سینئرز توقعات کا بوجھ اٹھانے میں ناکام

عباس رضا  اتوار 30 دسمبر 2018
پاکستانی بیٹنگ ناکامیوں کے بھنور سے نہ نکل پائی

پاکستانی بیٹنگ ناکامیوں کے بھنور سے نہ نکل پائی

مستقل مزاجی کے ساتھ مسلسل کوشش ٹیسٹ کرکٹ کی بنیادی ضرورت ہے۔

وکٹ پر قیام طویل کرتے ہوئے رنز بنانا اور بھرپور پلاننگ کے ساتھ بولنگ اور فیلڈنگ سے حریف کا دباؤ میں لانا ہی اس فارمیٹ کا حسن ہے، گرچہ ون ڈے کے بعد ٹی ٹوئنٹی بھی مقبولیت کے عروج پر پہنچ چکی،اب تو ٹی 10مقابلوں نے بھی توجہ حاصل کرلی ہے لیکن کھیل کے سمجھ بوجھ رکھنے والے آج بھی اصل کرکٹ ٹیسٹ میچز کو خیال کرتے ہیں، پاکستان میں پی ایس ایل کا آغاز اور اس کے چند میچز کا پاکستان میں بھی انعقاد ہونے کے بعد نوجوان نسل کی ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ سے رغبت میں مزید اضافہ ہوا، ایک عرصہ سے پی سی بی میں ڈومیسٹک کرکٹ سمیت اہم معاملات کی باگ ڈور سنبھالے رکھنے والے ہارون رشید نے ہر دور میں نئی پلاننگ دی، قائد اعظم ٹرافی کے صورت میں طویل فارمیٹ کے مقابلے بھی تسلسل کے ساتھ ہوتے رہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کی اہلیت رکھنے والے کھلاڑی ناپید ہوتے گئے۔

حنیف محمد، جاوید میانداد، محمد یوسف اورانضمام الحق جیسے سٹارز روز روز پیدا نہیں ہوتے،یونس خان نے اپنی کارکردگی کی بدولت پاکستان ٹیم میں سینئر بیٹسمین کا خلا پُر کیا،مصباح الحق نے بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا بھرپور ساتھ دیا، ان دونوں کی موجودگی میں اظہر علی اور اسد شفیق بھی حوصلے میں رہتے، اس کے مثبت اثرات قومی ٹیم کی کارکردگی پر بھی پڑتے، مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی بارعالمی نمبر ہونے کا اعزاز حاصل کیا، دونوں سینئرز کی ریٹائر منٹ کے بعد بیٹنگ کا بوجھ اظہر علی اور اسد شفیق کے ساتھ سرفراز احمد کو اٹھانا تھا، کپتان کی ذمہ داری دہری تھی، انہیں نہ صرف اپنی کارکردگی سے فتوحات میں کردار ادا کرنا بلکہ دوسروں کے لیے قابل تقلید مثال بھی بننا تھا، تینوں سینئرز اپنے کردار سے انصاف نہیں کرپائے۔

اہم مواقع پر وکٹیں گنوانے کی وجہ سے کئی بار جیتی بازی پاکستان کے ہاتھ سے نکلی، چند میچز میں ان میں سے کسی بیٹسمین نے تھوڑی مزاحمت کرتے ہوئے امید دلائی بھی تو مشن مکمل کرنے سے قبل ہی ہمت ہارگیا، گزشتہ سال سری لنکا کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچز بھی ایک اننگز میں بہترین کارکردگی دکھانے والا دوسری میں ٹیم کو مشکلات میں چھوڑ کر رخصت ہوا، رواں سال کے آغاز میں آئرلینڈ کے خلاف اظہر علی اور اسد شفیق کی ناکامی کے بعد پاکستان نے صرف 14 رنز پر 3 وکٹیں گنوا دی تھی، بابراعظم اور امام الحق نے پاکستان کو خفت سے بچایا، مہمان ٹیم اپنی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے آئرش کرکٹرز کے ہاتھوں شکست سے بال بال بچی،انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کے دوران بھی ایک میچ میں قومی ٹیم عرش پر تو دوسرے میں فرش پر نظر آئی۔

یواے ای میں آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں بھی چند کمزور لمحوں کا کھیل میچ ڈرا کراگیا، دوسرے میں کامیابی کے ساتھ پاکستان نے سیریز بھی اپنے نام کی تو امید پیدا ہوئی کہ قومی ٹیم فارم میں واپس آگئی اور سازگار کنڈیشنز میں نیوزی لینڈ کا شکار مشکل نہیں ہوگا لیکن پہلے ٹیسٹ میں کیویز کی جانب سے دیا جانے والا 176 رنز کا ہدف بھی پہاڑ بن گیا، اسد شفیق اور سرفراز احمد ٹیم کی ضرورت کے مطابق بیٹنگ کے بجائے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چلتے بنے، اظہر علی نے سینئر کے طور پر ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے بجائے ٹیل اینڈرز کو کیوی بولرز کے سامنے دھکیل کر اپنی وکٹ بچائے رکھنے کو ترجیح دی۔

بعد ازاں فتح سے 4 رنز کی دوری پر خود بھی ہمت ہار گئے، کافی وقت کریز پر گزارنے کے باوجود آخر میں رنز بنانے کی کوشش ہی نہ کرنا پاکستان کرکٹ اور شائقین کے لیے مایوس کن رہا، نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میں اسد شفیق اور اظہر علی نے پہلی اننگز میں سنچریاں بنائیں لیکن غلط سٹروکس پر وکٹیں گنوادیں، آنے والے بیٹسمین بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ نہ کر سکے، دوسرے اننگز میں دونوں آسانی سے ہتھیار ڈال دیئے اور سیریز پاکستان کے ہاتھ سے نکل گئی، سنچورین ٹیسٹ میں اظہر علی نے سیٹ ہونے کے بعد وکٹ گنوائی، اسد شفیق کے 50 رنز پاکستان ٹیم کے بہت کام آسکتے تھے لیکن انہوں نے بھی ذمہ داری نہیں لی، دوسری اننگز میں شان مسعود جیسے نو آموز نے مزاحمت کی لیکن اسد شفیق کے بعد سرفراز احمد نے دوسری اننگز میں بھی قیادت کا حق ادا نہیں کیا اور پیئر بناکر چلتے بنے، پہلی اننگز میں پر اعتماد بیٹنگ کرنے والے بابر اعظم نے بھی اپنی فارم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی، گزشتہ 100سال میں 150سے کم کا ہدف حاصل کرنے میں کبھی ناکام نہ رہنے والی جنوبی افریقی ٹیم نے توقعات کے مطابق کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیریز کا فاتحانہ آغاز کیا۔

ہیڈکوچ مکی آرتھر سینئرز پر چیخے چلائے لیکن اس کا کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آتا، الٹا ٹیم کا ماحول ہی خراب ہوا، تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ٹیسٹ فارمیٹ کے لیے موزوں کھلاڑیوں کی کھیپ کی بہت کم ہے، اگر کوئی متبادل تھے بھی تو ناقص پلاننگ اور سلیکشن کی وجہ سے ضائع ہوگئے، آسٹریلیا کی مشکل کنڈیشنز میں عمدہ اننگز کھیلنے والے سمیع اسلم اچانک غائب ہوگئے، کبھی مستقبل کی امید قرار دیئے جانے والے آصف ذاکر اور افتخار احمد ڈراپ ہوئے، پھر نظر نہیں آئے، عثمان صلاح الدین، سعد علی ڈومیسٹک سیر سپاٹے کرنے کے بعد واپس آئے۔

کرکٹ میں رنز کے انبار لگانے والے عابد علی سلیکٹرز کو نظر ہی نہیں آئے،ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ پہلے ہی کمزور ہے، اس صورتحال میں ٹیسٹ کرکٹ کے لیے مضبوط بیٹنگ لائن کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا۔ورلڈکپ تک پاکستان کی کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں،اس لئے سرفراز احمد کو قیادت سے ہٹانے کی بحث چھیڑنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگر کپتان کی کارکردگی اسی نوعیت کہ رہی تو یہ مسئلہ ایک دن سر اٹھائے گا، دوسری جانب لمحہ فکریہ یہ بھی ہے کہ سرفراز کو ہٹانے کے بعد کس کو قیادت سونپی جائے، کسی کی کارکردگی میں تسلسل نہیں،نوجوان کرکٹرز تو فی الحال ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔