روزے کے چند ضروری مسائل

مفتی منیب الرحمن  بدھ 10 جولائ 2013
 کان میں دوا یا تیل ٹپکانے یا دانستہ پانی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ فوٹو: فائل

کان میں دوا یا تیل ٹپکانے یا دانستہ پانی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ فوٹو: فائل

 1۔ بلڈ ٹیسٹ کے لیے اپنا خون نکلوانے یا کسی شدید ضرورت مند مریض کو خون کا عطیہ دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
2 ۔ کان میں دوا یا تیل ٹپکانے یا دانستہ پانی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

3 ۔ ہماری تحقیق کے مطابق آنکھ میں دوا ڈالنے یا کسی بھی قسم کا انجکشن لگانے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے، بعض علماء کے نزدیک اِس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جس مسئلے کے بارے میں قرآن وحدیث میں صریح حکم نہ ہو، وہ مسئلہ اجتہادی کہلاتا ہے، اس میں لوگوں کو جس عالم پر اعتماد ہو، اُس کے فتوے پر عمل کریں۔ اجتہادی مسائل میں فقہاء کا اختلاف ایسا ہی ہے، جس طرح ہمارے اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا ماخَذ آئین، قانون اور مُسلَّمہ عدالتی نظائر ہوتے ہیں، لیکن بعض اوقات اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے فیصلے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ اجتہادی مسائل میں فقہاء کے اختلاف کی صورت بھی یہی ہے۔

4 ۔ روزے کی حالت میں قَے آنے کی فقہاء کرام نے 24 ممکنہ صورتیں بیان کی ہیں، ان میں سے صرف دو صورتوں میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے: (الف) بے اختیار منہ بھر کر قَے آئے اور اُس میں سے کچھ مواد واپس نگل لے۔ (ب) طبعی مجبوری کے تحت جان بوجھ کر قَے کرے، جسے عربی میں ’’اِسْتِقَاء‘‘ کہتے ہیں، اگر ایسی قَے منہ بھر آ جائے، تو خواہ واپس حلق میں کچھ بھی نہ نگلے، روزہ ٹوٹ جائے گا۔ (ج) باقی صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹتا۔

5 ۔ نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبانی نیت ضروری نہیں ہے، مستحب ہے۔ لہٰذا اگر رات ہی سے نیت کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اِس صورت میں ان الفاظ کے ساتھ نیت کرے: ’’ میں اللہ تعالیٰ کے لیے کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں۔‘‘ اور صبح صادق یعنی سَحری کے وقت یا سَحری کے بعد کرنا چاہے، تو ان الفاظ کے ساتھ نیت کرے: ’’ میں اللہ تعالیٰ کے لیے آج کے روزے کی نیت کرتا ہوں۔‘‘

6 ۔ سَحری سے پہلے غسل جنابت واجب ہو چکا ہو اور سَحر ختم ہونے سے پہلے نہ کر سکا ہو یا دن میں روزے کے دوران نیند کی حالت میں جنبی ہو جائے، تو روزہ فاسد نہیں ہوتا اور نہ ہی اِس سے اجر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ البتہ غُسلِ واجب کو اتنی دیر تک مؤخر کرنا کہ ایک فرض نماز کا وقت گزر جائے، مکروہ تحریمی ہے، کیوں کہ اِس سے نماز قضا ہو جائے گی۔

7 ۔ وضو کے دوران مسواک کرنا عام دنوں میں بھی سنّت ہے اور رمضان المبارک کے دوران روزے کی حالت میں بھی سنّت ہے، خواہ عصر کے وقت یا عصر کے بعد بھی کرے۔ روزے کی حالت میں برش کے ساتھ دانتوں کو صاف کرنا یا کسی بھی پاؤڈر کے ذریعے دانتوں کو صاف کرنا احتیاط کے خلاف ہے اور کراہت کا سبب ہے، لیکن ایسا کرنے سے اگر ذرات حلق میں نہ جائیں، تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

8 ۔ غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، چغلی کھانا، دوسروں پر بہتان تراشی کرنا اور اُن کی عیب جوئی کرنا، دوسروں کو ایذا پہنچانا، بے ہودہ یا جنسی تَلذّذ کی باتیں کرنا عام حالت میں بھی منع ہے اور روزے کی حالت میں ان کی ممانعت و حُرمت اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ اِن باتوں سے فقہی اعتبار سے تو روزہ فاسد ہونے کا حکم نہیں لگایا جاتا، لیکن روزہ مکروہ ہو جاتا ہے اور روزے دار روزے کے اجر کامل سے محروم ہو جاتا ہے۔
9 ۔ روزے کی حالت میں خوشبو استعمال کر سکتے ہیں، بالوں کو تیل لگا سکتے ہیں، اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔

10۔ دَمَہ یا ضِیْقَ النَّفْس کا مریض جو آلۂ تَنَفُّس کے استعمال کے بغیر دن نہیں گزار سکتا، تو وہ معذور ہے اور اس کو اس بیماری کی بنا پر روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے، وہ فدیہ ادا کرے۔ اگر روزہ رکھ لیا ہے اور مرض کی شدّت کی بنا پر استعمال کیا، تو روزہ ٹوٹ جائے گا، روزہ رکھنے کی استطاعت ہو تو بعد میں قضا کرے، ورنہ فدیہ ادا کرے۔

11۔ انتہائی درجے کے ذیابیطس کے مریض یا ایسے تمام اَمراض میں مبتلا مریض جنہیں کوئی ماہر ڈاکٹر مشورہ دے کہ وقفے وقفے سے دوا استعمال کرو یا پانی پیو یا خوراک استعمال کرو، ورنہ مرض بے قابو ہو جائے گا اور کسی عضو یا جان کے تلف ہونے کا اندیشہ ہے، تو ایسے تمام لوگ معذور ہیں، اُنہیں شریعت نے رخصت دی ہے کہ روزہ نہ رکھیں اور فدیہ ادا کریں۔ ایسے لوگ ’’دائمی مریض‘‘ کہلاتے ہیں۔

12۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کا (دو وقت کا) کھانا مقرر کیا ہے، ہر روزے دار اپنے معیار اور مالی استطاعت کے مطابق فدیہ ادا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جو شخص فدیے کی مُقررہ مقدار سے خوش دلی کے ساتھ زیادہ رقم دے، تو یہ اُس کے لیے بہتر ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔