جامعہ کراچی کی نااہل انتظامیہ اور فنڈز کا رونا دھونا

کامران سرور  بدھ 2 جنوری 2019
شہرقائد بالخصوص جامعہ کراچی میں تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد خوش آئند ہے۔

شہرقائد بالخصوص جامعہ کراچی میں تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد خوش آئند ہے۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کیوں کہ تعلیم ہی قوموں کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے اور اسی سے ہی قوم کی تقدیر جڑی ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب بہت کم لوگ ہی پورا کرپاتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ عوام میں تعلیم کی جستجو نہیں، یا پھر جان بوجھ کر خود کو تعلیم سے دور رکھ کر در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بلکہ تعلیم کے حوالے سے معاشرے میں شعور و آگہی نہ ہونے کے سبب پاکستانی عوام تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہوپاتے؛ اور بیشتر لوگ شعور رکھ کر بھی اس خواب کو پورا کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا مڈل کلاس طبقہ کو وسائل کی کمی کے باعث کرنا پڑتا ہے، اور ان کے لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول میں کئی دیگر رکاوٹیں بھی پیش آتی ہیں۔

پہلے پہل تو وطن عزیز میں اچھی معیاری تعلیم کا حصول ہی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ملک میں سرکاری جامعات نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو ہیں ان سے متعلق لوگوں کی رائے زیادہ اچھی نہیں۔ جس کی بنیادی وجہ ان جامعات کا ماحول ہے جس میں والدین اپنے بچوں کو بھیجنے سے کتراتے ہیں۔ ان رکاوٹوں میں دوئم نمبر پر یکساں تعلیم کا نہ ہونا ہے جو خود میں ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کا سامنا ہمیں پرائمری سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک کرنا پڑتا ہے۔ جہاں نہ صرف سرکاری اور پرائیوٹ اداروں میں ںمایاں فرق نظر آتا ہے بلکہ پرائیوٹ سیکٹر میں بھی امیر اور غریب کے لیے الگ الگ معیار ہے۔

اب اگر بات کی جائے پرائیوٹ یونیورسٹیوں کی تو وہاں بہرحال سرکاری جامعات کے مقابلے میں اچھی تعلیم تو میسر ہوتی ہے مگر ان پرائیوٹ یونیورسٹیوں کے اخراجات مڈل کلاس طبقے کی پہنچ سے دور ہیں۔ اور ان یونیورسٹیوں کا رخ کرنے والے طبقے کو ہزاروں یا لاکھوں لٹنے کی فکر نہیں ہوتی، کیوں کہ وہ پہلے ہی خود کو اس بات کے لیے تیار کرچکے ہوتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی دنیا میں اپنا نمایاں مقام بنانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے ؛ اور جو ہیں وہ بھی عالمی رینکنگ میں بہت پیچھے دکھائی دیتی ہیں۔

اس تمہید باندھنے کا اصل مقصد آپ کا رخ ہماری سرکاری یا نیم سرکاری جامعات کی فضول خرچیوں کی جانب مبذول کروانا ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں ان جامعات کے پاس ’’ لفٹ ٹھیک کروانے تک کے پیسے نہیں ہوتے ‘‘ اور وہ ہر وقت ہمارے میئر کراچی وسیم اختر کی طرح فنڈز نہ ہونے کا رونا روتے ہیں، ایسے میں اخبارات میں لاکھوں روپے کا اشتہار چھپوانا سمجھ سے بالاتر ہے۔

دراصل میرا اشارہ جامعہ کراچی میں ہونے والے حالیہ کانووکیشن کی تقریب کی طرف ہے۔ جامعہ کراچی میں 29ویں کانووکیشن کی تقریب میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 1594 طلبہ کو اسناد، اچھی کارکردگی کے بنیاد پر 177 طلبہ کو گولڈ میڈلز، 123 پی ایچ ڈی اور 33 ایم فل کے طلبہ کو اسناد سے نوازا گیا۔ تقریب کی واحد قابل ذکر بات جامعہ کراچی کے تمام اساتذہ کا کانووکیشن کی تقریب میں سرگودھا یونیورسٹی کے پروفیسر محمد جاوید کی نیب حراست میں ہلاکت پر سیاہ پٹیاں باندھ کر شریک ہونا تھی۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کراچی اور بالخصوص جامعہ کراچی میں تعلیمی سرگرمیوں کا انعقاد شاذونادر دیکھنے میں آتا ہے، بلاشبہ اس تقریب کا انعقاد جامعہ کراچی کی انتظامیہ سمیت اساتذہ کی محنت ولگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اور بظاہر تو یہ اقدام جامعہ کراچی کی بہتری کے لیے کیا گیا مگر چند دیگر حقائق بھی غور طلب ہیں۔

یقیناً کانووکیشن کی اس تقریب کے لیے جامعہ نے فنڈز بھی اکھٹا کیے ہوں گے یا پھر وفاق نے کوئی اسپیشل گرانٹ جاری کی ہوگی، نہیں تو گورنر سندھ نے ہی کوئی نظرکرم کردیا ہوگا۔ وگرنہ تقریب والے دن اخبار میں فل سائز کے بے مقصد اشتہار پر لاکھوں روپے نہ اڑائے جاتے۔ چلیں مان لیتے ہیں میری معلومات غلط ہے اور جامعہ کے پاس فنڈز کی کمی نہیں۔ اور یہ اقدام جامعہ کی بہتری کے لیے انتظامیہ نے اپنے بل بوتے پر کیا، مگر جامعہ کے پاس اسٹاف کی ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے رقم کیوں نہیں ہوتی؟ اور اس ضمن میں کبھی طلبہ کی فیسوں کی مد میں حاصل کی گئی رقم تو کبھی اسپیشل گرانٹ کا انتظار کیوں رہتا ہے۔

اگر واقعی میری معلومات غلط ہیں تو کانووکیشن کی تقریب کے لیے طلبہ سے رجسٹریشن کے نام پر 5 ہزار روپے بٹورنا سمجھ سے بالاتر ہے (جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً دگنی رقم بنتی ہے)۔  کانووکیشن کی تقریب کے لیے مخصوص لباس (گاؤن) پہننے کے لیے 2 ہزار روپے الگ سے لیے گئے،البتہ اس فیس میں 1500 روپے گاؤن کی سیکیورٹی فیس تھی، یعنی تقریب کے بعد گاؤن واپس کرنے پر صرف 500 روپے وصول کرکے باقی رقم واپس کردی گئی۔ سونے پر سہاگہ، تمام طلبہ کو موبائل اور کیمرہ ساتھ لانے پر پابندی عائد کی گئی تھی جس کا مقصد گورنر سندھ اور جامعہ کے وائس چانسلر کی موجودگی میں کسی قسم کے سیکیورٹی خدشات نہیں، بلکہ یہ اقدام بھی طلبہ سے پیسے بٹورنے کے لیے کیا گیا، انتظامیہ نے معمولی پیسوں پر ایک کیمرہ مین تقرر کرکے طلبہ سے فی تصویر ایک ہزار روپے بٹورے۔

میرا مقصد کانووکیشن کی اس تقریب کی تفصیلات بتاکر آپ کو بور کرنا نہیں، بلکہ اس کرپشن کی طرف نشاندہی کرنا ہے جو کسی کے گمان میں بھی نہیں کہ ایک سرکاری جامعہ کیسے لاکھوں روپے کا اشہتار اخبار کی زینت بناسکتی ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب انتظامیہ کے پاس فنڈز نہ ہونے کے سبب جامعہ کراچی کھنڈر کا منظر پیش کررہی ہے، بیشتر ڈیپارٹمنٹ کی حالت زار قابل رحم ہے اور جامعہ کے پاس بجلی کے بل ادا کرنے کے پیسے تک موجود نہیں۔ جس کے سبب رواں سال گرمیوں میں طلبہ کو بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا اور سخت گرمی میں دھوپ میں بیٹھ کر کلاسیس لینی پڑیں؛ ایسے میں جامعہ کراچی کا یہ اقدام سمجھ سے بالاتر ہے۔

حالانکہ یہ اقدام پرائیوٹ یونیورسٹیوں کو کرنا چاہیے کیوں کہ یہ صرف اور صرف پبلسٹی کا ایک طریقہ ہے جس سے ان کو فائدہ ہوسکتا ہے کیوں کہ وہ ایسے ہی طلبہ سے لاکھوں روپے بٹورتی ہیں۔ لیکن یہ حرکت ایک سرکاری جامعہ کو زیب نہیں دیتی، اور پھر جامعہ کراچی کو تو یہ سب کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ہر سال یہاں طلبہ کا جم غفیر داخلے کے لیے آتا ہے اور ان میں ہزاروں کو خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے، ایسے میں اشتہار کے ذریعے پبلسٹی کرنے کا مقصد سجھ سے بالاتر ہے۔

میں یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ جامعہ نے یہ اقدام اپنے بل بوتے پر کیا۔ کیوں کہ اگر جامعہ کے پاس اتنے پیسے ہوتے تو طلبہ سے ہزاروں روپے فیس کیوں لی گئی، اگر رجسٹریشن کے نام پر فیس لینا ضروری ہی تھا تو یہ کم سے کم بھی رکھی جاسکتی تھی تاکہ تمام طلبہ اس تقریب کا حصہ بنتے۔ لیکن افسوس صرف رجسٹریشن فیس کی وجہ سے سیکڑوں طلبہ اس تقریب کا حصہ بننے سے محروم رہے، حالانکہ گریجویشن تک پہنچنا ہر انسان کا خواب ہوتا ہے، اور 4 سال کی انتھک محنت کے بعد اس تقریب کا مخصوص لباس زیب تن کرکے دنیا کو دکھانے کا موقع کوئی کیوں کر ضائع کرنا چاہے گا۔

 

اب اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ اس میں کرپشن کا عنصر کہاں سے شامل ہے۔ تو جناب والا، کسی کو چونا لگانے کا ٹیلنٹ پاکستانی قوم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، ہوسکتا ہے اس اشتہار کی مد میں لاکھوں وصول کرکے چند لاکھ اشتہار پر لگائے گئے ہوں۔ بحرحال یہ میرا کام نہیں کہ میں اس اشتہار کی قیمت کا تعین کروں البتہ طلبہ سے کی گئی زیادتی کا ازالہ ضرور ہونا چاہیے۔ اس بار نہ سہی، لیکن اگلی بار اس بات کا خیال ضرور رکھا جانا چاہیے تاکہ یہ پیسہ کسی فضول کام کے بجائے طلبہ کی بہتری کے لیے لگایا جاسکے۔ اور جہاں تک بات ہے کانووکیشن کی تقریب کی، مجھے امید ہے اس کے اخراجات طلبہ سے بٹوری گئی فیس سے ہی پورے ہوگئے ہوں گے۔

ارے یاد آیا! کانووکیشن کی اس تقریب میں طلبہ کو ایک سادہ پیپر بھی تو فولڈ کرکے دیا جاتا ہے، اب اس کا مطلب تو آپ بخوبی نکال سکتے ہیں کہ وہ فولڈ کیا ہوا خالی پیپر کس کام آسکتا ہے۔ البتہ یہ ضرور بتاتا چلوں کہ اس میں آپ کی 4 سال کی محنت کا پھل نہیں ہوتا، (اور اس بار تو جامعہ نے طلبہ کو خالی پیپر تک دینے کی زحمت نہ کی بلکہ طلبہ خود ہی تصاویر بنوانے کے واسطے گھروں سے کاغذ موڑ کر ساتھ لائے)۔

ماسٹرز کی ڈگری کے لیے آپ کو الگ سے فارم بھرنے کا عمل دہرانا پڑتا ہے جسے ہم عام اصطلاح میں ’خواری‘ کہتے ہیں۔ اگر آپ کسی سرکاری جامعہ میں زیر تعلیم نہ رہے ہوں تو شاید میری بات سے متفق نہ ہوں، البتہ میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر یہ بات کررہا ہوں کہ کیسے پہلے فائنل مارک شیٹ حاصل کرنے کے لیے، مختلف ڈیپارٹمنٹ کے دستخط لینے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں اور پھر کانووکیشن میں صرف ’ٹوپی اچھالنے کے لیے‘ ہزاروں کی ادائیگی کے باوجود ڈگری طلبہ کے ہاتھ نہیں لگتی۔ بلکہ اس کے لیے دوبارہ سے ’خواری‘ کے ساتھ سینکڑوں روپے لگانے پڑتے ہیں۔

کیا ہی اچھی بات ہو اگر جامعہ کراچی پہلے تو کانووکیشن کی فیس میں کمی کا اعلان کرے، اور پھر ڈگری سمیت دیگر اسناد کے حصول کو آسان بنانے کے لیے اقدام اٹھائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کامران سرور

کامران سرور

بلاگر جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ماسٹر کرچکے ہیں اور اِس وقت ایکسپریس نیوز میں بطور سینئر سب ایڈیٹر اپنی ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔