پاک چین اقتصادی تعاون

ایم آئی خلیل  بدھ 10 جولائ 2013

عوامی جمہوریہ چین جس نے 1949میں آزادی حاصل کی۔ پاکستان نے 1950میں تائیوان کے ساتھ تعلق توڑ کر چین کے ساتھ اپنے تعلقات کا آغاز کیا۔ 1962میں بھارت، چین جنگ کے بعد چین نے پاکستان کی اہمیت کو محسوس کیا۔ 1978میں شاہراہ قراقرم کی تعمیر سے مغربی چین اور پاکستان کا زمینی راستے سے تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہوا۔کئی برسوں سے چین نے اپنی معاشی نمو کی شرح کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ نئی چینی قیادت ایسی معاشی پالیسی اختیارکررہی ہے تاکہ معاشی ترقی کے فوائد سے معاشرے کے تمام طبقے مستفید ہوسکیں۔

اس کے لیے جہاں غیرملکی سرمایہ کاری کو ملک میں فروغ دیا جا رہا ہے اس کے ساتھ اس بات کو فوقیت دی جا رہی ہے کہ ملک میں صرف کی سطح کو بڑھایا جائے۔ جس کے لیے برآمدات میں اضافے کے ساتھ درآمدات بھی بڑھائی جارہی ہے۔ یورپ اور امریکا میں مالیاتی بحران اورکساد بازاری کے بعد چین ان ملکوں سے درآمدات میں اضافے کا خواہاں ہے۔ وہ دنیا بھر کے ملکوں سے اقتصادی تعاون میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کررہاہے۔ امریکا اور یورپ کو بھی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے چین جیسے ملک جس کے زرمبادلہ کے ذخائر تین ہزار ارب ڈالر سے زائد اور برآمدات دو ہزار ارب ڈالر تک ہیں، کے ساتھ باہمی اقتصادی تعاون کی سخت ضرورت ہے۔ چین نے بھی امریکا اور یورپ کے ٹریژری بلزخرید رکھے ہیں۔

چین امریکا، بھارت یا کسی اور ملک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ کیے بغیر معاشی تعلقات کو مستحکم کرتے ہوئے ملکی ترقی میں اضافے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ دوسری طرف امریکا، مشرقی ایشیا، آسٹریلیا، میانمار اور دیگر کئی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے۔ امریکا کا دفاعی بجٹ بھی چین کے دفاعی بجٹ سے کئی گنا بڑا ہے۔ چین بھی دنیا کے کئی ملکوں کی بندرگاہوں اور ریل پروجیکٹ پر سرمایہ کاری کررہا ہے۔ اس وقت جب کہ یورپ اور امریکا کو چین کے ساتھ اپنے تجارتی روابط بڑھانے کی ضرورت ہے دنیا بھر سے عالمی کساد بازاری کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے چین نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔

عالمی تجارت کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ دنیا بھر کے ملکوں کے تجارتی تعلقات میں اضافہ ہو۔اگرچہ دنیا کے کئی ملکوں میں چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کو امریکا پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ چین کے برآمدات میں اضافے اور مصنوعات میں جدت پیدا کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے حصول کو بھی بعض ممالک پسند نہیں کرتے۔ لیکن باہمی تجارت کے فروغ کے لیے ضروری تھا کہ دنیا بھر کے ملکوں کے فاصلے آپس میں سمٹ جائیں۔ چین اور پاکستان نے کئی عشرے قبل گوادر کی اہمیت کو تسلیم کرلیا تھا ، لیکن اب وزیراعظم نواز شریف نے چین کا کام یاب دورہ مکمل کرتے ہوئے کہاہے کہ ’’گوادر کا راہداری منصوبہ خطے میں گیم بدل دے گا۔ 18ارب ڈالر سے راہداری کی 200 کلومیٹر سرنگیں تعمیر ہوںگی۔

کراچی سے لاہور تک موٹروے بنے گی۔ پاکستان اور چین نے ایشیائی اقتصادی اہمیت پر اتفاق کرتے ہوئے خطے میں سماجی واقتصادی ترقی کے ذریعے کشیدگی کی وجوہات کے خاتمے پر اتفاق رائے ظاہر کیا ہے۔ پاکستان نے تیز رفتار بلٹ ٹرین چلانے کے منصوبے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 8 اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کے علاوہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے، ایکسچینج اور کارپوریشن، اقتصادی اور تکنیکی تعاون کے منصوبوں کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ دورہ چین کے موقعے پر وزیراعظم پاکستان کا کہناتھا کہ پاک چین دوستی سمندر سے گہری، ہمالیہ سے بلند اور شہد سے بھی میٹھی ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔

مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے کیے گئے معاہدوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ چین نے حکومتی گارنٹی کے لیے6فیصد انشورنس اخراجات ختم کردیے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاہے کہ چین کی مدد سے توانائی کے بحران پر قابو پائیں گے۔ دورہ چین کے موقعے پر شنگھائی میں پاک چائنا انرجی فورم جس میں پچاس سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی تھی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھروں کوکوئلے پر منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ توانائی بحران کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انرجی سیکٹر میں چینی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کریں گے۔ تھر پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری میں حائل تمام رکاوٹوں کو دورکیا جائے گا۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار بہتر بنانے میں چائنا انجینئرنگ کارپوریشن اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دورہ چین کے موقعے پر دارالحکومت بیجنگ سے شنگھائی تک کا سفر بلٹ ٹرین میں کیا۔ اس دوران انھیں بلٹ ٹرین کے بارے میں آگاہی دی گئی۔ شنگھائی پہنچ کر سرمایہ کاروں سے شاہراہوں، بلٹ ٹرین اور توانائی کے منصوبوں پر بات چیت کی گئی۔ شمسی توانائی،کوئلے سے بجلی کی پیداوار، ہائیڈل پاور اور ونڈ پاور کے منصوبوں پر بات کی گئی۔ سرمایہ کاروں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی اور ہر طرح سے تحفظ بھی فراہم کیا جائے گا۔

گوادر سے چین کے صوبے سنکیانگ کے شہر کاشغر تک شاہراہ کی تعمیر سے در اصل چین کا رابطہ بحیرہ عرب، ایران اور مشرق وسطیٰ سے قائم ہوجائے گا۔ اس طرح چین افریقا تک جلد پہنچ سکتاہے۔ اس طرح پاکستان کی طرف سے تجارتی راہداری کی فراہمی سے نہ صرف چین بلکہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں کی تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ اس طرح وسطی ایشیا کے ممالک بھی گوادر پورٹ سے مستفید ہوکر اپنی تجارت کو بڑھاسکتے ہیں اور یوں دنیا میں سرد بازاری میں کمی واقع ہونے سے یورپ اور امریکا بھی فوائد سمیٹ سکتے ہیں۔

چین کی جانب سے درآمدات میں اضافے کے باعث یورپ اور امریکا کی برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔ چین کے ساتھ تجارتی اشتراک سے مالیاتی مسائل میں گھرے ہوئے ملکوں کی معاشی مسائل میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ چین کوئلے کے ذریعے توانائی حاصل کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور توانائی کے استعمال میں دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور پیٹرول کو تیسرا بڑا درآمدی ملک ہے۔ ایک طرف چین کو ایرانی گیس کی بھی پیش کش کی جارہی ہے۔ جس سے چین کی صنعتی ترقی کو پر لگ جائیں گے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہونے کے باعث جب لوگوں کا معیار زندگی بلند ہوگا تو در آمدی اشیا کی کھپت میں اضافہ ہوگا۔ یورپ اور امریکی برآمدات میں اضافے کے ساتھ پاکستانی مصنوعات خصوصاً ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ چونکہ چین کی آبادی ایک ارب تیس کروڑ افراد پر مشتمل ہے، گوادر کاشغر تجارتی راہداری کی تکمیل سے تین ارب افراد فائدہ اٹھا سکیں گے۔ دنیا کی آبادی 7 ارب سے زائد ہے۔ ایسے میں اگر تین ارب افراد کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے تو اس سے پاکستان اور دنیا کی معاشی سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

اس وقت پاکستان اور چین کی باہمی تجارت کی صورت حال کچھ اس طرح سے ہے کہ جولائی تا فروری 2013تک چین سے در آمدات کا اندازہ4کھرب 26ارب 6کروڑ روپے کا لگایاگیاہے۔ جو کہ کل درآمدات کا 15.58فیصد بنتاہے۔ پاکستان کی در آمدی تجارت میں چین دوسرا بڑا ملک ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے چین کے لیے پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ برادری تجارت میں چین پاکستان کا تیسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ جولائی تا فروری 2012تک پاکستانی برآمدات کا تخمینہ ایک کھرب 10کروڑ روپے کا لگایاگیا۔ جو کل برآمدات کا 8.27فیصد بنتاہے۔ جب کہ جولائی تا فروری2013 تک چین کو کیے گئے ایکسپورٹ کا تخمینہ ایک کھرب 64ارب 96کروڑ روپے کا لگایاگیاہے۔ جو کہ اس عرصے میں کیے گئے پاکستان کی کل برآمدات کا 10.83فیصد بنتاہے۔

چین اور پاکستان کے مابین مقامی کرنسی میں تجارت کا معاہدہ موجود ہے۔ چین سولر انرجی ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہے جس سے ہم مستفید ہوسکتے ہیں۔ اگرچہ نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے5روزہ قیام کے دوران بہت سی ملاقاتیں کی اور کئی جگہوں کے دورے کیے۔ خطاب بھی کرتے رہے، معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف اور ان کی ٹیم مکمل تیاری کے ساتھ چین روانہ ہوئے تھے۔ چین کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر عمل در آمد کی نگرانی کے لیے سیل بھی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ چین نہروں اور دریاؤں پر پانی کے چھوٹے چھوٹے منابع میں سے ہائیڈل بجلی پیدا کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔

اگرچہ اس دورے کے دوران اس طرف توجہ نہیں دی گئی لیکن اب فوری طور پر بجلی کی اس سستی ترین پیداوار پر بھی بھرپور توجہ دی جانی چاہیے۔ نیز سب سے اہم ترین معاملہ جیسا کہ وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ سیکیورٹی معاملات ہر صورت ٹھیک کرنا ہوں گے۔ جب تک امن وامان قائم نہیں ہوگا سرمایہ کار ماہرین، انجینئرز اور دیگر عملہ پروجیکٹ پر کام کرنے پر رضامند نہ ہوں گے۔ پاک چین اقتصادی تعاون کے منصوبوں کی کام یابی کا انحصار امن وامان پر ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔