ریلوے اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے پر پابندی

محمد ہارون  جمعرات 27 دسمبر 2018
لاہور میں ریلوے کی اراضی پر واقع رائل پام کلب کی انتظامیہ تحلیل کردی گئی، آڈٹ کمپنی نئی انتظامیہ مقرر فوٹو:فائل

لاہور میں ریلوے کی اراضی پر واقع رائل پام کلب کی انتظامیہ تحلیل کردی گئی، آڈٹ کمپنی نئی انتظامیہ مقرر فوٹو:فائل

 لاہور: سپریم کورٹ  نے ریلوے اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے پر پابندی لگاتے ہوئے رائل پام کلب کو عدالتی تحویل میں لے لیا۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے لاہور رجسٹری میں از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید اور رائل پام کلب انتظامیہ عدالت میں پیش ہوئی۔

عدالت نے لاہور کی کینال روڈ پر ریلوے کی اراضی پر واقع رائل پام کلب کی لیز تنازع کا حل نکال دیا۔ عدالت نے کلب کی انتظامیہ کو تحلیل کرتے ہوئے آڈٹ کمپنی کو نئی انتظامیہ مقرر کردیا اور واضح کیا کہ پرانی انتظامیہ رائل پام میں داخل نہیں ہوسکتی۔ عدالت نے آڈٹ کمپنی کو کلب کا تمام ریکارڈ فوری قبضے میں لینے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ کلب میں تمام پروگرام اور سرگرمیاں معمول کے مطابق چلیں گی، ریلوے سے متعلق کوئی بھی ریکارڈ کلب سے باہر نہیں جائے گا۔ سپریم کورٹ نے رائل پام سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے تمام احکامات بھی غیر موثر کرتے ہوئے کلب کے ہائیکورٹ میں زیر التواء تمام مقدمات بھی منگوالئے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ریلوے اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے پر پابندی لگا رہے ہیں۔عدالت نے ریلوے کی زرعی اراضی 3 سالہ مدت سے زائد لیز کیلئے دینے پر بھی پابندی عائد کردی۔ کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی گئی۔

واضح رہے کہ رائل پام کلب انتظامیہ کا ریلوے کے ساتھ لیز کی رقم نہ دینے پر تنازعہ چل رہا تھا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔