مریضوں پر اسپتال میں کیا گزری

ڈاکٹر محمد عثمان  جمعرات 3 جنوری 2019
 اربابِ اختیار سے گذارش ہے کہ صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ

اربابِ اختیار سے گذارش ہے کہ صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دیں۔ فوٹو: انٹرنیٹ

ربیعہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی ۔ عید کے پُر مسرت روز ان کا گھر آہ و بکا کا منظر بن گیا جب اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے تین سالہ ربیعہ چھت سے گر پڑی۔ گھر میں ایک کہرام مچ گیا، گھر کی خواتین نے چیخ و پکار شروع کر دی مگر مرد حضرات نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے اس کو گاڑی میں نزدیکی ہسپتال لے گئے۔ ایک تو یہ علاقائی ہسپتال بنیادی سہولیات سے آراستہ نہیں تھا، اوپر سے عید کی وجہ سے ہسپتال میں عملہ بھی محدود تھا۔ اس لئے ڈاکٹرز نے حالات بھانپتے ہوئے اسے فوراً لاہور ریفر کر دیا۔

بھاگم بھاگ چھ ہزار روپے میں ایمبولینس بُک کروائی اور چار گھنٹے کی طویل مسافت کے بعد لاہور کے سرکاری ہسپتال پہنچے تو یہاں منظر ہی الگ تھا، گویا پورا شہر اسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں اُمڈ آیا ہو۔ بچی کے ساتھ آئے تین مرد حضرات اور دو خواتین کا اضطراب عروج پر تھا۔ ان کی کل کائنات وہ بچی تھی جو زندگی موت کی کشمکش میں تھی، لیکن ڈاکٹرز اور نرسز کے لئے وہ درجنوں مریضوں کی طرح ایک اور مریضہ تھی۔

صرف رش کی وجہ سے ڈاکٹرز کے اٹینڈ کرنے سے لے کر دوائیں لانے، ٹیسٹ کروانے، ان کی رپورٹس آنے تک ہر کام میں اس قدر غیر ضروری تاخیر ہوتی چلی گئی کہ گھر والوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اسی اثناء میں ایک گارڈ نے ان کو وارڈ کے اندر جانے سے روکا۔ دونوں طرف سے توتکار ہوئی اور بچی کے ساتھ تیماردار گارڈ پر ٹوٹ پڑے۔ بیچ بچاؤ کے لئے ڈاکٹرز اور دوسرا عملہ بھی شامل ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایمرجنسی وارڈ میدانِ جنگ بن گیا۔ چند منٹ میں طوفانِ بدتمیزی تو تھم گیا لیکن اس دوران بچی کی حالت مزید ابتر ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے بچی نے ماں کی گود میں جان دے دی۔

ربیعہ کے گھر والوں کا غم و غصہ اپنی حدوں کو چھو گیا، انہوں نے ہسپتال کے شیشے توڑ دئیے، اس گارڈ کو پھر سے عتاب کانشانہ بنایا اور بچی کی میت کو لے کر بآوازِ بلند ڈاکٹرز، نرسز اور تمام عملہ کو نازیبا الفاظ بولتے ہوئے ہسپتال سے چلے گئے۔ واپسی کاایک لمبا سفر اُن کا منتظر تھا، جبکہ اسپتال کی بدترین یادیں ایک طویل عرصے تک ان کی زندگی کا حصہ بننے جا رہی تھیں۔ ہسپتال کی فضا کچھ دیر کے لیے سوگوار رہی اور کچھ دیر کے بعد ماحول ایسا ہو گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

اس واقعے سے بظاہر ملتا جلتا مگر در حقیقت قدرے مختلف اندرون لاہور کے ہسپتال میں پیش آیا۔ غفور میٹرک پاس مگر اپنے علاقے میں سیاسی اثرو رسوخ والا آدمی تھا۔ اپنی بیگم کے سردرد کی شکایت کے ساتھ وہ علاقائی ہسپتال میں گیا۔ ڈیوٹی ڈاکٹر ایمرجنسی میں کچھ مریضوں کو دیکھنے میں مصروف تھا۔ غفور نے ڈاکٹر کو متوجہ کیا اور مسئلہ بتایا لیکن ڈاکٹر نے خاص توجہ نہیں دی اور انتظار کا کہا؛ کیونکہ وہ اس سے کہیں زیادہ بیمار مریض دیکھ رہا تھا۔ غفور نے اپنی سیاسی قوت دکھاتے ہوئے اپنے علاقے کے ناظم کا حوالہ دیا۔ ڈاکٹر اس بات سے طیش میں آگیا اور سخت الفاظ استعمال کئے۔ غفور صاحب نے نہ صرف ترکی بہ ترکی جواب دیا بلکہ اپنی بیگم کی بیماری پسِ پشت رکھ کر فون کال کی اور پانچ چھ محلہ داروں کو بھی بلا لیا۔ ہسپتال کی کمزور سیکورٹی کو توڑتے ہوئے نصف درجن افراد نے ڈاکٹر کو گریبان سے پکڑ لیا۔ انتظامیہ کے بروقت بیچ بچاؤ سے بات رفع دفع ہو گئی۔ نصف گھنٹے تک بحث اور تلخ کلامی کے بعد بالآخر مریضہ کی بھی سنی گئی اور معمولی علاج کے بعد اس کو چھٹی دے دی گئی۔ غصہ ٹھنڈا ہونے پرغفور صاحب نے ڈیوٹی ڈاکٹر سے معذرت کی اور اس حادثے کا خاتمہ بالخیر ہوا۔ لیکن یہ حادثہ کہیں زیادہ سنجیدہ نوعیت کا بھی ہو سکتا تھا۔ یہ واقعہ بے شمار سوالات چھوڑ گیا، علاوہ ازیں یہ ہسپتال اور اس کے عملہ پر کلنک کا ٹیکہ اور دیگر مریضوں کی فرسٹریشن میں اضافے کا باعث بنا۔

تشدد اور جھگڑے کے ان گنت واقعات ہسپتالوں کی روزمرہ معمول کا حصہ ہیں، اور یہ کئی رُخ سے واقعات کی ترتیب بدل کر رونما ہو سکتے ہیں۔ ان پُر تشدد واقعات کی وجوہات کو کریدا جائے تو بہت سے ان کہے رازوں پر سے پردہ اُٹھ سکتا ہے جن کا کبھی کسی اوپن فورم پر بے باکی کے ساتھ تذکرہ نہیں کیا گیا۔ چند بنیادی وجوہات پر تبصرہ اور مختصر حل میں آنے والی سطور میں زیبِ قرطاس کروں گا۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کا ایک المیہ یہ ہے کہ بجٹ کا ایک خطیر حصہ ملکی دفاع میں لگا دیا جاتا ہے۔ دفاع ملک کی اہم ضرورت ہے اور اس میں بجٹ کا استعمال ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن اس سے جو شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے وہ صحت کا ہے۔ پاکستان میں کل ملکی بجٹ کا صرف2-3 فیصد حصہ صحت کے لئے مختص ہوتا ہے۔ اب اس میں سے کتنا حقیقی طور پر ہسپتالوں پر اور بیماریوں سے بچاؤ کی تدابیر میں استعمال ہوتا ہے، اور کتنا حصہ صاحب اقتدار کی جیبوں کی زینت بنتا ہے، یہ آج کا موضوع نہیں ۔ لیکن جو سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا عالم ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی اور زہر باد کی طرح پھیلتی ہوئی بیماریوں کے مقابلے میں ہسپتالوں کی تعداد کم ہے، سونے پہ سہاگہ ان میں سہولیات کا فقدان۔ راقم الحروف چلڈرن ہسپتال میں طبیب کے فرائض سر انجام دے رہا ہے ۔ جنوری تا دسمبر 2014 ایمر جنسی میں کل اڑھائی لاکھ اور او پی ڈی میں کل 5 لاکھ مریض زیر علاج آئے۔ اس کے برعکس صرف دو سالو ں میں حالات اس قدر بگڑ گئے ہیں کہ جنوری تا اکتوبر2016ء، غرض 10 ماہ میں ایمر جنسی میں 3 لاکھ اور او پی ڈی میں مریضوں کی تعداد 6 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اورنرسز کی کمی، لمبی اور تھکا دینے والی ڈیوٹیاں، ایک بستر پر 2,2 مریض اور بچو ں کے ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر 5,5 بچے ہوتے ہوئے مریضوں اور اُن کے تیمارداروں کا طیش میں آنا ایک فطری بات ہے۔ سہولیات کی کمی کے باوجود ہسپتالوں کا عملہ کام کی زیادتی کے دباؤ کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ایمرجنسی یا وارڈ میں 50 سے 70 مریضوں کے مقابل 1,2 ڈاکٹرز اور 2,3 نرسز نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ہر بڑے ہسپتال میں سنٹرل ICU موجود ہوتا ہے جس میں محدود Ventilators کی سہولت موجود ہوتی ہے، اور مقرر کردہ بیڈ سے زیادہ مریض داخل نہیں کئے جا سکتے۔ یہاں داخلے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ مریض کی بیماری کی نوعیت اور Stage ایسی ہو جہا ں ا س کو Ventilator کی سہولت ملنے پر جان بچنے اور جان بچنے کے بعد اچھا معیار زندگی گزارنے کے امکانات روشن ہوں۔ لیکن مریضوں کے جمِ غفیر کی وجہ سے بہت کم مریضوں کو یہاں داخلہ مل پاتا ہے، اور بقیہ مریضوں کے عزیز یہ تصور کرتے ہیں کہ سفارش نہ ہونے کی وجہ سے ان کا مریض ICU میں داخل نہیں ہو سکا۔ اتنے رش کی موجودگی میں تیمار داروں کی یہ اُمید کہ ان کے مریضوں کو خصوصی توجہ ملے، بعید الحقیقت ہے۔ چہ جائیکہ اگر اس دوران توجہ ملنے کے باوجود کوئی مریض خالقِ حقیقی سے جا ملے تو ان لوگوں کے دل میں یہی خیال اُمڈ آتا ہے کہ توجہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کے مریض کی موت واقع ہوئی۔

شعبہ صحت سے جڑے افراد یہ بات جانتے ہیں کہ ہسپتال میں علاج کی زبوں حالی کا ذمہ دار جس قدر بڑھتی ہوئی آبادی اور سہولیات کا عدم توازن ہے، اسی قدر انتظامی بد نظمی بھی ہے۔ اس کی ایک نظیر یہ ہے کہ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں سنیئر اور تجربے کار ڈاکٹرز نہ ہونے کے برابر حصہ ڈالتے ہیں۔ محض چیدہ چیدہ بڑے ہسپتالوں میں سنیئر رجسٹرار راؤنڈ کرتے ہیں اور اکثر و بیشتر ایمرجنسی کو جونیئر ڈاکٹرز کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے جونیئر ڈاکٹرز توانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور 90 فیصد مریضوں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتا کہ ان کا علاج ایمرجنسی میں جونیئر ڈاکٹر نے کیا یا سنیئر ڈاکٹر نے۔ لیکن بدقسمتی سے اگر مریض کے کسی سوال پر جونیئر ڈاکٹر اپنے سنیئر کا حوالہ دے دے تو مریض اور اُس کے تیمار داروں کی تمام تر امیدوں کا مرکز سنیئر ڈاکٹر بن جاتا ہے۔ اور اگر سنیئر سے ملاقات سے قبل ہی مریض جان کنی کی حالت پر پہنچ جائے تو گھر والے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں اور اس بات کا علم جانے بغیر کہ کیا سنیئر کی مداخلت سے علاج میں کوئی بہتری آنی تھی یا نہیں، وہ جونیئر ڈاکٹر سے ہی دست و گریباں ہوتے ہیں۔

جب تک حکومت طبی سہولیات میں بہتری نہیں لاتی اور طب سے تعلق رکھنے والے عملے کی تعداد کو نہیں بڑھاتی، ہم اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتے۔ صرف چیک اپ کے طریقہ کار اور ہسپتالوں کے ڈھانچے میں بہتری لا کر اس طرح کے واقعات میں کمی لانی چاہیے۔

اب مریض کے گھر والوں کے نامناسب رویے پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ جس طرح پانچوں اُنگلیاں برابر نہیں ہوتیں، اسی طرح سے ہسپتالوں کا رُخ بھی بھانت بھانت کے لوگ کرتے ہیں۔ اپنی قسمت کو دوش دے کر ہر غم پر خون کے گھونٹ بھرنے والے، ڈاکٹر کو مسیحا سمجھ کر اُس کے ہر اشارے کی تائید کرنے والے، اور حالات کی نزاکت سمجھے بغیر معمولی باتوں پر فساد برپا کرنے والے۔ بعدالذکر دو اقسام کے لوگ ہسپتال میں پُر تشدد کاروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ جن کا ذکر میں نے خصوصاً اپنی دوسری کہانی میں کیا۔ یہ ہسپتال کو اپنی جاگیر اور ڈاکٹرز کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔ ان سے مقابلہ کرنے کے لئے ڈاکٹرز اور نرسز کو اپنے مقام سے گر ناپڑتا ہے جو کہ عام طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ لوگ ہسپتال میں آتے ہیں اور اپنا من پسند اور فوری علاج نہ ہونے پر اُدھم مچاتے ہیں۔ خصوصاً سرکاری ہسپتالوں کا ایک اہم ترین مسئلہ ضرورت سے زیادہ تیمارداروں کی موجودگی ہے۔ اس سے نہ صرف جراثیم پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے، بلکہ یہ علاج میں بھی خطر ناک حد تک مداخلت کرتا ہے اور اس بات کو تیماردار سمجھ نہیں پاتے۔ طبی عملے کے سمجھانے کے باوجود لوگ مریض کا بستر نہیں چھوڑتے۔ اکثر و بیشتر 8 سے 10 گھر والے مریض کے گرد براجمان ہو جاتے ہیں، اور انہیں سمجھایا جائے تو کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ جس سے بدمزگی پیدا ہوتی ہے اور پُر تشد د واقعے کی بنیاد ڈلتی ہے۔

بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ ہسپتال ایک گنے کے رس کی مشین کی طرح ہے۔ یہاں ایک طرف سے مریض کو ڈالیں گے اور دفعتاً دوسری طرف سے وہ تندرست ہو کر نکلے گا۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ ہسپتال بھی ایک ادارے کی مانند ہے جہاں کے اپنے اصول و ضوابط ہیں۔ ہسپتال پاکستان کا ہو یا امریکہ اور انگلینڈ کا، بعض اوامر ایسے ہیں جن کا سمجھنا مریض کے بس کی بات نہیں، اسے ان باتوں میں سرِ تسلیم خم کر کے ہی چلنا پڑے گا۔

مثلاً بہت سے لوگ ایمرجنسی میں اپنے معمولی مسئلے کی صورت میں تشریف لے آتے ہیں جس کا علاج اصولاً OPD میں ہونا چاہیے، لیکن صرف قطار کے ڈر سے بہت سے مریض ایمرجنسی میں ڈاکٹرز کا وقت ضائع کرتے ہیں اور من چاہی توجہ نہ ملنے پر طیش میں آ کر متشدد ہوتے ہیں۔ سہولیات کے فقدان کی وجہ سے جہاں OPD میں علاج مشکل تر ہوتا چلا جا رہا ہے، وہیں یہ مریض شارٹ کٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سردرد یا نزلہ زکام کو لے کر ان ڈاکٹرز سے اپنا وقت مانگتے ہیں جو کہ دل کے دورے، فالج اور دیگر ہنگامی بیماریوں سے نبرد آزماہوتا ہے۔

مزید برآں، آدھی رات کے بعد ایسے معمولی مسائل کو لے کر بہت سے مریض سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی میں نمودار ہوتے ہیں۔ ایمرجنسی میں 12-12 اور 24-24 گھنٹے کی ڈیوٹیوں کے دوران یہ مریض ہسپتال کے عملے کے لئے دردِ سرسے کم مقام نہیں رکھتے۔ ڈاکٹرز اور نرسز بھی انسان ہیں، ان سے نمٹتے ہوئے وہ بھی اپنے غصے کو قابو میں نہیں رکھ سکتے اور عین ممکن ہے کہ سخت الفاظ منہ سے نکل جائیں جس سے جھگڑے کو ہوا ملے۔ مریضوں کے تیمارداروں کی تربیت ایک طویل عمل ہے، لیکن شارٹ ٹرم بنیادوں پر شوکت خانم ہسپتال کی طرح جگہ جگہ بورڈ لگا کر ان کو ہسپتالوں کے آداب سکھائے جائیں تو ان واقعات میں کمی آسکتی ہے۔

عام تاثر یہ ہے کہ اگر طبی عملہ اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے انجام دے تو ایسے واقعات کا مکمل تدارک ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ڈیوٹی بخوبی کرنے اور ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے کا کوئی تعلق نہیں۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر اپنے M.B.B.S میں 5 سال لگاتا ہے اور ایک نرس اپنی نرسنگ میں 4 سال کی ٹریننگ کرتی ہے، جب کہ میڈیکل Technician بھی 2سے3 سال کا کورس کرتے ہیں۔ لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ میڈیکل Ethics کی الف ب بھی نہیں جانتے۔ ڈاکٹرز کے کورس میں میڈیکل Ethics کی کوئی جگہ نہیں۔ Behavioral Sciences کے نام سے ایک مضمون ضرور ہے لیکن اس کی اہمیت خانہ پُری سے زیادہ کچھ نہیں؛ اور نہ اس میں اس طرح کے واقعات کو سنبھالنے کا گُر بتایا جاتا ہے۔

نرسنگ کے کورس میں میڈیکل Ethics تفصیلاً پڑھایا جاتا ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ اس کو عملی جامہ پہنانے پرچنداں توجہ نہیں دی جاتی۔ وارڈز میں موجود گارڈز کو تو سرے سے ہی ایسی تربیت نہیں دی جاتی جن کا واسطہ سب سے زیادہ تیمار داروں سے ہوتا ہے۔ میڈیکل کی سب سے چوٹی کی ڈگری FCPS کی ٹریننگ کے دوران Communication Skills نام کی 3 دن کی ورکشاپ کروائی جاتی ہے جو ٹریننگ کا لازمی جزو ہے۔ لیکن اس مختصر سی مشق کا اثر ڈاکٹرز پر ایک ہفتے سے زیادہ نہیں ٹکتا۔

ہمارے ڈاکٹرز ہمارے ملک کی شان ہیں، ہماری نرسیں ہماری بلند ہمت بہنیں ہیں، ہمارے ہسپتالوں کے دوسرے افراد (جن میں Technician ، Ward Boys ، Sweepers اور ایمبولینس ڈرائیورز آتے ہیں) ہمارے معاون ہیں، جن کے بغیر صحت کا نظام نہیں چل سکتا۔ ان کوپورا تحفظ دینا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ ان کا کام صرف کوشش کرنا ہے، شفاء بہرحال منجانب اللہ ہی ہے۔

تمام طبی عملے کو بالعموم یہی پیغام دیا جاسکتا ہے کہ آپ کی قابلیت سے انکار نہیں، محض اپنے طریقے کار اور آداب میں بہتری لا کر نا صرف آپ عوام میں اپنا مقام مزید بلند کر سکتے ہیں بلکہ محبت کے انہی پروانوں سے اپنے خلاف ہونے والے ہر تشد د کو بذات خود روک بھی سکتے ہیں۔

آخر میں اربابِ اختیار سے گذارش ہے کہ صحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دیں۔ مزید ہسپتال بنانا، پرانے ہسپتالوں کی حالت بہتر کرنا، بیماریوں سے بچاؤ کی مؤثر تدابیر کرنا، طب کے شعبے سے وابستہ لوگوں کو اچھی تنخواہ اور مراعات دینا اور ان کی سیکورٹی کا بندوبست کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔

امید پر دنیا قائم ہے، ہم اُمید کرتے ہیں کہ ہم ایسے پُر تشدد واقعات میں کمی لانے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔