہ پر بیٹھا، اتنے ہی اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ اور اس پر طرہ یہ کہ زبردستی منوائے گئے مطالبات کا درست یا جائز ہونا چنداں ضروری نہیں!

چنانچہ تحریک لبیک نے یہ راز جان کر خود کو اس ملک کی صف آخر کی غیرمقبول سیاسی جماعت کے درجے سے اٹھا کر اس قدر تیزی سے دوسری تیسری صف کی مقبول سیاسی جماعت بنا لیا ہے کہ اس کی نذیر نہیں ملتی۔ اور اس کے مدارالمہام علامہ خادم رضوی کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے عمران خان کی تکنیک اور طریقے کو سمجھ کر اس میں اپنی محنت، جوش خطابت و مذہبی طور پر جوش میں آئے کارکنان و مریدین کی مدد سے مزید نکھار پیدا کرکے اسے مزید طاقتور، زود اثر اور خطرناک بھی بنا دیا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ عمران خود بھی اپنے طریقے کو اس قدر پریکٹس نہیں کر سکے جس قدر خادم رضوی نے کر لیا ہے۔ شاید اس لیے کہ عمران کا مقصد بڑا، منزل بڑی اور عزائم بہت زیادہ تھے؛ اور دھرنا ان کی راہ میں آنے والا صرف ایک پلیٹ فارم تھا۔ منزل نہیں سیڑھی تھا۔ وسیع تر مقاصد میں سے معدودے چند کے حصول کا ذریعہ تھا۔

لیکن خادم رضوی کا معاملہ دوسرا ہے۔ ان کا پہلا مسئلہ مقبول ہونا تھا، کو فیض آباد چوک پہ کئی روز جاری رہنے والے بھرپور دھرنے نے انہیں سالوں کی بجائے دنوں میں مقبول ہونے میں بھرپور مدد دی۔ ان کا دوسرا مقصد دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے سادہ لوح شہریوں کے دل و دماغ میں اپنی دین سے محبت کا یقین ڈالنا تھا۔ تیسرا مقصد اس یقین کو ووٹ میں تبدیل کرانا اور پھر ان ووٹوں کی مدد سے 2018ء کے عام انتخابات میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی سیٹ حاصل کرکے ایوان ہائے اقتدار تک پہنچ کر اپنی آواز کو طاقتور بنانا تھا۔ اور ان کا چوتھا مقصد اپنی سیاسی جماعت کو منظم کرنا اور اس کے رہنماؤں و کارکنان کی سیاسی تربیت کرنا تھا۔

اپنے ان تمام بنیادی اہداف کو وہ دھرنے در دھرنے کی مدد سے نہایت کامیابی سے حاصل کر چکے ہیں، حکومتوں کو اپنے تمام جائز و ناجائز مطالبات کو سننے، کسی نہ کسی حد تک ماننے اور یوں تحریک لبیک کی حیثیت و قوت کو تسلیم کرنے پر بھی مجبور کروا چکے ہیں۔

ابتدائی سیاسی اہداف کو کامیابی سے حاصل کر لینے والے خادم رضوی اب پابندِ سلاسل ہیں۔ کیا یہ گرفتاری خادم رضوی کی بڑھتی مقبولیت، قوت اور ہیبت کا زور توڑ دے گی؟ یا پھر ان کو مزید بڑا لیڈر بنا دے گی؟

میر یاد آ گئے

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

کسی نومولود سیاسی جماعت اور اس کے رہنماء سے ڈیل کرنا پُل صراط پر چلنے کے مترادف ہوتا ہے۔ وہ شعبدہ بازیاں دکھاتا ہے، تماش بین اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر حکومتِ وقت تماشے کو طاقت کا مظاہرہ سمجھ کر ڈر جائے اور جواباً اس پر ریاست کی قوت سے حملہ آور ہو جائے تو کچھ لوگ انسانی ہمدردی کے تحت، کچھ غصے میں آ کر اور کچھ ایک نئی ابھرتی جماعت کو اپنے لیے ایک نیا موقع سمجھ کر اس میں بروقت جگہ بنانے اور اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی لالچ میں اس جماعت اور اس کے رہنماء کے ساتھ جا کھڑے ہوتے ہیں۔ طاہر القادری اور ان کی جماعت کو چند سال پہلے تک کوئی جانتا تک نہیں تھا۔ حالانکہ وہ ایک بار الیکشن لڑ اور جیت چکے تھے، کئی بار سیاسی تحریکیں چلانے کی کوششیں کر چکے تھے، کئی لمبی لمبی تقریریں کر چکے تھے، شریف خاندان اور ملک کے مجموعی سیاسی نظام کو اپنے علم و دلائل کی مدد سے بار بار غلط ثابت کر چکے تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ قومی سیاسی افق پر کہیں نہیں تھے۔ لیکن ماڈل ٹاؤن اور ڈی چوک میں ریاست نے ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے انہیں ملک گیر شہرت عطا کر دی، اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے دھڑے کا شمار ملک کے بڑے پریشر گروپس میں ہونے لگا۔

شیخ مجیب کے خلاف ریاستی مشینری حرکت میں آئی تو بات اتنی پھیلی کہ سرحدیں عبور کر گئی۔ اور وہ مشتعل کارکنان کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر اور سرحد پار سے ملنے والی حمایت کی مدد سے وہ کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ جو شاید خود ان کے مقاصد سے بھی کہیں بڑھ کر تھا۔ نواب اکبر بگٹی کے خلاف طاقت کا استعمال پورے بلوچستان میں تشدد کی ایک ایسی لہر پیدا کر چکا ہے کہ جسے سالہا سال کی کوششوں کے باوجود ہنوز ختم نہیں کیا جا سکا۔

نواز شریف نے اپنے دور میں اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہر حصے دار یا اسٹیک ہولڈر سے تصادم کی راہ اپنائی۔ پارلیمان سمیت سیاسی ڈائیلاگ کے ہر فورم کو نظرانداز کیا اور دھرنے دینے والوں سے لے کر انہیں کچھ دے دلا کے رخصت کرنے والوں تک، سب سے ایک ہی تقاضا کیا کہ وہ ان سے اپنی منوانے کا خیال چھوڑ کر صرف ان کی مانیں۔ خدا معلوم نواز شریف کے ذہن میں یہ خیال کیوں راسخ ہو گیا تھا کہ صرف اور صرف وہ درست سوچ رکھتے ہیں اور حتمی اتھارٹی ہیں، سب کو ان کی لائن پر چلنا چاہئے۔ اور یہ کہ جو نہیں چلے گا اسے وہ اپنے موٹو گینگ کی مدد سے اڑا کر رکھ دیں گے۔ اور ہر جنگ کو ان کے مولا جٹ باآسانی محض بڑھکیں مار کر جیت لیں گے۔

لیکن ان کا یہ خیال، خیالِ خام ثابت ہوا جو کہ عین فطری تھا۔ جب ستر سال سے پورا طبقہ اشرافیہ مل کر اس ملک کو لوٹ رہا ہے تو اب یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ صرف اور صرف ن لیگی اشرافیہ اس ملک کے سیاہ و سفید کی مالک ہو جاتی، اور باقی سارے گدھ اس ارض پاک کے نیم جان وجود کو اچانک بھنبھوڑنا بند کرکے گوشہ نشین ہو جاتے۔ جب کل تک ’’ونڈ کھاؤ کھنڈ کھاؤ‘‘ کی حکمت عملی چل رہی تھی تو پھر نجانے اچانک نواز شریف ’’ونڈ‘‘ کے یکسر خلاف کیوں ہو گئے۔

بہرحال! اب آتے ہیں مختصر سے عہد عمران کی طرف۔ صرف خادم رضوی ایپیسوڈ ہی کو دیکھیں۔ وہی طاقت کا استعمال، وہی صرف اپنی منوانے کی ضد، وہی ڈائیلاگ سے دوری کی عادت۔ حکمران بدل گئے، طرز حکمرانی نہ بدلا۔ یہ ٹھیک ہے کہ خادم رضوی ایک سخت اور ضدی مزاج رہنماء کے طور پر سامنے آئے ہیں اور ان سے مذاکرات کرنا، انہیں کسی حل پر آمادہ کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ لیکن وہ سیاستدان ہی کیا جو ڈائیلاگ سے ڈرتا ہو؟

اگر علامہ خادم رضوی باہر ہوتے تو شاید ابتک وہ مزید دو چار دھرنے دے چکے ہوتے۔ لیکن آخر انہیں بغیر کسی بڑے جرم کے محض ایک اشتعالی تقریر کی پاداش میں کب تک مقید رکھا جا سکتا ہے؟ اور وہ بھی بغیر باقاعدہ مقدمہ چلائے؟ کیا حکومت یہ چاہتی ہے کہ علامہ صاحب پیشی بھگتنے ہر ہفتے عدالت آیا کریں؟ ان کے استقبال کےلیے کارکنان آیا کریں؟ پولیس اور کارکنان میں تصادم ہوا کرے؟ سڑکیں بند ہوا کریں اور تحریک لبیک بتدریج مزید مقبول ہوتی جائے اور لوگوں کے دل و دماغ میں اس کی مظلومیت کا تاثر بیٹھتا چلا جائے؟

آخر کب تک ہمارے حکمران اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور انا کی تسکین کےلیے مخالفوں کیخلاف جارحانہ اقدامات کرکر کے بونوں کا قد بڑا کرتے رہیں گے اور عطائیوں کو لیڈر بناتے رہیں گے؟ مخالف کی قید ڈنگ ٹپاؤ پالیسی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ لوگ سب کچھ دلوں اور دماغوں کے نہاں خانوں میں ڈالتے جائیں گے، اور پانچ سال بعد الیکشن آنے تک حالات ایسے ہو چکے ہوں گے کہ عوام سے لے کر مخالف جماعتوں اور ریاستی اداروں تک سب طاقت، زور زبردستی اور وقت گزاری کی پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہوں گے؛ اور غصہ بیلٹ پیپر پر نکلے گا۔ چنانچہ مسئلے مشکل ہوں یا آسان، بڑے لیڈر آگے بڑھ کر انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یوٹرن لے کر طاقت کے استعمال کی آغوش میں پناہ نہیں لیتے۔

ہمارے بہت سے دائیں بازو کے دوست علامہ خادم رضوی اور ان کے حواریوں کی گرفتاریوں کے تناظر میں عمران خان پر یہودی ایجنٹ ہونے کا اپنا پرانا اور گھسا پٹا الزام پھر سے لگا رہے ہیں۔ جبکہ بہت سے بائیں بازو کے دوست چیئرنگ کراس دھرنے کے دوران پہلے دبنگ تقریر کرنے اور پھر یوٹرن لے کر معاہدہ کر لینے کی حکمت عملی اپنانے پر وزیر اعظم کو طالبان خان قرار دینے کا پرانا اور گھسا پٹا الزام پھر سے لگا رہے ہیں۔ جبکہ ایک عام آدمی مذہبی انتہاء پسندوں، بالخصوص پنجاب کے مذہبی انتہاء پسندوں کے متعلق ابھی تک حکومت کے کسی بھی دوٹوک فیصلے کے انتظار میں ہے۔

اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ خادم رضوی اور ان جیسے دیگر مذہبی سیاسی دھڑوں کو مذاکرات کے ذریعے مستقل مطمئن رکھنا ناممکن ہے، اور ان کی ’’ڈو مور‘‘ کی تکرار کبھی ختم نہیں ہو سکتی تو پھر سب سے پہلے اسے اس سوال کا جواب سوچنا ہو گا کہ کیا پنجاب میں مذہبی شدت پسندوں کے خلاف کوئی آپریشن شروع ہو سکتا ہے؟ اگر ہاں تو یہ آپریشن کون کرے گا اور کب کرے گا؟ اور اس کا ہدف کون کون سی جماعتیں یا افراد یا گروہ ہوں گے؟ اور یہ کس پیمانے پر ہو گا؟ اور اگر نہیں تو کیوں؟ اگر بلوچستان اور سندھ کے قوم پرستوں اور پختونخوا کے مذہبی انتہاء پسندوں کیخلاف آپریشن در آپریشن ہو سکتے ہیں، تو پھر پنجاب میں کیوں نہیں ہو سکتے؟

اس کی آنکھیں سوال کرتی ہیں
میری ہمت جواب دیتی ہے

اگر عمران خان خود کو نواز شریف سے مختلف اور بڑا لیڈر سمجھتے ہیں تو پھر کم از کم اس معاملے میں ان کی اپروچ نواز شریف کی اپروچ سے بالکل مختلف نظر آنی چاہئے۔ انہیں دیگر مسائل کی طرح اس مسئلے کے بھی مستقل حل کی طرف پیش قدمی کرنا ہو گی اور بروقت کرنا ہوگی۔ کیونکہ سیلاب کا ریلا جیسے جیسے پُل کے نیچے سے گزرتا جائے گا، ویسے ویسے اسے کمزور کرتا جائے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ عمران خان تمام اداروں اور پنجاب کے مسلح و غیرمسلح جتھوں کو ایک میز پر بٹھائیں اور سب کو آئندہ زندگی کےلیے کسی ایک ضابطے کا پابند بنانے کی کوشش کریں۔ بالکل ویسے ہی جیسے افغان حکومت اور طالبان دوحہ سے لے کر ماسکو تک ایک میز کے گرد بیٹھ کر اپنے ملک کو چلانے کا مشترکہ فارمولا تلاش کرنے کےلیے کوشاں ہیں۔

اگر ٹھنڈے دماغ سے غور کریں تو ایف اے ٹی ایف سے لے کر دھرنوں تک اور اقلیتوں سے سلوک کے حوالے سے امریکی بلیک لسٹ سے لے کر پڑوسی ممالک کے متعدد الزامات تک ہمارے کئی مسائل کا حل اسی گول میز کانفرنس میں مضمر ہے۔ اور اگر ایسا نہیں کرنا اور ہمیشہ کی طرح غیردانشمندی سے اس مسئلے کا حل بھی بزور شمشیر ہی نکالنے کی کوشش کرنی ہے تو آخر کب؟ اور مزید کتنے بگاڑ پیدا کرکے؟

خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
یہ تماشا اب سرِبازار ہونا چاہئے
(ظفر اقبال)

ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب اولاد ہونا چاہئے
(عطا الحق قاسمی)

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سلمان نثار شیخ

سلمان نثار شیخ

بلاگر قلمکار، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔