سوشل میڈیا : تفریح کا سامان ہی نہیں، مشکل میں مدد کا بھی امکان

ثناء غوری  پير 8 جولائ 2013
جب سماجی ویب سائٹس بُرے وقت میں کام آئیں، کسی کی جان بچائی، کسی کو راہ سجھائی، کچھ واقعات ۔ فوٹو : فائل

جب سماجی ویب سائٹس بُرے وقت میں کام آئیں، کسی کی جان بچائی، کسی کو راہ سجھائی، کچھ واقعات ۔ فوٹو : فائل

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو عموماً محض لطف اندوزی کا سامان سمجھا جاتا ہے۔

بہت سے لوگ تو ان کے استعمال کو وقت کا زیاں بھی گردانتے ہیں۔ تفریحی پہلو اپنی جگہ مگر یہ سائٹس اپنی افادیت بھی رکھتی ہیں۔ ان کے ذریعے رابطے کی سہولت کبھی کبھار کسی نقصان سے محفوظ رکھنے کے ساتھ جان بھی بچا لیتی ہے۔ یہاں ہم کچھ ایسے ہی واقعات پیش کر رہے ہیں:

٭ یہ مارچ 2009 کا واقعہ ہے۔ 29 سالہ روب ولیمز اور جیسن ٹیریوا سوئس لینڈ میں پہاڑی سلسلے الپس میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسکیٹنگ کررہے تھے۔ اچانک برفانی طوفان آیا اور وہ اپنے گروپ سے بچھڑ گئے۔ ان کے گروپ کے ایک رُکن نے ٹوئٹر استعمال کرکے اپنے ان بچھڑ جانے والے ساتھیوں کے موبائل نمبر حاصل کیے اور انھیں کال کی۔ گروپ کا ٹیریوا سے رابطہ ہوگیا۔ اس رابطہ کار نے اسے گوگل میپ ایپلیکیشن کی مدد سے راہ نمائی کی۔ بدقسمتی سے ولیمز ایک66 فٹ بلند چٹان سے گر کر جان کی بازی ہار گیا، لیکن ٹیریوا کی جان بچ گئی۔

٭ جولائی 2010میں سائیکلنگ کے ایک مقابلے میں Leigh Fazzina نامی خاتون سائیکلسٹ کی سائیکل درخت سے ٹکراگئی اور وہ اچھل کر دور جاگری۔ وہ دیگر ساتھی سائیکلسٹس سے جدا ہوچکی تھی اور اس قدر زخمی تھی کہ اس کے لیے چلنا ناممکن ہوگیا تھا۔ اس نے رابطے کے لیے موبائل استعمال کرنے کی کوشش کی، مگر سگنل نہ مل سکے۔ پھر اسے ٹوئٹر استعمال کرنے کا خیال آیا۔ اس نے ٹوئٹ کیا،’’میں شدید زخمی ہوں، مجھے مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ ٹوئٹر پر چھے لوگ اس کی مدد کے لیے آگئے آئے اور چند منٹ کے اندر اسے بچانے کے لیے ایمبولینس پہنچ گئی۔

٭ یہ واقعہ 2009 میں برطانیہ میں پیش آیا۔ برطانیہ کے شہر آکسفورڈ شائر میں رہائش پذیر ایک 16سالہ لڑکا رات گئے فیس بُک پر آن لائن ہوا اور اس نے امریکا میں مقیم اپنی ایک ایف بی فرینڈ کو پرائیویٹ میسیج کیا کہ وہ خودکشی کرنے جا رہا ہے۔ لڑکی نے یہ بات اپنی ماں کو بتائی، جس نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے فوری طور پر امریکا میں برطانیہ کے سفارت خانے سے رابطہ کیا۔ برطانیہ میں متعلقہ اتھارٹی کے اہل کاروں نے اس لڑکے کو تلاش کرنا شروع کردیا۔ ہوتے ہوتے یہ تلاش آکسفورڈ شائر کے آٹھ گھروں تک محدود ہوگئی۔ آخر کار خودکشی پر مصر لڑکے کو ڈھونڈھ نکالا گیا۔ وہ اس وقت منشیات کی بھاری خوراک استعمال کرنے کے باعث نشے میں دُھت تھا۔ بعدازاں اسپتال میں اس کا علاج کیا گیا اور وہ مکمل طور پر صحت یاب ہوگیا۔

٭ Dave Cormierاور Bonnie Stewart اپنی نوجوان بیٹی کے ساتھ کینیڈا کے علاقے New Brunswick میں ہائیکنگ (تفریح کی غرض سے پیدل طویل سفر) پر تھے۔ سرراہ ان کی بیٹی نے بیر جیسا ایک پھل کھایا، جسے وہ پہچان نہ سکے۔ چھٹی حس کے تحت انھوں نے اس پھل کی تصویر اتاری اور اسے ٹوئٹر پر یہ جاننے کے لیے پوسٹ کردیا کہ اس پھل کے اثرات کہیں مضر تو نہیں؟ آخر ایک ری ٹوئٹ کے ذریعے انھیں پتا چلا کہ یہ ایک زہریلا پھل ہے۔ انھوں نے قریب ترین اسپتال کو اطلاع دی، جس کے اسٹاف نے آکر ان کی بیٹی کو لے گیا اور اس کی جان بچ گئی۔

٭ بائیس سالہIona Stratton اپنی پیدائش ہی سے خون کے سرطان میں مبتلا تھی۔ اپنے چینی اور برطانوی مخلوط پس منظر کے باعث اس کا خاندان اس کے لیے کوئی ایسا ’’بون میرو‘‘ عطیہ کرنے والا تلاش نہیں کرپایا تھا، جس کا بون میرو، لونا کے خون سے میچ کرسکے۔ اکتوبر 2008 میں لونا کے والدین نے فیس بُک پر اس سلسلے میں اپیل پوسٹ کی، جس کے بعد دنیا بھر سے 5 ہزار500 افراد نے اس اپیل کو آگے بڑھایا۔ بالآخر آسٹریلیا سے لونا کے میچ کا بون میرو مل گیا۔ مگر بدقسمتی سے لونا آپریشن کے دو ہفتے بعد چل بسی لیکن سماجی رابطے کے ذریعے جان بچانے کی کوشش رقم ہوگئی۔

٭ اس رات ٹینا کیس فیس بُک پر تھی جب اس نے اپنے ایک دوست کی پوسٹ دیکھی، جو اس سے چالیس میل دور مقیم تھا۔ اس کے دوست نے لکھا تھا،’’براہِ مہربانی کوئی میرے لیے 911 (ایمرجینسی نمبر) پر کال کردے۔ میرا فون کام نہیں کر رہا اور میرے خیال میں کوئی میرے گھر میں گھس آیا ہے۔‘‘ یہ پوسٹ پڑھ کر کیس نے 911 پر کال کی اور اس بارے میں بتایا۔ پولیس نے جب کارروائی شروع کی تو پتا چلا کہ کیس کے دوست کی فون لائن ڈیڈ ہے، جس کے بعد پولیس اس شخص کے گھر پہنچ گئی۔ وہ خیریت سے تھا۔ پولیس نے یہ امکان ظاہر کیا کہ اس کے گھر میں موجود شخص پولیس کو آتا دیکھ کر فرار ہوگیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔