عرفان کے قتل میں ملوث پولیس اہلکار تاحال گرفتار نہ ہوسکا

اسٹاف رپورٹر  پير 8 جولائ 2013
گھر کے باہر چار پائی ڈال کر بیٹھنے پرشفیع نے عرفان کو گولیاں ماری تھیں۔ فوٹو: فائل

گھر کے باہر چار پائی ڈال کر بیٹھنے پرشفیع نے عرفان کو گولیاں ماری تھیں۔ فوٹو: فائل

کراچی: پولیس حکام کا قتل کی واردات میں ملوث ملزم کو گرفتار کرنے کیلیے دیے جانے والا 36 گھنٹے الٹی میٹم جھوٹا ثابت ہوا۔

10روز گزر جانے کے باوجود ہزارہ کالونی کے رہائشی محمد عرفان کے قتل میں ملوث ملزم پولیس اہلکار گرفتار نہ کیا جا سکا،12جون کو ہزارہ کالونی میں گھر کے باہر چار پائی ڈال کر بیٹھنے کے تنازع پر ملزم پولیس اہلکار شفیع نے فائرنگ کر کے نجی کمپنی کے ڈرائیور23سالہ محمد عرفان ولد خان محمد زخمی کردیا تھا، عرفان 16روز تک موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد 28 جون کو دوران علاج دم توڑ گیا تھا،عرفان کے اہلخانہ اور علاقہ مکینوں کی جانب سے 28 جون کو کورنگی روڈ کالا پل پر میت رکھ کر پر امن احتجاج کیا گیا تھا،ڈویژنل ایس پی کلفٹن سر فرار نواز ملزم شفیع کو گرفتار کر نے کیلیے36 گھنٹے الٹی میٹم دیا تھا ،ایس پی کلفٹن کا الٹی میٹم جھوٹا ثابت ہوا اور عرفان کے قتل میں ملزم تاحال گرفتار نہ کیا جا سکا۔

محمد عرفان کے اہلخانہ نے بتایا کہ مقتول عرفان گھر کا واحد کفیل تھا، عرفان کے والد کا5سال قبل انتقال ہو چکا ہے، واقعے کے روز علاقے میں بجلی نہیں تھی اور عرفان گھر کے باہر چار پائی پر سو رہا تھا، اسی دوران ان کے پڑوس میں رہائشی پولیس اہلکار شفیع گھر سے نکلا اور اس نے ان کے گھر کے مرکزی دروازے پر چارپائی ڈال دی اور فون کر کے اپنے ساتھیوں کو بلا لیااور عرفان کو سوتے ہوئے اٹھادیا اور اس سے جھگڑا شروع کردیا اور فائرنگ کر کے عرفان کو زخمی کردیا، انھوں نے کہا عرفان تو چلا گیا لیکن اب وہ صرف اور صرف انصاف چاہتے ہیں، انھوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عرفان کے قتل میں ملوث ملزم کو فوری گرفتار کیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔