سال 2018؛ معاشیات، سفارتی تعلقات اور خارجہ پالیسی پر ایک نظر

میاں عمران احمد  پير 31 دسمبر 2018
سال 2018 کے آغاز اور اختتام کے درمیان کا وقت خوشگوار نہیں تھا، لیکن اختتام پُرامید اور حوصلہ افزا رہا۔ فوٹو: انٹرنیٹ

سال 2018 کے آغاز اور اختتام کے درمیان کا وقت خوشگوار نہیں تھا، لیکن اختتام پُرامید اور حوصلہ افزا رہا۔ فوٹو: انٹرنیٹ

اگر ہم یہ کہیں کہ 2018 پاکستان میں تبدیلی کا سال رہا تو غلط نہیں ہو گا۔ یہ تبدیلی مثبت ہے یا منفی، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ فی الحال 2018 ملک میں سیاسی اور معاشی تبدیلی کا سال رہا ہے۔ 2018 میں پاکستان میں جو معاشی تبدیلی آئی ہے، وہ بھی پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ ایک سال میں ڈالر 106 سے پرواز کر کے 139 تک پہنچ گیا۔ ڈالر میں ایک سال میں اتنا اضافہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مہنگائی کی شرح ایک سال میں 4.6 فیصد سے بڑھ کر ستمبر 2018 میں 8 فیصد تک پہنچ گئی جو نومبر 2018 میں %6 تک آگئی۔ لیکن ڈالر کی لگاتار بڑھتی ہوئی قیمت اور آئی ایم ایف کے دباؤ کے باعث مہنگائی کی شرح آنے والے دنوں میں بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

سفارتی تعلقات اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے 2018 بہترین سال رہا۔ اگر پاکستان کے سفارتی تعلقات اور خارجہ پالیسی کی بات کی جائے تو 2018 میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ 2018 کے شروع میں اس وقت کے وزیراعظم پاکستان جناب شاہد خاقان عباسی سعودی عرب کے دورے پر گئے اور سعودی حکومت سے مالی امداد کی درخواست کی جو رد کر دی گئی۔ بعدازاں شاہد خاقان عباسی آرمی چیف جزل قمر جاوید باجوہ کو بھی سعودی عرب ساتھ لیکر گئے اور امداد کی درخواست کی، لیکن کمزور سفارتی تعلقات، غیر مستحکم خارجہ پالیسیی اور عدم اعتماد کی فضا کے باعث امداد نہ مل سکی۔ جبکہ 2018 کے آخر میں سعودی عرب نے پاکستان کو تقریباً چھ ارب ڈالر کا پیکج دیا اور پاکستانی حکومت کو یمن اور سعودی عرب کے مابین صلح کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی بھی درخواست کی۔

2018 کے آخر میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی۔ وزیراعظم پاکستان نے کئی سالوں بعد متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا۔ دبئی کے شیخ محمد جنوری 2019 میں پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بہترین خارجہ پالیسی اور سفارتی تعلقات کو سمجھداری سے آگے بڑھانے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو تین ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔ جس نے پاکستان کی ڈگمگاتی معیشیت کو سہارا دینے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

اگر پاک امریکہ تعلقات کی بات کریں تو 2018 کی ابتدا بدترین اور اختتام بہترین رہا۔

2018 کے پہلے دن 01 جنوری 2018 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ ‘’’امریکہ پاکستان کو بیوقوفوں کی طرح پچھلے پندرہ سالوں سے تینتیس ارب ڈالر امداد دے چکا ہے اور پاکستان نے ہمارے لیڈروں کو بیوقوف بناتے ہوئے ہمیں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ہم جن دہشت گردوں کو افغانستان سے بھگاتے ہیں، پاکستان انہیں محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرتا ہے۔‘‘ جبکہ دسمبر 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو خط لکھ کر مدد کی درخواست کی کہ ’’امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کروانے میں پاکستان امریکہ کی مدد کرے۔ پاکستان اور امریکہ دونوں نے جنگ کی بھاری قیمت ادا کی ہے، پاکستان اور امریکہ کو مل کر کام کرنے اور اتحاد کو مضبوط کرنے کے مواقع ڈھونڈنے چاہئیں۔‘‘

گو کہ سال کے آغاز اور اختتام کے درمیان کا وقت بھی خوشگوار نہیں تھا، لیکن اختتام پُرامید اور حوصلہ افزا رہا۔

اگر پاک بھارت تعلقات کی بات کریں تو 2018 شاندار اور بہترین سال تھا۔ 2018 میں پاکستان نے بھارت کے لیے کرتارپور بارڈر کھولنے کا اعلان کیا جسے پوری دنیا میں سراہا گیا۔ اس فیصلے نے دونوں ممالک کے درمیان جمود کو توڑا۔ بھارتی صحافیوں کی پاکستان آمد ہوئی اور وزیراعظم پاکستان سے پاک بھارت تعلقات پر کھل کر سوال و جواب ہوئے۔ مقامی اور بین القوامی میڈیا کئی روز تک پاک بھارت تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات پر گفتگو کرتا رہا۔ اگرچہ بھارت کے شدت پسند ذہنوں نے اس پر بھی تنقید کی، لیکن امریکہ سمیت پوری دنیا یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ پاکستان کا کرتار پور بارڈر کھولنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔

پاکستان اور چین کے تعلقات 2018 کے شروع میں بھی مضبوط تھے اور آخر میں بھی بہترین ہیں۔ درمیان میں حکومت پاکستان کے سی پیک پر غیر ذمہ درانہ بیانات کی وجہ سے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے، لیکن جلد ہی وہ اپنی اصلی حالت میں بحال ہوگئے۔ یہ تعلقات اب بہتری کی جانب رواں دواں ہیں۔

2018 نشیب و فراز کا سال تھا ۔ لیکن 2019 کامیاب معاشی پالیسیوں اوراحتساب کا سال دکھائی دے رہا ہے۔ اگر حکومت ایکسپورٹرز کے لیے بنائی گئی پالیسیوں پر من و عن عمل کرنے ، اداروں کو ان کی آمدنی اور پرفارمنس کی بنیاد پر چلانے ، بلا تفریق احتساب کا عمل جاری رکھنے، فارن پالیسی کو اسی جذبے کے ساتھ چلانے، غیر ضروری بیانات سے گریز کرنے، پاکستانی پراڈکٹ کی اصل قیمت عوام کے سامنے لانے ، سبسڈی دینے کی بجائے آمدنی بڑھانے اور سرکاری شاہ خرچیاں کم کرنے جیسے فیصلو ں پر مستقل مزاجی سے عمل کرتی رہی تو ممکن ہے کہ حکومت دو سے تین سال میں پاکستانی معیشیت کو سیدھے راستے پر ڈالنے میں کامیاب ہو جائے۔ معاشی مایوسی کے سال کے اختتام پر مثبت امید کرنے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

میاں عمران احمد

میاں عمران احمد

بلاگر نے آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی لندن سے گریجویشن کر رکھا ہے۔ پیشے کے اعتبار سے کالمنسٹ ہیں، جبکہ ورلڈ کالمنسٹ کلب اور پاکستان فیڈریشن آف کالمنسٹ کے ممبر بھی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔