بھتہ خوری کی وبا سری لنکا کرکٹ میں بھی پھیل گئی

اسپورٹس ڈیسک  بدھ 10 جولائ 2013
ویمنز ٹیم کی کپتان نے ٹیم منیجر پر زبردستی رقم وصول کرنے کا الزام عائد کردیا۔ فوٹو: فائل

ویمنز ٹیم کی کپتان نے ٹیم منیجر پر زبردستی رقم وصول کرنے کا الزام عائد کردیا۔ فوٹو: فائل

کولمبو: بھتہ خوری کی وبا سری لنکا کرکٹ میں بھی پھیل گئی، ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ششی کلا سری وردھنے نے اپنے ٹیم منیجر اے آر ایم عروس پر زبردستی رقم وصول کرنے کا الزام عائد کردیا۔ ابتدائی انکوائری رپورٹ سامنے آنے پر عروس نے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سری لنکا کی کپتان ششی کلا سری وردنے کی جانب سے بھتہ وصول کرنے کی شکایت پر ویمنز ٹیم کے منیجر اے آر ایم عروس نے تمام عہدے چھوڑ دیے، ششی کلا کی شکایت پر ایک ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ پولیس ہیماچندرا ڈائیس نے انکوائری کے بعد بورڈ سے عروس کے بارے میں باقاعدہ  انکوائری شروع کرنے کی سفارش کی، اس پر عروس نے نہ صرف ٹیم منیجر بلکہ ویمنز سلیکٹرسے بھی استعفیٰ دے دیا، وہ امپائرز کمیٹی چیئرمین کے عہدے سے بھی عارضی طور پر الگ ہوگئے ہیں۔

ان کی جگہ بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے چننا ویرا کوڈے کو ویمنز منیجر جبکہ سری ناتھ سلوا کو امپائر کمیٹی کا قائم مقام چیئرمین مقرر کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ششی کلا نے بورڈ سے تحریری شکایت کی تھی کہ عروس نے ان سے کمیشن کے نام پر زبردستی رقم وصول کی، دوسری جانب عروس نے تسلیم کیا کہ انھوں نے رقم وصول کی تھی مگر یہ زبردستی نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ برس ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل آئی سی سی نے ششی کلا کو ویمنز ایونٹ کا برانڈ ایمبیسڈر مقرر کرتے ہوئے ڈھائی ہزار ڈالر معاوضے کی پیشکش کی مگر بورڈ نے کامیاب مذاکرات کے بعد یہ رقم پانچ ہزار ڈالر کرا دی جو انھیں قسطوں میں ادا کی گئی، ششی کلا کے معاوضے میں 100 فیصد اضافہ ہوا تھا تو انھوں نے خوش ہوکر مجھے10 فیصد کمیشن دے دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ششی کلا نے اپنی شکایت میں کہا کہ عروس نے ان سے کمیشن کا تقاضا کیا تھا جس پر عروس کا کہنا ہے کہ اس وقت بورڈ کے سیکریٹری نشانتھا رانا ٹنگا سمیت کئی آفیشلز موجود تھے جب میں نے مذاق میں ششی کلا سے کہا کہ معاوضے میں اضافے پر تو 10 فیصد کمیشن میرا حق بنتا ہے، جس پر اس نے کہا تھا کہ کیوں نہیں آپ اس سے زیادہ کمیشن کے مستحق ہیں۔ سری لنکابورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔