ترقی چاہیے، تو قومی زبان اپنائیے!!

عمر خٹک  ہفتہ 5 جنوری 2019
ہمیں اپنی تقدیر بدلنی ہے تو اردو زبان کو فروغ دینا ہوگا۔ فوٹو: انٹرنیٹ

ہمیں اپنی تقدیر بدلنی ہے تو اردو زبان کو فروغ دینا ہوگا۔ فوٹو: انٹرنیٹ

پال سارترے بیسویں صدی میں فرانس کے عظیم فلاسفر، پولیٹیکل ممبر اور بائیوگرافر گزرے ہیں۔ وہ 21 جون 1905 کو فرانس کے شہر پیرس میں پیدا ہوئے، 1929 کو فرانسیسی آرمی میں بھرتی ہوئے اور چار سال تک آرمی میں موسمیاتی ڈیوٹی دینے کے ساتھ ساتھ 1940 تک مختلف فوجی مراحل سے گزرے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران 1940 میں جرمن آرمی کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور نو ماہ تک جیل میں قیدی رہے۔ صرف نو ماہ قید میں سارترے نے اپنی پہلی اور جیل میں کل چار کتابیں لکھیں جس میں ایک ڈرامہ بھی شامل تھا۔ جیل سے رہائی کے بعد وہ لٹریچر کی طرف راغب ہوئے اور 1964 میں انہیں نوبل پرائز آف لیٹریچر کے ساتھ نوازا گیا۔ گویا پال سارترے اپنے زمانے کے ایک ملٹی ٹیلنٹڈ انسان تھے۔
اپنی 75 سالہ زندگی میں کل 21  کتابیں لکھیں جن میں آٹھ کتابیں دنیا کی بیسٹ سیلر بکس رہیں۔ پال سارترے نے آخری انٹرویو برصغیر کے متعلق دیا تھا۔ جب ان سے اس انٹرویو میں پوچھا گیا کہ بیسویں صدی کے لحاظ سے برصغیر پاک وہند کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ تو پال سارترے نے اس وقت ایک بات کہی تھی؛ انہوں نے کہا تھا کہ ’’بیسویں صدی کے لحاظ سے برصغیر کا مسئلہ نا غربت ہے، نہ افلاس، نہ بھوک ہے اور نہ ننگ… بلکہ اس کا سب سے بڑا مسئلہ زبان کی منافقت ہے۔ کہ اپنی زبان کو چھوڑ کر دوسرے قوم کی زبان پر چلنا شروع کردیا ہے۔‘‘
صحیح معنوں میں اگر پال سارترے کے الفاظ پر سوچنا شروع کردیا جائے اور اس کی روشنی میں تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی قوم نہیں ملے گی جس نے کسی دوسرے کی زبان اپنا کر ترقی کے منازل طے کیے ہوں۔ اگر ہم سارترے کے الفاظ سے اتفاق نہیں کریں گے تو پھر ہم تاریخ  کے ساتھ بھی اتفاق نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہمارے پچھلے 73 سال ہم پر گواہ ہیں کہ ہم نے ابھی تک اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا نہیں سیکھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم تاریخ  کوبدل دیں گے، لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اگر ہم نے اپنی تقدیر کو اپنی زبان میں تبدیل کیا تو تاریخ  ہم سے بدل جائے گی۔
اگر آپ پانچ ہزار سالہ تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو صرف دو قومیں ایسی ملیں گے جس نے ترقی کی اور دنیا کو ابھی تک حیران کرتے آ رہے ہیں۔ ہر روز نئے نئے ایجادات اس کی ترقی کی بنیاد پر ہمیں ملتے ہیں۔ دنیا میں دو ٹرننگ آف دی ہسٹری ہے۔ یعنی صرف یہی دو قومیں ایسی ہیں جن پر ترقی کی تاریخ لکھی اور پڑھی گئی ہے۔ ایک عرب، اور دوسرے انگریز۔ ان دو قوموں کے علاوہ اٙج تک اور کسی قوم نے ترقی اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا نہیں سیکھا۔
عربوں کے پاس کچھ نہیں تھا۔ نہ فلسفہ تھا، نہ طیب تھی، نہ سائنس اور نہ ہی کچھ اور۔ عربوں نے پورے دنیا کا علم پہلے اپنی زبان میں ٹرانسلیٹ کیا۔ اُس وقت ہارون الرشید کا زمانہ تھا، وہ ہر ٹرانسلیٹر کو تیس ہزار دینار کی تنخواہ دیتا تھا۔ اگر آج کے حساب سے دیکھا جائے تو وہ اُس وقت 1,37,48,400 پاکستانی روپیہ ہر مترجم کو ماہانہ دیتے تھے۔ اور جب عربوں نے پورے دنیا کا علم اپنی زبان میں ترجمہ کیا، تو پھر سندھ ابن علی، ابراھیم الفزاری، الفرابی، الکندی، ابن الحیاۃ، البیرونی، ابن زہر؛ جعفرالصدیق، ابن خلدون، ابو حنیفہ النعمان، بوعلی سینا اور الغزالی جیسے 269 سائنسدان پیدا کئے جنہوں نے سائنس میں ہر قسم کے شعبے کی بنیاد رکھی، اور دنیا کے ہر دروازے پر مسلمان کو کھڑا کردیا۔
دوسری ترقی انگریز قوم کی ہے۔ شیکسپئر کے ڈرامے اور صرف 6 رومینٹک پوائنٹ کے علاوہ انگریزوں کے پاس کچھ نہیں تھا۔ نہ فلسفہ، نہ طیب، نہ سائنس نہ آسٹرالوجی اور نہ آنسٹرونومی۔ رات کو کتاب فرانس میں چھپتی تھی، اگلی صبح وہ بیٹھ کر پاگلوں کی طرح اُس کا ترجمہ کرتے تھے۔ آج بھی طبیان سوسائٹی کی پوری تحریک میں آپ کو بوعلی سینا عربی میں ملے یا نہ ملے، انگریزی زبان میں ضرور ملے گی۔
یوں جب انگریزوں نے ہرچھوٹی بڑی کتب اور ہر علم کو اپنی زبان میں منتقل کرلیا تب جاکر انہوں نے اپنی تاریکی کو ہٹایا، اور آج انگریز نے دنیا میں نیوکلیئر پاور، کمپیوٹر، ہوائی جہاز، آٹوموبائل، راکٹ، اینٹی بائیوٹکس ادویات، ٹیلی ویژن، ریڈیو، انٹرنیٹ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، الیکٹرک کار، ایپل آئی پیڈ، ورلڈ وائڈ سوشل سائٹس نیٹ ورکس، یوٹیوب اور اسمارٹ فونز جیسی ایجادات کر کے دنیا کو  حیران کرڈالا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگرآج کے دور میں انٹرنیٹ بند کیا جائے تو دنیا کا پہیہ رک جائے گا اور دنیا گلوبل ویلج سے ایک جزیرہ نما بن جائے گی۔
انگریزوں نے وہی علم جس میں عربوں نے ترقی کی تھی، کو اپنی زبان میں منتقل کرکے ترقی کی، اور آج ہمارے ہاتھ اور چہرے اس کی طرف ہوتے ہوئے ان سے پوچھ رہے ہیں کہ آپ لوگوں نے کیسے ترقی کرلی؟ اور وہ ہمیں 73 سال سے بے وقوف بنا کر ہم سے کہتے ہیں آپ لوگوں کا مسئلہ انگریزی  زبان میں مہارت نہیں، اس لیے آپ لوگ ترقی نہیں کرسکتے۔ پھر ہم سیکولرازم کے نعرے لگانے لگتے ہیں کہ جب تک ہم سیکولر نہیں ہو جاتے، جب تک ہم انگریزی میں بول چال نہیں اپناتے، اس کلچر اور تمدن میں رہنا نہیں سیکھ لیتے، ہم ترقی نہیں کرسکتے۔
اگر یہی بات ہے تو پھر ہم ایران سے اس کی تازہ ترین مثال لے سکتے ہیں۔ ایران نے 36 سال پہلے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اپنی زبان کے اندر گفتگو کریں گے، ہم اپنی زبان بولیں گے اور اپنی ہی زبان میں پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کریں گے۔ آج 24 سال سے لگاتار ہر سال ایران سے کسی ایک فیلڈ میں سے ایک شخص نوبل پرائز کے لیے نامزد ہوجاتا ہے۔ کیا یہ ترقی ایران نے انگریزی زبان میں کی جو ہر سال ایران نوبل پرائز کے لیے نامزد ہوتا ہے؟ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر ایران نے ہماری طرح انگریزی زبان کو اپنا مسئلہ سمجھا ہوتا تو آج ایران کوئی بھی نوبل پرائزنہیں جیت پاتا۔ ایران نے اپنے مسئلے کو سمجھا اور اس کے لیے حکمت عملی بنائی۔ لیکن ہم کامیابی کے منازل طے کرنے کےلیے او لیول سے اے لیول تک انگریزی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
پہلی جنگ عظیم میں پورے کے پورا فرانس تباہ ہوا، صرف پیرس شہر میں تین عمارتیں نظر آتی تھیں، باقی فرانس ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ کوئی فرانس کو چھوڑ کے نہیں گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان تباہ ہوا، کوئی جاپان کو چھوڑ کر نہیں گیا۔ جرمنی تباہ ہوا، کوئی جرمنی کو چھوڑ کر نہیں گیا۔ کیونکہ اُن کو یہ سکھایا نہیں گیا تھا کہ آپ نے امریکا اور یورپ کے بڑے بڑے شہروں میں جا کر اُس امریکا اور یورپ کو تعمیر کرنا ہے۔ کوئی سوڈان، پرتگال، چین اور دوسری اقوام سے نہیں کہتے کہ آپ لوگوں کا مسئلہ انگریزی زبان ہے۔ لیکن ہمارے ذہنوں کو پچھلے 73 سال سے مفلوج بنا کر ہمیں یہ سکھایا جا رہا ہے کہ آپ لوگوں کا مسئلہ انگریزی زبان ہے۔ انگریزی زبان کو پختہ  کرو، تمہارا معیار اوپر چلا جائے گا۔ اور پھر ہم سب دن رات اس کوشش میں جُٹ جاتے ہیں کہ جس دن ہم نے انگریزی زبان کو پر گرفت حاصل کرلی، ہم دنیا کی محتاجی سے باہر نکل آئیں گے۔ یہی ہمارا المیہ ہے۔
اگر ہم اس المیے کو سمجھیں، اور اس سے سیکھنا چاہیں تو ہم چین سے بھی سیکھ سکتے ہیں۔ چین اِس وقت دنیا کی سب سے ابھرتی ہوئی معاشی طاقت ہے۔ چین ہمارے ملک کے بعد آزاد ہوا، لیکن آج چین کے پاس کل 39.9 ٹریلین ڈالر سرمایہ ہے، جبکہ پاکستان 27 ہزار ارب ڈالرز قرضوں کے ملبے کے نیچے دبا ہوا ہے۔ یعنی اِس وقت پاکستان کا ہر شہری ایک لاکھ 30 ہزار روپے کا مقروض ہے۔ چین کی کل آبادی 1.42 بلین ہے اور ہماری آبادی صرف 22 کروڑ۔ لیکن اس کے باوجود چین سالانہ 217 اعشاریہ 3  بلین ڈالرز برآمدات اور صرف 1.86  ٹریلین درآمدات، جبکہ پاکستان چوبیس اعشاریہ نو ملین ڈالرز برآمدات اور 56.2 ڈالرز درآمدات کے ساتھ جی رہا ہے۔ چین کی فی کس آمدنی 7400 ڈالرز جبکہ پاکستان کی فی کس آمدنی 1290 ڈالرز ہیں۔
یعنی چین آسمان کی طرف گامزن اور ہم زمین پر رینگنے پر مجبور ہیں۔ ہر سال چین 50 لاکھ بیرونی
ممالک کے طلبہ و طالبات کو تعلیمی اسکالرشپس دیتا ہے۔ چین نے اتنے کم وقت میں یہ کامیابی کیسے حاصل کی؟ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی اور ان کے ساتھ جڑے چیلنجز کے باوجود چین نے سب سے پہلے اپنے زبان پر جمنا لازم کردیا۔ اور جب سارا نظام تعلیم چینی زبان میں کیا تو اب چین دنیا کے لئے معاشی اور ٹیکنالوجی لحاظ سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
چین یہ بات سمجھ چکا تھا  کہ دنیا میں قومیں نہ معاشی ترقی سے اٹھا کرتی ہیں نہ ٹیکنالوجی سے، بلکہ قومیں صرف شعور سے اٹھا کرتی ہیں۔ چین نے پہلے شعور کو اجاگر کیا، اب یہ ترقی کی تاریخ  لکھنے کے لئے تیار ہے۔ کیونکہ چین یہ اصول  بھی جان گیا تھا کہ جب کوئی کسی زبان کو بولتا اور پڑھتا ہے تو وہ لوگ اس کلچر کے اندر رہنا شروع کردیتے ہیں، اس کی اقداراپنانا شروع کرتے ہیں۔
قومیں اپنے وقار اور حیثیت کے اوپر بنتی ہیں۔ ہم کیسی بے زبان قوم ہیں جس نے انگریزی کو خود پہ طاری کر کے اس کلچر اور اس کے ناموں، اقدار اور اس کے ہیروز کے ساتھ رہنا شروع کردیا۔
عربوں نے ترقی کی تو اپنی زبان میں، انگریزوں نے ترقی کی اور کررہے ہیں تو اپنی زبان میں، چین ترقی کے راستے پر چل پڑا ہے تو اپنی زبان کی وجہ سے۔ کیا ہارون رشید مجنون تھا، پاگل تھا جو اُس دور میں ہر مترجم (ٹرانسلیٹر) کو تیس ہزار دینار دیتا تھا؟ ہارون الرشید اُس وقت بھی یہ بات جان گیا تھا کہ آپ کسی زبان میں کچھ نہ کچھ سیکھ پائیں گے، لیکن اب اس میں یا اس کی وجہ سے کچھ تخلیق نہیں کر سکتے۔
پھر عربوں کا وہی علم جس میں عربوں نے ترقی کی تھی، انگریزوں نے کیوں اپنی زبان میں ٹرانسلیٹ کیا؟ کیونکہ انگریز بھی یہ جان گئے تھے کہ آپ کسی اور کی زبان میں ترقی نہیں کرسکتے۔موجودہ زمانے میں چین نے بھی سارا علم چائنیز زبان میں منقتل کیا۔ چین نے بھی انگریزی نصاب کو نہیں چنا، لیکن ایک پاکستانی قوم ہے جو اپنے المیے کو نہیں سمجھتی اور نہ سمجھنے کے لئے تیار ہے۔ اپنی قومی زبان  اردو کو چھوڑ کر مسلسل تنزلی کی سمت جارہی ہے۔ پورا نظام تعلیم غیروں کی زبان میں ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری کام انگریزی میں سر انجام دیے جاتے ہیں۔ اور جب سمجھانے کی بات آتی ہے تو ہم ایک دوسرے کو اردو میں سمجھاتے ہیں۔ غیروں کی زبان میں ہونے کی وجہ سے ہماری تعلیم قوم میں شعور نہیں لا سکتی۔ اگر کسی انسان کے وجود میں شعور نہیں ہوگا تو وہ وجود صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ کہلائے گا۔
اگر اپنے ملک کی تقدیر کو بدلنا ہے تو ہمیں اردو زبان کو فروغ دینا ہوگا۔ سارا تعلیمی نظام اور سرکاری امور کو اردو میں تبدیل کرنا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت مشکل فیصلہ ہے، لیکن مشکل فیصلے ہمیشہ مشکل وقتوں  میں ہی کرنے پڑتے ہیں۔ جس طرح ہم نے مشکل وقت میں خود کو نیوکلیئر اسٹیٹ ڈکلئیر کیا تھا، اُسی طرح یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ پاکستانیوں میں قابلیت کی کمی نہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ جس دن ان میں شعور آ جائے گا کہ ہمارا مسئلہ انگریزی زبان ہے، اور ہمارا تعلیمی نظام ہمارے اپنے زبان میں ہونا چاہیے، اس دن یہ دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دے گی۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اب عرب، انگریز اور چائینیز اقوام سے سیکھیں اور پال سارترے کے الفاظ اور پانچ ہزار سالہ تاریخ کے ساتھ معاہدہ کریں۔ جس دن ہمارے اندر یہ شعور آجائے گا، اس لمحے ہمارے ہاتھ اٹھ جائیں گے اور پال سارترے کو دعائیں دیں گے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔