نوابشاہ:سابق رکن سندھ اسمبلی پرمسجدمیں فائرنگ،شدیدزخمی

نامہ نگار  بدھ 22 اگست 2012
رحیم بخش جمالی اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے،وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کا اظہار مذمت۔ فوٹو: فائل

رحیم بخش جمالی اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے،وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کا اظہار مذمت۔ فوٹو: فائل

نواب شاہ: جامع مسجد میں اعتکاف میں بیٹھے پیپلزپارٹی کے سابق رکن سندھ اسمبلی وسابق صدر نواب شاہ رحیم بخش جمالی نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے شدیدزخمی ہوگئے جس کی حالت نازک ہے ،حملے کی اطلاع پر جمالی قبیلے کے افراداوروکلا کی بڑی تعداداسپتال پہنچ گئی،دوحملہ آوروں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیاگیاہے۔

تفصیلات کے مطابق اتوارکی صبح کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کی جامع مسجد میں 4نامعلوم دہشت گردوں نے داخل ہو کرنواب شاہ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدروسابق ایم پی اے رحیم بخش جمالی پرفائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے حملہ آورفائرنگ کرنے کے بعد فرار ہوگئے۔ رحیم بخش جمالی کوجامع مسجدکے پیش امام اور دیگرفوری طور پر قریبی نجی اسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے ہنگامی بنیادوں پرآپریشن کرکے گولیاں نکال دیں تاہم ان کی حالت تشویشناک ہے اورنہیں آئی سی یو میں رکھاگیاہے۔

دوسری جانب ڈی ایس پی سٹی اعجاز میمن نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ دہشت گردی نہیں ہے بلکہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے اور2حملہ آوروں کو فرار ہوتے ہوتے گوٹھ پلیو مگسی سے گرفتار کر لیا گیاہے۔ رحیم بخش جمالی 1988میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر نواب شاہ کی شہری نشست پی ایس 24سے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار ادریس بھٹی کو شکست دے کررکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے وہ پیپلز پارٹی کے ضلعی جنرل سیکریٹری بھی رہے۔جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں قید وبندکی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔

ان کا شمارپیپلز پارٹی کے جیالوں میں ہوتا ہے،بعد میں اختلافات ہو جانے پر پیپلز پارٹی شہیدبھٹومیں شمولیت اختیار کی تھی وہ نواب شاہ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق رحیم بخش جمالی نے اسپتال میں زخمی حالت میں حملہ آوروں کی شناخت کی اور نام بتائے اورپولیس کوبیان بھی دیاکہ تین اہم شخصیات قتل کراناچاہتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔