2018 کاروباری مشکلات کے باعث تاجروں کیلیے مایوس کن ثابت ہوا

اسٹاف رپورٹر  منگل 1 جنوری 2019
کاروباری لین دین میں کمی سے بینکوں کا کاروبار متاثر ہوا، 
 فوٹو: فائل

کاروباری لین دین میں کمی سے بینکوں کا کاروبار متاثر ہوا، فوٹو: فائل

 کراچی:  2018 کاروباری مسائل و مشکلات، بیروزگاری، ہوشربامہنگائی اور مایوسی کا سال ثابت ہوا، البتہ بدعنوانی اور لاقانونیت کے خلاف جاری ملک گیر آپریشن کے باعث 2019 میں بہتری کی امیدیں وابستہ ہیں۔

مارکیٹوں سے مندی اور کساد بازاری کا خاتمہ نہ ہوسکا، نومنتخب حکومت کی جانب سے معیشت میں بہتری کی کوئی بھی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوسکی، تاجروں کے مسائل، مشکلات اور آزمائشوں میں اضافہ ہوا، تبدیلی کی دعویدار حکومت ملک کے معاشی حالات تبدیل نہ کرسکی۔ ڈالر نے روپے کے پرخچے اڑادیے جس کے نتیجے میں مہنگائی کا سونامی غریب اور متوسط طبقے کو بہا کر لے گیا۔

کراچی میں امن و امان کی مجموعی صورتحال غیرتسلی بخش رہی، 500سے زائد دکانوں کے تالے توڑ کر رقوم لوٹ لی گئیں، اسٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ کا عفریت اچانک بے قابو ہوگیا، تجاوزات کی زد میں آنے والی دکانوں کے مسمار ہونے کے نتیجے میں25ہزار گھرانے بے روزگار ہوگئے، سابقہ حکومت نے معیشت کی ٹرین پٹری سے اتاری جبکہ موجودہ حکمران اب تک درست سمت کا تعین نہیں کرسکے، تاجروں نے کرپشن اور لاقانونیت کے خلاف جاری ملک گیر آپریشن کو مثبت اور 2019کو تبدیلی کا سال قرار دے دیا، اس ضمن میں آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے بتایا ہے کہ معاشی حب کراچی ناقابلِ برداشت مہنگائی، ہولناک بیروزگاری اور اذیت ناک بلدیاتی عذاب سے دوچار رہا، مہنگی بجلی، مہنگا پیٹرول اور سی این جی کی عدمِ دستیابی نے تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا، انھوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کی شرح 100 فیصد بڑھ گئی۔

رینجرز کی کارکردگی حوصلہ افزا رہی، بھتہ، اغوا برائے تاوان میں 90 فیصد کمی ہوئی ، سرمایہ کاروں کا حوصلہ بحال نہ ہوسکا ، سرمایہ کاری70فیصد تک کم ہوگئی، نئے تجارتی یونٹس کا قیام10فیصد سے بھی کم رہا، ملازمتوں کے مواقع ناپید رہے، ہر تہوار پر تاجروں کا سیل سیزن غیر تسلی بخش اور خریدار قوتِ خرید سے محروم رہے، تبدیلی کا دعویٰ کرنے والی حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے میں ناکام رہی، پاک آرمی کے مثبت کردار کے نتیجے میں تمام قومی تہوار انتہائی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منائے گئے اور خریداری کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، مقامی مصنوعات پر درآمدی اشیا کا تسلط قائم ہوگیا، بیشتر کارخانے دار اپنا کام سمیٹ کر غیرملکی اشیا کے درآمد کنندگان بننے پر مجبور ہوگئے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔