نجی شعبے کی پہلی فریٹ ٹرین؛ امپورٹر ایکسپورٹر خوش، ٹرانسپورٹر پریشان

احتشام مفتی  بدھ 26 دسمبر 2018
ریلوے کا یہ قدم ہمارا معاشی قتل ہے، کنٹینر بزنس 60 فیصد کم ہوجائے گا، گڈز ٹرانسپورٹرز
فوٹو : فائل

ریلوے کا یہ قدم ہمارا معاشی قتل ہے، کنٹینر بزنس 60 فیصد کم ہوجائے گا، گڈز ٹرانسپورٹرز فوٹو : فائل

 کراچی:  ملکی تاریخ میں نجی شعبے کی پہلی شیڈولڈ فریٹ ٹرین سے جہاں برآمد اور درآمدکنندگان خوش ہیں وہیں گڈز ٹرانسپورٹرز اسے اپنے کاروبار کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں تاجر کہتے ہیں کہ اس ٹرین سے لاگت بھی کم آئے گی اور وقت بھی بچے گا جبکہ ٹرانسپورٹرز کے مطابق ریلوے کے اس قدم سے ان کا 50 فیصد سے زائد کاروبار ختم ہوجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو کراچی سے نجی شعبے کی پہلی شیڈولڈ فریٹ ٹرین 80 کنٹینرز لے کر لاہور کے لیے روانہ ہوگئی ہے، اسی طرح اس فریٹ ٹرین نے کراچی اور ملک کی دیگر قومی شاہراہوں پر کم از کم 80 کنٹینربردارٹرکوں کا بوجھ کم کردیا ہے۔ اگر منصوبے کے مطابق کراچی سے پنجاب کے دیگر شہروں تک فریٹ ٹرینیں چلنا شروع ہوگئیں تو یہ درآمدی اور برآمدی شعبے کے لیے ایک انقلابی قدم ہوگا۔

ٹائیلز کے درآمدکنندہ درآمد کنندہ محمد چوہدری نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ٹرین سے ہمارا سامان زیادہ محفوظ ہوگا اور برقت بھی پہنچے گا اس کے علاوہ کرائے میں 30 سے 40 فیصد کا فائدہ مل رہا ہے۔

ایک اور درآمدکنندہ وقاص مجاہد نے بھی فریٹ ٹرین کو انتہائی مفید قرار دیا اور کہا کہ ریلوے نے طویل عرصے بعد کارگو بزنس میں واپس قدم رکھ دیا ہے، اس ٹرین سے ہم جتنے چاہیں کنٹینرز ایک ساتھ منگا سکتے ہیں۔ ہرسال فروری سے ستمبر تک سب سے زیادہ الیکٹرونکس مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں، اس کے علاوہ گاڑیوں کی محفوظ ترسیل بھی ممکن ہوگی لیکن اس کے لیے فریٹ ٹرین کے معیار، وقت اور سروسز کو برقرار رکھنا ہوگا تاکہ تاجروں اور صنعتکاروں کا اعتماد مزید بڑھ سکے۔

کراچی چیمبر کے صدر جنید ماکڈا نے ایکپسریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فریٹ ٹرین سے آلودگی کے ساتھ شہروں کی ٹریفک میں بھی کمی آئے گی، ریلویز کو کارگو کی ترسیل کے لیے اپنا کردار مزید بڑھانا ہوگا تاکہ تجارتی سہولتوں میں بہتری آسکے، نجی شعبے کی شمولیت سے ریلوے کی کارکردگی خراب ہونے کا اندیشہ بھی کم ہوگیا ہے۔ دوسری جانب فریٹ ٹرین سے جہاں درآمدو برآمدکنندگان خوش ہیں تو وہیں ٹرانسپورٹرز نے اسے اپنے کاروبار کے لیے ایک خطرہ قرار دیا ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹر امداد حسین کے مطابق ریلوے کا یہ قدم ہمارے معاشی قتل کے برابر ہے، فریٹ ٹرین سے ہمارا کنٹینرز بزنس 60 فیصد کم ہوجائے گا، ٹرانسپورٹرز پہلے ہی بھاری ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے جبکہ ریلوے کو بہت سی آسانیاں میسر ہیں اس لیے گڈز سیکٹر کاروبار میں ریلوے کا مقابلہ نہیں کرسکتا، حکومت نے یکساں کاروباری مواقع تو فراہم نہیں کیے بلکہ فریٹ ٹرین چلاکر ہمارے کاروبار کی موت کے پروانے پر دستخط کردیے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔