سال 2018؛ پاکستانی کرکٹ کی داستان

کامران سرور  پير 31 دسمبر 2018
سال 2018 میں شاہین ٹی ٹوئنٹی میں چھائے رہے اور دنیا پر اپنی حکمرانی برقرار رکھی۔

سال 2018 میں شاہین ٹی ٹوئنٹی میں چھائے رہے اور دنیا پر اپنی حکمرانی برقرار رکھی۔

سال 2018 پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کے لیے تو بدترین سال رہا، لیکن یہ سال کرکٹ کے لیے بھی بہت زیادہ خوشگوار نہ رہا۔ شاہینوں نے مختصر فارمیٹ میں نئی تاریخ تو رقم کی لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں بدترین کارکردگی دکھائی۔ البتہ ویسٹ انڈیز کے دورہ کراچی سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی خوش آئند رہی اور حکومت کے ساتھ ساتھ کرکٹ بورڈ میں بھی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔

کرکٹ کے حوالے سے سال 2018 کی بات کی جائے تو یہ سال پاکستانیوں کے لیے کئی اعتبار سے خوشگوار سال ثابت ہوا۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں پاکستان سپر لیگ کی، جس کے تیسرے ایڈیشن کی کامیابی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ گزشتہ 9 سالوں میں ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کے باوجود اس قوم میں کرکٹ کا جنون کم نہیں ہوا۔ اس کا اندازہ لاہور اور کراچی میں ہونے والے سپر لیگ کے فائنل سے بھرپور انداز میں کیا جاسکتا ہے جس میں شائقین کی بڑی تعداد نے شرکت کرکے ناقدین کو کرارا جواب دیا۔

پی ایس ایل نے جہاں گزشتہ 3 سالوں میں پاکستانی ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے متعارف کروایا، وہیں اس لیگ نے غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان کے مثبت چہرے سے بھی آشنا کروایا۔ تاہم گزشتہ سال پی ایس ایل کا ایک منفی پہلو بھی دیکھنے میں آیا جب پی سی بی نے لیگ کی چھٹی ٹیم (ملتان سلطانز) کا معاہدہ واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث منسوخ کردیا۔ اور پھر اس ٹیم کو تحریک انصاف کے اہم ترین رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کے حوالے کیے جانے سے متعلق بھی کافی چہ مگوئیاں ہوئیں، جو بعد ازاں درست ثابت ہوئیں۔

کرکٹ کے میدانوں سے قوم کو دوسری بڑی خبر اس وقت ملی جب تقریباً 3 سال کے وقفے کے بعد ایک اور انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس بار سیریز کا انعقاد ملک کے معاشی حب کراچی میں کیا گیا جس سے شہر قائد کے باسیوں کے گلے شکوے بھی کسی حد تک دور ہوئے۔ وگرنہ سال 2015 میں زمبابوے ٹیم کے دورہ پاکستان کو صرف لاہور تک محدود کیا گیا تھا، جس پر نہ صرف کراچی بلکہ دیگر شہروں سے بھی آوازیں اٹھیں۔ تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے نہ صرف پی ایس ایل کا فائنل کراچی میں منعقد کیا بلکہ ویسٹ انڈیز کے ساتھ 3 میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کا انعقاد بھی کراچی میں ہی کیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ شاہینوں نے شہر قائد میں کالی آندھی کی ایک نہ چلنے دی اور ان کو چاروں شانے چت کردیا۔ اب خدارا یہ مت سوچیے گا کہ قومی ٹیم نے ریلو کٹو کو پاکستان بلاکر ملک میں کرکٹ نہ ہونے کی بھڑاس نکالی۔ یہ بات درست ہے کہ مہمان ٹیم کرس گیل، سنیل نارائن، ڈیرن براؤ، پولارڈ اور کارلوس بریتھ ویٹ جیسے اسٹار کرکٹر سے محروم تھی، لیکن ان کے پاس مارلن سیموئل، سیموئل بدری اور دنیش رامدین جیسے میچ کا پانسہ پلٹے والے کھلاڑی تو بہرحال موجود تھے۔

اب ذرہ بات کرلیتے ہیں کرکٹ بورڈ میں تبدیلی کی جو سال 2018 میں تبدیلی حکومت کے ساتھ ہی عمل میں آئی۔ وزیراعظم عمران خان نے آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی پر اعتماد کا اظہار کیا تو نئے چیئرمین نے بھی عہدہ سنبھالتے ہی پچھلے دور کے تمام مشیروں کو فارغ کردیا۔ بورڈ میں تبدیلی کے بعد نہ صرف نئے چہرے دیکھنے میں آئے، بلکہ نت نئے فیصلے بھی کیے گئے جن پر تنقید کے نشتر برسائے گئے۔ بورڈ نے کرکٹ کمیٹی قائم کی تو اس کے لیے سابق ٹیسٹ کرکٹر محسن خان کے ساتھ سابق کپتان وسیم اکرم، مصباح الحق اور ویمنز ٹیم کی سابق کپتان عروج ممتاز کو چنا گیا۔ لیکن وسیم اکرم کی شمولیت پر جسٹس قیوم رپورٹ کے حوالے سے شدید تنقید کی گئی جب کہ حال میں ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی بڑی تبدیلیوں کے اشارے دیکھنے کو ملے جس میں ریجنل ایسوسی ایشنز کے خاتمے کی تجویز سامنے آئی؛ البتہ اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

پی سی بی نے پہلی بار بورڈ میں نیا اسٹرکچر اور شفافیت کا نظام متعارف کروانے کے لیے مینیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ متعارف کروایا جس کے لیے برطانیہ میں پیدا ہونے والے پہلے پاکستانی نژاد برطانوی کرکٹر وسیم خان کا تقرر کیا گیا۔ انہوں نے آتے ہی ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کو اپنا اہم مشن قرار دیا۔ البتہ ان کو دی جانے والی بھاری بھرکم تنخواہ اور مراعات پر خاصی تنقید کی گئی۔ تاہم یہ تو اب وقت ہی بتائے گا کہ بورڈ کے اس اقدام سے کرکٹ کو کوئی فائدہ پہنچا یا صرف قومی خزانے کو ان کی بھاری تنخواہ کا بوجھ اٹھانا پڑا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے غلط فیصلوں کی وجہ سے بھارت کے خلاف نہ صرف ایشیا کپ کے دوران قوم کو مایوسی ہوئی، بلکہ بورڈ کو بھارت کے خلاف قانونی محاذ پر بھی ایسے وقت میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب پی سی بی کو یقینی فتح نظر آرہی تھی۔ لیکن آئی سی سی نے فیصلہ بھارت کے حق میں سناتے ہوئے پاکستان کو کیس پر ہونے والے اخراجات کا 60 فیصد ادا کرنے کی سزا بھی دی۔ اس کیس میں آئی سی سی نے کسی قسم کی جانبداری کا مظاہرہ کیا، یا پھر پاکستان یہ کیس بہتر طریقے سے لڑنے میں ناکام رہا، اس کے محرکات پر قانونی ماہرین ہی بہتر تجزیہ کرسکتے ہیں۔

ویسے تو 2018 میں پاکستان کرکٹ کے حوالے سے ہونے والے واقعات کی فہرست طویل ہے لیکن میری کوشش ہوگی کہ کم لفظوں میں ان کو بیان کرنے کی ہرممکن کوشش کروں۔ ایک اور انتہائی دلچسپ بیان جو سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیلا اور کافی دنوں تک زیربحث رہا، جب محسن خان نے قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو ٹیسٹ قیادت چھوڑنے کا مشورہ دیا۔ سرفراز کی حالیہ کارکردگی نے اس بیان کی اہمیت کو بڑھادیا۔ حالیہ کارکردگی سے یاد آیا، میں سرفراز کے ریکارڈ ساز کپتانوں کی فہرست میں شامل ہونے پر قوم کو مبارکباد دینا ہی بھول گیا کہ کیسے سرفراز احمد نے دونوں اننگز میں کھاتہ کھولنے کی زحمت نہ کرکے تاریخ رقم کردی۔ خیر اس میں برا منانے والی کوئی بات نہیں، کیوں کہ اسی ٹیسٹ میں مخالف ٹیم کے کپتان نے بھی یہی اعزاز اپنے نام کیا۔ یوں سال 2018 کا آخری ٹیسٹ بھی قومی ٹیم کے لیے یادگار رہا۔

اب اگر ٹیسٹ کرکٹ کا تذکرہ ہوہی گیا ہے تو کیوں نہ قومی ٹیم کی گزشتہ سال کی کارکردگی پر بات کی جائے، جو دیگر فارمیٹ کے مقابلے میں انتہائی مایوس کن رہی۔ شاہینوں نے سال 2018 میں 9 ٹیسٹ میچز کھیلے جن میں انہیں 4 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، 2 میچ برابری کی بنیاد پر ختم ہوئے اور 3 میں قومی ٹیم نے فتوحات سمیٹی؛ جن میں سے ایک فتح ناتجربہ کار آئرلینڈ کی ٹیم کے خلاف تھی۔ لیکن اگلی کامیابی سے قومی ٹیم نے ریکارڈ بک میں اپنا نام درج کیا جب آسٹریلیا کو یو اے ای میں رنز کے اعتبار سے بڑی شکست دیکر سال میں واحد سیریز بھی اپنے نام کی۔ تاہم قومی ٹیم کے لیے سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب انہوں نے کرکٹ کے شیر(انگلینڈ) کو اس کے گھر (لارڈز) میں ہی ڈھیر کردیا۔

ٹیسٹ میں بدترین کارکردگی کے باوجود چند اچھی خبریں بھی سامنے آئیں، جب مصباح الحق اور یونس خان کے جانے کے بعد قومی ٹیم میں مڈل آرڈر میں اظہرعلی اور اسد شفیق کا ساتھ دینے کے لیے بابراعظم اور حارث سہیل جیسے ابھرتے ہوئے چہرے سامنے آئے۔ البتہ ان کی کارکردگی بہت اچھی نہیں رہی، اور ابھی انہیں جگہ بنانے میں وقت درکار ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود بابراعظم گزشتہ سال پاکستان کی جانب سے 616 کیساتھ پہلے اور حارث سہیل 550 رنز بناکر دوسرے نمبر پر رہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کا مستقبل تابناک ہے۔ بیٹنگ کی مایوسی کو بولرز نے کسی حد تک زائل کرنے کی کوشش کی، محمد عباس اور یاسر شاہ نے 2018 میں خوب ریکارڈ سمیٹے۔

یاسر شاہ نے جہاں تیز ترین 200 وکٹیں حاصل کرنے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا، وہیں ایک ٹیسٹ میں 14 وکٹیں لینے کا سابق کپتان عمران خان کا ریکارڈ بھی برابر کیا۔  محمد عباس نے بھی اپنی کارکردگی سے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کروایا اور بولرز کی عالمی رینکنگ میں بھی تیسرے نمبر پر فائز ہوئے۔

ٹیسٹ کی طرح ایک روزہ کرکٹ بھی گزشتہ سال قومی ٹیم کے لیے زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا۔ سال کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا جب نیوزی لینڈ نے مہمان ٹیم کو 5 میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کرکے بری طرح کچل دیا۔ لیکن شاہین بھی پیچھے نہ رہے اور اپنی شکست کا بدلہ زمبابوے سے ان ہی کے دیس میں 5 میچوں میں کلین سوئپ سے پورا کیا۔ شاہینوں نے نہ صرف زمبابوے کو چاروں شانے چت کیا، بلکہ تمام میچز میں بلے بازوں نے بھی زمبابوین بولرز کی بھرکس نکالی اور اس سیریز میں خوب ریکارڈز اپنے نام کیے۔ پاکستان نے نہ صرف ایک روزہ کرکٹ میں اپنا سب سے زیادہ اسکور 399 رنز اسکور کیا، بلکہ اسی میچ میں 244 رنز سے فتح سمیٹ کر قومی تاریخ کی دوسری بڑی جیت اپنے نام کی۔ اسی میچ میں فخر زمان اور امام الحق نے 304 رنز کی شراکت قائم کرکے قومی تاریخ کی سب سے بڑی پارٹنرشپ قائم کی۔

ویسے تو ایک روزہ کرکٹ میں ڈبل سنچری بنانا اب ناممکن نہیں رہا، لیکن سعید انور کے 194 رنز کا ریکارڈ 13 سال تک قائم رہا۔ مگر اب روہت شرما، سچن ٹنڈولکر، وریندرسہواگ، کرس گیل، مارٹن کپٹل ڈبل سنچری بنانے والوں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں، تاہم فخرزمان نے زمبابوے کے خلاف یہ کارنامہ سرانجام دیکر پاکستان کو بھی اس فہرست میں شامل کروالیا۔ اسی طرح بابراعظم نے تیز ترین ایک ہزار رنز کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کیا، بابراعظم ایک روزہ کرکٹ میں تیز ترین ایک ہزار رنز مکمل کرنے والے دنیا کے پانچویں کھلاڑی بن گئے ہیں، انہوں نے یہ اعزاز 21ویں میچ میں آسٹریلیا کیخلاف حاصل کیا۔

زمبابوے کے خلاف سیریز میں ناقابل شکست رہنے اور بلے بازوں کی عمدہ کارکردگی کے بعد قوم کی امید بندھی ہے کہ ایشیا کپ میں بھارت کی موجودگی کے باوجود اس بار ٹرافی پاکستان آئے گی اور چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کو ناکوں چنے چبوانے والے بلے باز فخرزمان اور حسن علی ایک بار پھر ماضی کو دہرانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کو ایک نہیں دو بار بھارت کے خلاف ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور واحد ہانگ کانگ سے میچ جیتنے میں کامیاب رہا۔ اگر شعیب ملک آخری وقت میں ذمہ دارنہ بلے بازی نہ کرتے ہوئے افغانستان سے بھی پاکستان کی شکست یقینی ہوگئی تھی، لیکن سال 2018 میں ہی باپ بننے والے ملِک نے پاکستان کو اس ذلت سے بچالیا۔

آخر میں بات کرلیتے ہیں مختصر فارمیٹ ٹی ٹوئنٹی کی جس میں پاکستان نے 2018 میں ناقابل یقین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے دنیائے کرکٹ پر اپنی حکمرانی برقرار رکھی۔ ٹیسٹ اور ایک روزہ میچ میں بدترین کارکردگی بھی شاہینوں کو مختصر فارمیٹ میں ریکارڈز بنانے سے نہ روک سکی۔ پاکستان نے نہ صرف 2018 میں ایک سال میں سب سے زیادہ میچز جیتے، بلکہ 11 مسلسل سیریز جیتنے کا ناقابل یقین ریکارڈ اپنے نام کیا اور صرف 2 میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران بڑی بڑی ٹیموں کو شکست فاش سے دوچار کیا جس میں ٹی ٹوئنٹی کی چیمپئن ٹیم ویسٹ انڈیز،آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کیخلاف کلین سوئپ، انگلینڈ، سری لنکا، اسکاٹ لینڈ، ورلڈ الیون شامل ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر زمبابوے میں ہونے والی ٹرائے سیریز میں آسٹریلیا کو 28 سال بعد کسی بھی فائنل میں شکست دی۔

اور ہاں، اسی سال پاکستان نے مختصر فارمیٹ میں نہ صرف سب سے بڑا اسکور 205 اور 204 اسکور کیا، بلکہ ٹی ٹوئنٹی میں سب سے بڑی جیت 143 رنز بھی شاہینوں کے حصے میں آئی جو انہوں نے ویسٹ انڈیز کیخلاف حاصل کی۔ جب کہ جارح مزاج بلے باز فخرزمان 576 رنز بناکر ٹاپ اسکورر رہے، اور بابراعظم 563 رنز کے ساتھ دوسرے ملکی کھلاڑی قرار پائے۔ بولنگ میں لیگ اسپنر شاداب خان چھائے رہے۔

اب اگر قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ اتنی بھی بری نہیں تھی لیکن جس طرح شاہینوں نے ٹی ٹوئنٹی میں اپنا راج برقرا رکھا، اسی طرح ایک روزہ اور ٹیسٹ میچز میں بھی تحمل مزاجی کا مظاہرہ کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ قومی ٹیم ان فارمیٹ میں بھی دنیائے کرکٹ پر حکمرانی کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ مستقبل میں شاہینوں کی کارکردگی میں مزید بہتری آتی ہے یا پھر وہ مختصر فارمیٹ کے تاج سے بھی محروم ہوتے ہیں، اس کا فیصلہ نئے سال میں جنوبی افریقا کے مشکل دورے میں ہوجائے گا۔ تاہم بطور قوم ہم صرف اچھی امید کے ساتھ اپنی ٹیم کی بھرپور کامیابیوں کے لیے دعا ہی کرسکتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کامران سرور

کامران سرور

بلاگر جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ماسٹر کرچکے ہیں اور اِس وقت ایکسپریس نیوز میں بطور سینئر سب ایڈیٹر اپنی ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔