آخر کیوں؟…

نجمہ عالم  منگل 9 جولائ 2013

گزشتہ ہفتے ہماری بے حد چہیتی خالہ زاد بہن اچانک اپنے سفر آخرت پر روانہ ہوگئیں۔ ظاہر ہے دل کا جو حال ہوا سو ہوا۔ ذہنی کیفیت بھی بے ثباتی حیات کے اس اچانک حملے سے کچھ ایسی تھی کہ لکھنا لکھانا تو دور کی بات خود اپنے وجود پر بھی شک ہورہا تھا کہ یہ ہم سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں یا عالم خواب میں۔ مرحومہ گھر سے قریبی بازار رمضان کی تیاری کے لیے کچھ خریداری کرنے کی غرض سے گئیں اور کوئی پندرہ بیس منٹ بعد ان کی دس سالہ پوتی جو ان کے ساتھ تھی کا فون گھر پر آیا کہ ’’اماں بازار میں گر گئی ہیں‘‘ بہو یہ سن کر فوراً بازار پہنچی، بچی سے فون پر پوچھتی ہوئی کہ تم کہاں ہو، تقریباً دس منٹ میں وہ پہنچ گئی، فوراً انھیں لے کر سیدھی اسپتال گئی، ڈاکٹروں نے ان کو وقت ضایع کیے بنا وینٹی لیٹر لگادیا اور جو بھی ممکنہ کوششیں بچانے کی، کی جاسکتی تھیں کیں مگر محض چند گھنٹوں بعد وینٹی لیٹر ہٹا دیا گیا کیونکہ بقول ڈاکٹر کے وہ تو پہلے ختم ہوچکی تھیں، صرف تسلی کے لیے ایسا کیا گیا تھا۔ پورا خاندان انگشت بدنداں ہے کہ اگر وہ ذرا سا بھی محسوس کرتیں کہ ان کے ساتھ کچھ ٹھیک نہیں ہے تو بھلا گھر سے باہر جاتی ہی کیوں؟ مگر شاید فرشتہ اجل قدرت کی جانب سے مقرر کردہ جگہ پر تھا۔ بہرحال ہفتے بعد اب ذرا ذہن نے کام کرنا شروع کیا تو احساس ہوا کہ

کیا بھروسہ ہے زندگانی کا

آدمی بلبلہ ہے پانی کا

شہر قائد میں یوں بھی بلکہ پورے ہی ملک میں موت کا وحشیانہ رقص جاری ہے اور ایک دو نہیں بلکہ درجن بھر افراد ہر روز لقمہ اجل بن رہے ہیں ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں، ذاتی دشمنی کے علاوہ لوٹ مار، ڈکیتی اور قانون نافذ کرنے والوں کی تحویل میں تشدد میں بھی اموات روز کا معمول بن چکی ہیں، کتنے ہی افراد کی لاشیں کئی کئی ہفتے سردخانوں میں رکھی رہتی ہیں۔ موت اور زندگی کے درمیان چند منٹوں کے فاصلے نے مجھے یہ احساس شدت سے دلادیا کہ جب موت برحق ہے، ہم سب کا ایمان ہے کہ ایک نہ ایک دن اپنے نصیب کے مقرر کردہ عمل سے گزر کر بالآخر ہم سب کو مرنا ہے، یہ دنیا بھی فانی ہے ’’ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘‘ ۔۔۔۔۔ تو پھر ہم اس حقیقت کو دل و دماغ کی گہرائی سے تسلیم کیوں نہیں کرتے اسی لمحہ موجود میں؟ الحمدﷲ ہم مسلمان ہیں کیا صرف اس لیے کہ ہم نے کلمہ پڑھا ہے اور مسلم خاندان میں پیدا ہوئے ہیں، باقی رہا روز قیامت، روز حساب اور اﷲ تعالیٰ کا ہر جگہ ہر وقت حاضر و ناظر ہونا تو کیا ہم صدق دل سے اس پر ایمان رکھتے ہیں؟

رب العزت کا ہمارے حالات ہی نہیں حال دل بلکہ نیت سے بھی واقف ہونے پر ہمیں ذرا سا بھی یقین ہے۔۔۔۔ اگر ہوتا تو پھر یہ لوٹ مار، یہ چوری، ڈاکا زنی، یہ دہشت گردی، یہ قتل عام، یہ عبادت گاہوں کی، انسانیت کی بے حرمتی، یہ ہر ادارے میں بدعنوانی رشوت ستانی، لاکھوں بلکہ اربوں کے گھپلے، یہ جھوٹ، مکروفریب، ناپ تول میں کمی، غذا و دوا میں ملاوٹ جیسے سنگین جرائم میں پورا کا پورا معاشرہ ملوث ہوتا؟ اگر جھوٹ بولتے ہوئے ذرا سا بھی دل میں خیال آجائے کہ ہم سامنے والے کو اپنے جھوٹ اور فریب میں تو مبتلا کرلیں گے اور وہ ہمارا جھوٹ پکڑ بھی نہ سکے گا مگر کیا وہ جو دل کے بھید سے بھی واقف ہے ہم اس سے بھی اپنا جھوٹ چھپالیں گے؟ تو بھلا ہم جھوٹ بول سکتے ہیں ، کہا گیا ہے کہ ’’جھوٹ ہر گناہ کی بنیاد ہے‘‘ اوپر بیان کیے گئے تمام جرائم کی اصل جڑ جھوٹ ہے۔ساری ملکی سیاست جھوٹ پر مبنی ہے۔ اگر ہم صرف سچ بولنے کا عہد خود سے کرلیں تو ہم ان تمام گردابوں سے نکل سکتے ہیں۔ جو قوم مکمل طور پر ہر میدان ہر عمل میں بدعنوانی کا شکار ہوجائے اس کی اصلاح بظاہر تو تقریباً ناممکن ہے، مگر کوشش کی جائے اور راہ نجات نہ ملے یہ بھی ناممکن نہیں بلکہ میرا ایمان ہے غلط راستہ اختیار کرتے ہوئے ہر انسان ذرا مشکل سے تیار ہوتا ہے مگر راہ حق پر واپس آنا دشوار نہیں۔ کیونکہ اس مقصد کے لیے صرف خود سے عہد کرنا ہوتا ہے کہ آج کے بعد صرف سچ بولنا ہے اب راہ میں جو بھی مشکل آئے اس کو برداشت کرنا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ کیا واحد معاشرہ ہے جو بگڑ گیا ہے؟ عالمی تاریخ میں کئی ایسے معاشروں کے حوالے ملتے ہیں جو بگڑ کر سنور گئے، جو تباہی و بربادی (اخلاقی و معاشی) کے غار  سے دوبارہ نکلنے میں نہ صرف کامیاب ہوگئے بلکہ معاشی ترقی و خوشحالی کی مثال بن گئے۔۔۔۔۔ معاشرتی بیماریوں میں مبتلا کئی معاشروں اور قوموں کو ایسا مسیحا مل گیا جس نے ان کا علاج کیا اور وہ روبصحت ہوگئے۔ تو کیا ہم اپنے مستقبل سے کوئی امید وابستہ نہیں کرسکتے؟ ہم گزشتہ 65 سال سے اپنے مسیحا کی تلاش میں سرگرداں ہیں جو تاحال تو میسر نہیں ہوسکا مگر ناامیدی بھی کفر ہے اور شاید یہی امید ہے جو ہمیں بہتر مستقبل کے سنہرے خواب دکھا کر زندگی بسر کرنے پر آمادہ کرتی ہے وگرنہ تو ہم کب کے ختم ہوچکے ہوتے۔ بحیثیت قوم تو ہم پہلے ہی ختم ہوچکے ہیں۔ بے حسی ہماری رگ و پے میں سرائیت کرچکی ہے، احساس گناہ و ندامت ہمارے دلوں سے جاتا رہا ہے۔

ہمارے ملک کی جو معاشی، سیاسی، اخلاقی، دینی اور بین الاقوامی صورت حال ہے اس کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ ملک ہم نہیں بس اﷲ تعالیٰ ہی چلا رہے ہیں اور وہی اس کو قائم رکھے ہوئے ہیں ورنہ ہم نے تو اس کو ختم کرنے میں کچھ کسر نہ چھوڑی۔ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ وہ فرماتا ہے کہ جو مجھے بھول جاتے ہیں دولت دنیا کو خدا مان لیتے ہیں ان کی رسی دراز کرتا ہوں کیونکہ وہ میری حدود مملکت سے نکل کر کہیں جا نہیں سکتے اور پھر جب یہ رسی کھینچی جاتی ہے تو پوری قوم منہ کے بل گرتی ہے۔ وہ کتنی ہی قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا چکا ہے۔ کسی کو ناپ تول میں کمی کی پاداش میں کسی کو جھوٹ و فریب کی بناء پر تو کسی کو اخلاقی جرائم کے باعث۔ ایک ہم ہیں کہ وہ تمام خامیاں جن پر دوسری قوموں یا امتوں کو نیست و نابود کردیا گیا یا ان کو مسخ کردیا گیا وہ سب ہم میں بیک وقت موجود ہیں مگر وہ رب کریم ہم پر ابھی بھی مہربان ہے کہ ہم اس کے محبوب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ابھی وقت ہے کہ ہم اپنے رویے بدل لیں گناہ، مکروفریب سے توبہ کرلیں، توبہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔

عذاب نازل ہو نہ ہو موت تو بہر حال جلد ہی سب کو آجاتی ہے پھر آخر ہم نے دولت کو اپنا خدا کیوں بنا لیا ہے اور اس کے حصول کے لیے جائز و ناجائز کی فکر سے آزاد ہوکر کسی کی جان لینے تک سے دریغ نہیں کرتے؟ تو کیا ہم جب یہاں سے جائیں گے تو یہ دولت ہمیں روک لے گی؟ کیا ہمارے ساتھ جاکر ہمیں عذاب آخرت سے بچالے گی؟ہمارے ساتھ تو صرف وہ اعمال جائیں گے جو ہم نے اس مختصر سی زندگی میں انجام دیے ہوں گے، کتنوں کو لوٹا، کتنوں کی جان لی، قتل، شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے جو ہر روز ہورہا ہے بلکہ فرض سمجھ کر کیا جارہا ہے، کیا یہ دولت ہماری بخشش کروا دے گی؟ کیا کبھی کسی سیٹھ ساہوکار نے، کسی صدر یا وزیر اعظم نے کسی صنعت کار یا تاجر نے کسی اسمگلر اور چور بازاری کے مرتکب نے، قوم کی دولت لوٹ کر غیر ملکی بینک بھرنے اور جائیداد بنانے والے نے بلکہ کسی شہنشاہ اعظم نے اپنے چہیتے والدین، بہن بھائی، بیوی یا بیٹی کو کئی کلو سونے کے زیورات اور اطلس و کمخواب کے کفن پہنا کر سپرد لحد کیا ہے؟ ہر طرح کا جائز و ناجائز سرمایہ، دولت اسی دنیا میں رہ جاتا ہے ۔ آخر میں سب کو ایک سا کفن اور قبر کا گوشہ ہی نصیب ہوتا ہے۔ اور اس منزل سے آگے صرف اپنے اچھے برے اعمال کے ذریعے ہی سفر طے ہوتا ہے۔ تو پھر آخر ہم کیوں دولت کی اس دوڑ میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔۔آخر کیوں؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔