ترکوں کا مرکزی نظام حکومت

بشریٰ محمود  جمعرات 3 جنوری 2019
قدیم ترکی رسم و رواج کے مطابق ملک کو بادشاہ اور ان کے خاندان والوں کا مشترکہ مال سمجھتے  تھے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

قدیم ترکی رسم و رواج کے مطابق ملک کو بادشاہ اور ان کے خاندان والوں کا مشترکہ مال سمجھتے تھے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

عثمانی ترکوں نے ایشیائے کوچک میں داخل ہوکر ایک سلطنت کی بنیاد رکھی جو تین صدیوں کے اندر دنیا کی وسیع ترین اور سب سے زیادہ طاقتور سلطنت ہوگئی۔ اس کی رعایا میں کرد، البانی، یونانی، ایرانی، عرب، سیلانی اور جرمن، ہر قوم کے باشندے شامل تھے۔ لیکن جو چیز ان ترکوں کو دوسری خانہ بدوش قوموں سے ممتاز کرتی ہے وہ ان کی سلطنت کی پائداری ہے۔

خانہ بدوشوں کی حکومت ڈیرھ سو برس سے زیادہ نہیں چلتی۔ عثمانی ترکوں نے جس سلطنت کی بنیاد ڈالی وہ چھ سو سال سے زیادہ قائم رہی۔ سلطنت کے اتنی مدت تک قائم رہنے کا باعث محض عثمانیوں کی فطری جنگجوئی نہیں ہے، کیونکہ یہ جوہر تو بعض دوسری قوموں میں بھی پایا جاتا ہے۔ بلکہ اس کا اصلی سبب ان کا حیرت انگیز نظام حکومت ہے، جو اپنے زمانے میں دنیا کا بہترین نظام سمجھا جاتا تھا۔

بادشاہ یا سلطان:

قدیم ترکی رسم و رواج کے مطابق ملک کو بادشاہ اور ان کے خاندان والوں کا مشترکہ مال سمجھتے  تھے۔ بادشاہ کا انتخاب خاندان والے کرتے تھے۔ جو بھی شخص خاندان کا سردار ہوتا تھا، وہی مملکت کا بادشاہ بھی ہوتا تھا۔ عثمانیوں کے ابتدائی دور میں اسی پر عمل ہوتا رہا، کیونکہ حکومت کے معاملات میں اخی لیڈروں کو بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی۔ اس وجہ سے کہ حکومت کے معاملات میں اخی لیڈروں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ حکمران کے انتخاب کے سلسلہ میں کوئی قانون تھا، اور نہ نامزدگی کا اصول تھا۔ عثمانیوں میں مرنے والے بادشاہ کا کوئی بڑا یا چھوٹا بیٹا، بھائی یا چچا حکمراں ہوسکتا تھا۔ اکثر اوقات بادشاہ باہمی جنگوں اور بغاوتوں کے خوف سے اپنے بھائیوں کو قتل کرادیا کرتے تھے۔ عقیدہ کے لحاظ سے اقتدار اعلیٰ خدا کو حاصل تھا۔ اسی نظریہ کو ترکوں نے بہت پھیلایا، لیکن جہاں تک عملی سیاست کا تعلق ہے، بادشاہ مطلق العنان ہوتا ہے۔

تمام طاقتوں کا سرچشمہ بادشاہ ہی کو سمجھا جاتا تھا، لیکن اس کے تمام اقدامات اس کی خواہش کے مطابق نہیں ہوتے تھے۔ وہ قانون، رسم و رواج اور نظام کا پابند تھا۔ اسلامی قوانین کو تقریباً تمام معاملات میں برتری حاصل تھی، اور بادشاہ شریعت کی حدود میں رہ کر اپنے حق اور طاقت کا استعمال کرسکتا تھا۔ اسلامی مملکتوں میں سلطان کو خلیفہ کہا جاتا تھا، اور اس کے زبان و قلم سے جو بھی بات نکلتی تھی وہی قانون بن جاتا تھا۔ خود مختاری کے باوجود بادشاہ کو امور مملکت سے مشورہ کرنا پڑتا تھا۔ اس لیے سلطان کا دائرہ اختیار ایک حد تک محدود تھا۔

پورے نظام کا مرکز سلطان کی ذات تھی۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ اسے عمدہ طریقہ پر چلانے کے لیے سلطان میں طاقت کے علاوہ عقل و فہم، تدبر، عدل و انصاف اور رعایا پروری کے اوصاف بھی بدرجہ اتم ہوں۔ اور ان سب سے زیادہ ضروری وصف ملکہ حکمرانی کا تھا جو عثمان سے لے کر سلیمان اعظم تک تمام سلاطین میں بدرجہ غایت پایا جاتا تھا۔

سلطان محمد ثانی نے اپنے عہد حکومت میں دولت عثمانیہ کو پندرھویں صدی کی سب سے زیادہ طاقتور سلطنت بنا دیا تھا جو دریائے فرات کے بالائی حصے سے لے کر بحرایڈ ریاٹک تک اور بحرروم سے لے کر دریائے ڈینیوب اور کریمیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ سلطان فاتح پہلا شخص ہے جس نے دولت عثمانیہ کے نظم و نسق کو نئے سانچوں میں ڈھالا، اور تمام ممکنہ وسائل سے کام لینے کے ساتھ اس نے گرد و پیش کی تمام تہذیبوں سے بھی کما حقہ استفادہ کیا۔ سلطان فاتح نے بازنطینوں کی اجتماعی زندگی سے متاثر ہوکر مجلسی ضابطوں کی تشکیل بھی دی تھی اور حاضرین مجلس کے لیے لازمی قرار دیا تھا کہ وہ ان ضابطوں کی پوری پابندی کریں۔ سلطان فاتح کی قوانین مملکت کی تشکیل کی طرف اس کی خاص توجہ تھی۔ اس غرض کے لیے اس نے علماء اور فضلاء کی ایک کمپنی بنائی جس نے کافی محنت کے بعد ان احکام اور فرامین کو جمع کیا جو سلطان فاتح کے آباؤ اجداد نے مختلف امور کے متعلق اپنے اپنے عہد میں صادر کیے تھے۔

سلطان سلیمان قانونی کے زمانے تک سلطان ہی کے ہاتھ میں افواج کی اعلیٰ کمان ہوتی تھی۔ جنگ میں وہ خود شرکت کرتا تھا۔ فوج کی تربیت فوج کی خدمات اور جنگی کارناموں کی وجہ سے بادشاہ فوج میں ہر دلعزیز تھا۔ لیکن بعد میں نااہل حکمرانوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا اور فوجی نظام بھی تباہ و برباد ہوگیا۔ معمولی جنگوں میں سلطان خود شرکت نہیں کرتا تھا، بلکہ کسی بیگ یا وزیراعظم کو بھیج دیا کرتا تھا۔

اقتدار اعلیٰ کی علامتیں سکّہ کا اجراء اور خطبہ میں نام لینا تھا۔ اس کے علاوہ قدیم ترکی رواج کے مطابق اس کا اپنا پرچم ہوتا تھا، جیسے آق سنجاق یعنی ’’ سفید پرچم‘‘ تھا۔ اس پرچم میں چھ تیغ ہوتے تھے۔ سلطان کے فرائض میں دیوان یا مجلس کا انعقاد نہایت اہم تھا اور مرکزی نظام میں اس کو بہت اہمیت حاصل تھی۔

دیوان:

دیوان کے عموماً چار اراکین تھے:

  • صدر یا وزیر اعظم
  • قاضی عسکر
  • دفتردار
  • نشانچی

یہ دیوان کے مستقل اراکین تھے۔ اہم مواقع پر چالیس ارکان کی ایک بڑی مجلس منعقد ہوتی۔ جس میں سلطنت تمام شعبوں کے اعلیٰ عہدہ دار شرکت کرتے۔ ناگہانی ضرورتوں کے موقع پر اراکین جب طلب کیے جاتے تو وہ مسئلہ زیر غور پر کھڑے کھڑے مشورہ کرتے ایسی مجلس کا نام استادہ دیوان تھا۔

دیوان کا اجلاس ہر روز بعد نماز فجر ہوا کرتا تھا۔ عام طور پر سلطان ہی صدارت کرتا تھا۔ سلطان کی غئر موجودگی میں صدراعظم صدارت کے فرائض انجام دیتا تھا۔ دیوان تمام امور پر غور و خوض کرتا تھا۔ دیوان کے فیصلوں کے خلاف سماعت کہیں نہیں ہوسکتی تھی۔ یہی آخری عدالت تھی۔ زمانہ جنگ میں تمام اراکین دیوان سلطان کے ساتھ رہتے تھے اور اس کا اجلاس سلطان کے حکم کے بموجب کہیں بھی منعقد کیا جاسکتا تھا۔ پندرھویں صدی کے وسط میں دیوان ہفتہ میں چار دن منعقد ہوتا تھا۔ (ہفتہ، اتوار،پیر، منگل)۔

وزیراعظم:

ابتدائی دور میں صرف وزیر ہوتا تھا جب وزراء کی تعداد بڑھی تو ان میں سے ایک کو وزیراعظم کہا جانے لگا بعد میں صدراعظم سلطان کے بعد دوسری اہم شخصیت وزیراعظم کی ہوگئ۔ عثمانیوں کا پہلا وزیراعظم چندرلی زادہ علی پاشا تھے۔ اسی دور میں تیمور پازا کو بھی وزیر بنا دیا گیا تھا۔ اس لیے چندرلی زادہ کو وزیراعظم کہا جاتا تھا۔ وزیراعظم کے اقتدار کی علامت تین تغ تھے۔ کہا جاتا کہ عثمان اور اورخان کے دور میں علاءالدین پاشا وزیر تھے مگر تحقیق سے معلوم ہوگیا ہے کہ عثمان غازی کے بیٹے علاءالدین بگ یا اورخان ک بیٹے سلیمان پاشا نے کبھی بھی وزارت نہیں کی بلکہ یہ عہدہ ہمیشہ ایسے لوگوں دیا جاتا رہا جو عثمانی خاندان سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔

عثمانی مورخین کی تحقیق کے مطابق مراد اول کے دور میں پہلی بار چندرلی خیرالدین قرۃ خلیل پاشا کو وزیراعظم بنایا گیا۔ یہی پہلا وزیراعظم تھا۔ مراد سوم کے دور میں اس عہدہ کو ختم کر کے وکیل سلطنت کا عہدہ قائم کردیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں وزارت عظمیٰ پھر قائم ہوگئی۔ عثمانیوں کا آخری وزیراعظم یا صدراعظم احمد توفیق پاشا تھا جس کی مدت وزارت 21 اکتوبر 1920ء تا 4 نومبر 1922ء یعنی 2 سال 4 ماہ 28 دن تھی۔ یہ آخر میں چوتھی بار وزیراعظم ہوا تھا۔ اس نے 92 سال کی عمر میں وفات پائی جب اناطولیہ میں مصطفیٰ کمال اور ان کے رفقاء کار کو کامیابی ہوئی اور استنبول پر بھی قبضہ ہوگیا تو سلطنت کا خاتمہ کردیا گیا۔ پوری وزارت مستعفی ہوگئی اور نظم و نسق کو اعیان انگورہ نے سنبھال لیا۔ عثمانیوں میں وزارت عظمیٰ 1398ء سے 1922ء تک رہی۔ یعنی 554 سال۔ 211 وزیراعظم ہوئے جن کی اکثریت غیر ترک تھی۔ عرب، البانی، روسی، چرکسی، یونانی، ارمنی اور سلافی قوموں کے مسلم بھی وزیراعظم ہوئے لیکن کسی غیر مسلم کو صدراعظم نہیں بنایا گیا۔

قاضی عسکر:

اس کی اصل حیثیت فوجی منصف کی تھی اور شیخ الاسلام کے بعد اس کا درجہ آتا تھا۔ قاضی عسکر کو سلطان خود مقرر کرتا تھا۔ قاضی عسکر دو تھے ایک یورپی اور دوسرا ایشیائی مقبوضات کے لیے جو بلترتیب قاضی عسکر رومیلیا اور قاضی عسکر اناطولیہ کہلاتے تھے۔

دفتردار اور نشانچی:

دفتردار اور نشانچی سلطنت کی مالیات کے ذمہ دار تھے اور درجہ وزراء کے برابر تھے۔ دفتردار، وزیر مالیات تھا۔ نشانچی تمام سرکاری کاغذات تیار کرتا تھا اور جس کاغذ پر ضرورت ہوتی، سلطان کا طغراثبت کرتا تھا، اس کے ماتحت متعدد عہدہ دار تھے جو حکومت کی ہر کاروائی کی روداد مرتب کرتے تھے۔

 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

بشریٰ محمود

بشریٰ محمود

بلاگرتاریخِ اسلام کے شعبہ کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی و معاشرتی موضوعات پر بھی قلم نگاری کا شوق رکھتی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔