خود آگاہی کا سفر

فواد ظفر احمد خان  منگل 1 جنوری 2019
خودآگاہی ایک نعمت ہے، یہ زندگی کی طرح ایک جہد مسلسل کا نام ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

خودآگاہی ایک نعمت ہے، یہ زندگی کی طرح ایک جہد مسلسل کا نام ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

 

خود آگاہی ہماری زندگی کا ایک اہم پہلو ہے جسے ہم اپنی مصروف زندگی میں مسلسل نظر انداز کررہے ہیں – اگر ہم صرف اس خوبی کو اپنے اندر پیدا کر لیں تو اپنی ذاتی ، معاشی  و معاشرتی طرز زندگی کو غیرمعمولی حد تک بہتر کر سکتے ہیں –  اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا  کہ اس محنت سے بھرپور سفر کا اثر  نہ صرف ہماری اپنی ذات کو  بہتر  بنا سکتا ہے، بلکہ ہمارے ساتھ رہنے والے لوگوں کو بھی نفع  پہنچا سکتا ہے- مگر  پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خود آگاہی دراصل ہے کیا؟  اور ہم کس طرح اس خوبی کو اپنے اندر پیدا کر سکتے ہیں؟

خود آگاہی کیا ہے؟

خودآگاہی نہ صرف  خود کو سمجھنے، بلکہ اس امر کو سمجھنے کا نام ہے جس کے ذریعے ہمارے ساتھ رہنے والے لوگ ہمارے بارے میں  مثبت یا منفی رائے قائم کرتے ہیں- ہم اپنے خیالات اور جذبات کو جانچنے اور ان سے نتیجہ اخذ کرنے کی بنیاد پر ہی خود کو پہچان سکتے ہیں –

علامہ محمد اقبال خود آگاہی کے فلسفے کو پیش نظر رکھتے ہوئے بال جبریل میں فرماتے ہیں:

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

ایک اور جگہ اقبال خود آگاہی کی طرف واضح اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

بلھے شاہ خود آگاہی  کے تصور اور انسان کے اپنے آپ سے لاعلمی کے المیہ کو یوں بیان کرتے ہیں:

پڑھ پڑھ علم ہزار کتاباں
کدی اپنے آپ نوں پڑھیا نئی

 خودآگاہی جدید نفسیات کی روشنی میں

جدید نفسیات خودآگاہی کو اندرونی اور بیرونی  لحاظ سے دیکھتی ہے-  اندرونی خود آگاہی سے مراد خود کو سمجھنا اور اپنے رویوں سے سیکھنا ہے، جبکہ  بیرونی خود آگاہی خود کو دوسروں  کی آنکھ سے دیکھنا ہے-  اب اس فلسفہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس طرح اندرونی اور بیرونی خود آگاہی پر عبور حاصل کرتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں- جدید تحقیق اس بات پر متفق ہے کہ اندرونی اور بیرونی خود آگاہی کے حامل افراد عام لوگوں سے بہتر لیڈرشپ کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بہتر اور کامیاب زندگی  گزارتے ہیں-

تو آئیے! دیکھتے ہیں وہ کون سی سادہ عادتیں ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے ہم خود کو  سمجھتے ہوئے اپنی اور دوسروں کی زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں-

1۔ محاسبہ اور غوروفکر کرنا

دن میں کم از کم ایک مرتبہ اپنے آپ سے بات کریں اور خود سے چند بنیادی سوالات پوچھیں-  ان سوالات میں چند یہ بھی ہو سکتے ہیں؛

میں زندگی میں کیا حاصل کرنا چاہتا یا چاہتی ہوں؟ میں جو کر رہا یا رہی ہوں اس کا فائدہ دوسروں کو مل رہا ہے یا نہیں؟ ایسے کون سے عوامل ہیں جو میرے سیکھنے یا ترقی کرنے کی راہ میں رکاوٹ  ہیں؟ میں خود کو کیسے  مثبت طور پر بدل سکتا یا سکتی ہوں؟ ان سوالات  کے جوابات آپ کے خود آگاہی کے سفر میں موثر اضافہ ہوں گے-

2۔ اپنی ترجیحات کو لکھنا

جب بھی آپ کو خود سے پوچھے گئےسوالوں کا جواب ملے تو ان کو ایک جگہ لکھ لیجیے-  یاد رکھیے کہ آپ کی زندگی کے بارے میں آپ سے زیادہ بہتر فیصلہ کوئی بھی نہیں کرسکتا- اس اصول کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی زندگی  کی بہترین ترجیحات کو لکھنا سیکھیے- اس طرح آپ زندگی کے نشیب و فراز میں اپنی ترجیحات کو ہمیشہ اپنے سامنے لکھا دیکھ سکیں گے اور  ان پر عمل کرنے یا نہ کرنے کی صورت میں آپ کو اپنی خلوص نیت اور ثابت قدمی کا بھی بہتر اندازہ ہو جائے گا- اگر آپ اس میں ناکام ہو رہے ہیں تو اپنی ناکامی کی وجوہات  بھی لکھیے-

3۔ اپنی شخصیت کو  پہچاننا

اپنی شخصیت کو پہچاننے کا عمل آسان نہیں-  اس میں آپ آن لائن موجود شخصیت کے  ٹیسٹ دے کر یا کسی اچھے ماہر نفسیات سے سیشن طے کرکے اپنی شخصیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں- آپ اپنے شعبے کے کامیاب لوگوں سے بھی استفادہ حاصل کرسکتے ہیں- کردار سازی کے حوالے سے مختلف ٹریننگ اور ورکشاپس نہ صرف آپ کو خود کو جاننے میں مدد دیتی ہیں، بلکہ آپ دوسروں کے ساتھ ایک مشاورتی ماحول میں بہت کچھ سیکھ بھی جاتے ہیں-

4۔ دوسروں کی نظر سے خود کو دیکھنا

یاد رکھیے کہ بیرونی خود آگاہی اس بات کی سمجھ بوجھ رکھنا ہے کہ دوسرے آپ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں- اگر آپ کو کسی لمحے یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ کو مدد کی ضرورت ہے تو اپنے کسی پرخلوص دوست کی مدد لیں اور اس سے اپنی کمزوریوں کے بارے میں سچائی کے ساتھ دریافت کریں- اس طرح آپ کا دوسروں کی زندگی میں کردار واضح طور پر سامنے آجائے گا اور آپ کو بیرونی خود آگاہی کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی-

خودآگاہی ایک نعمت ہے، یہ زندگی کی طرح ایک جہد مسلسل کا نام ہے- انسان ہر روز ایک نیا سبق سیکھتا ہے، اور کامیاب انسان وہ ہے جو اپنی غلطیوں سے سیکھ کر خودآگاہی کی منزلیں طے کرے- ایک کامیاب معاشرہ تب ہی وجود میں آتا ہے جب اس میں رہنے والا ہر شخص یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ مجھے تبدیلی کا آغاز خود اپنی ذات سے  کرنا ہے-

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

فواد ظفر احمد خان

فواد ظفر احمد خان

بلاگر فُل برائیٹ اسکالرشپ ایوارڈ یافتہ اور یونیورسٹی آف جارجیا، ریاست ہائے متحدہ امریکا سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں- ان سے ان لنکس پر رابطہ کیا جاسکتا ہے Email: [email protected] Facebook Page: https://www.facebook.com/fawadzakh



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔