سقوط غرناطہ؛ مسلم تاریخ کا ایک اور نوحہ

فراز احمد خان  بدھ 2 جنوری 2019
مسلم اسپین اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب تھا جو کہ اب عبرتناک خواب کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

مسلم اسپین اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب تھا جو کہ اب عبرتناک خواب کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

آج سے 13 صدیاں قبل اسپین کی مہم کے دوران جبل الطارق نامی جزیرے (موجودہ جبرالٹر) پر پہنچنے کے بعد جب طارق بن زیاد نے اپنے لشکر کو کشتیاں جلانے کا حکم دیا تھا، تو اس کے وہم گمان میں بھی نہ ہوگا کہ تقریباً آٹھ سو سال بعد مسلمانوں کی واپسی ایسی حالت میں ہوگی کہ 8 صدیوں تک اسپین پر حکمرانی کرنے کے بعد مسلم حکمران نامردوں کی طرح آنسو بہاتا ہوا اقتدار کی کنجیاں عیسائی حکمرانوں کے حوالے کردے گا۔
جی ہاں، بات ہو رہی ہے اسپین کے آخری مسلم حکمران ابوعبداللہ کی جس نے آج سے 527 سال قبل 2 جنوری 1492 کوغرناطہ کا اقتدار ملکہ ازابیلا اور شاہ فرڈیننڈ کے حوالے کرکے اسپین میں صدیوں پر محیط عظیم الشان مسلم اقتدارکے خاتمے پر مہر ثبت کردی تھی۔
مسلمانوں کی گرفت کمزور ہونے کے بعد اسپین متعدد چھوٹی چھوٹی ریاسستوں میں تقسیم ہوچکا تھا جن میں سےغرناطہ واحد ریاست بچی تھی جس پر مسلمانوں کا اقتدار تھا۔ باقی تمام ریاستیں عیسائی حکمرانوں کے قبضے میں جاچکی تھیں۔
اگر ہم سقوط بغداد، سقوط ڈھاکا، جنگ پلاسی، میسور اور خلافت عثمانیہ کے زوال سے لیکر سقوط غرناطہ تک کا جائزہ لیں تو ہمیں مسلمانوں کی شکست اور زوال میں غیروں کی اہلیت اور ہمت سے زیادہ اپنوں کی ناہلی ،غداری اور مال و دولت اور اقتتدار کی ہوس کارفرما نظر آتی ہے۔ سقوط غرناطہ کی بھی بنیادی وجہ مسلمانوں کی باہمی رنجش اور اقتدار کا لالچ تھی۔  باہمی لڑائیوں سے مسلمان بقیہ اسپین تو کھو ہی چکے تھے، غرناطہ کا بھی دفاع نہ کرسکے اور تاریخ میں ایسے فنا ہوئے کہ صدیوں بعد بھی اسپین کے در و دیوار ان کی بربادی اور زوال پر ماتم کناں ہیں۔
سقوط غرناطہ کے 100 سال کے اندر عیسائی حکمرانوں کے ظلم و ستم کے باعث لاکھوں مسلمان ہجرت کرکے مراکش اور شمالی افریقہ کے دیگر ممالک میں آباد ہوگئے جو آج بھی وہاں مہاجر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور بیشمار اہل ایمان عیسائی ظلم و ستم کی تاب نہ لاکرعیسائی بن گئے۔
راقم کے والد صاحب جو کہ آج کل بسلسلہ روزگار اسپین کی ریاست اندلسیا (موجودہ نام) کے شہر گرناڈا (غرناطہ کا موجودہ نام) میں مقیم ہیں، بتاتے ہیں کہ وہاں آج بھی ایسے لوگ ملتے ہیں جو عملاً تو عیسائی ہیں، لیکن ان کے ناموں میں عربی لہجے کے نام بھی شامل ہیں جو ان کے آبا کے مسلمان ہونے کا پتہ دیتے ہیں۔ اور وہ لوگ اس سے انکار بھی نہیں کرتے، جب کہ ایسے لوگ بھی ہیں جواسلام پر باقاعدگی سے عمل پیرا ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں میں دونوں طرح کے لوگ ہیں۔ ایک تو وہ جو عرب مسلمانوں کی نسلوں سے ہیں، اور دوسرے وہ جو یہاں کے مقامی ہسپانوی باشندوں کی اولادیں ہیں جن کے اجداد صدیوں قبل مسلمان ہوگئے تھے۔
اسپین پر مسلمانوں کی حکمرانی کے ادوار میں یورپ جہالت کے اندھیروں میں گم تھا، جب کہ اسپین میں علم و حکمت، زرعی، صنعتی، معاشی ترقی اور خوشحالی کا دور دورہ تھا۔ اور پورے یورپ ہی نہیں دنیا بھر سے طالبان علم یہاں فیض یاب ہونے آیا کرتے تھے۔ مؤرخین تسلیم کرتے ہیں کہ اسپین کو جو عروج مسلم عہد میں حاصل ہوا، وہ دوبارہ اسے نصیب نہ ہو سکا۔
قرطبہ اس دور میں علم و فضل کا عالمی مرکز تھا جہاں ابن رشد ،ابن طفیل، ابن اظہر، ابن فرناس، الزہراوی اور ان جیسے کئی عظیم سائنس دان، فلسفی، شاعر، غرض زندگی کے ہر شعبے کےماہر موجود تھے۔ ۔مسلمانوں کے زوال کے کئی سو سال بعد بھی ان شخصیات کی تدوین کردہ کتابیں یورپی زبانوں میں ترجمہ ہوتی رہیں اور یورپ کی معروف جامعات میں پڑھائی جاتی رہیں۔ بقول اقبال:
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
یہی نہیں، سائنسی علوم کے علاوہ اسلامی اور فقہی علوم میں بھی مسلم اسپین کے علما کی کتابوں سے آج بھی عالم اسلام فیض حاصل کر رہا ہے، ان علما میں امام قرطبی اور امام ابن حزم جیسے نام سرفہرست ہیں۔
مسلمان چاہے کنتے ہی بے عمل یا مغربی تہذیب کے دلدادہ کیوں نہ ہوجائیں، اس عروج کو پانے کی کسک ان کے دل میں آج بھی کروٹیں بدلتی ہے جس پر ان کے اجداد صدیوں تک موجود تھے۔ مسلم اسپین اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب تھا جو کہ اب عبرتناک خواب کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔
کلام اقبال میں سرزمین اندلس کی تہذیبی اور تمدنی عروج کے ذکر کے ساتھ مسلمانوں کے زوال کا نوحہ بھی جابجا ملتا ہے۔ اقبال نے ہسپانیہ کو ”حرم مرتبت“ قرار دیا ہے اور اس کا ذکر وہ اپنی شاعری میں بڑے احترام اورعقیدت سے کرتے ہیں۔ اس محبت کی وجہ اس سرزمین سے وابستہ مسلمانوں کی تقریباً آٹھ صدیوں کی تاریخ ہے جو صرف سلطنت و خلافت کی تاریخ نہیں، بلکہ تہذیب و ثقافت اور علوم و فنون کی درخشاں مثال ہے۔
ہسپانیہ توخون مسلماں کا امین ہے
مانند حرم پاک ہے تو میری نظر میں
یہ بات طے شدہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے کتاب اللہ کا رستہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑا وہ باہمی منافرت، مال ودولت کی لالچ اور ہوس اقتتدار کا شکار ہوکر ذلیل و خوار ہوگئے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہمیں دوبارہ اسپین کو حاصل کرنے کی جدودجہد کرنی چاہیے، میرا خیال ہے زمین کے ٹکڑے کی اتنی حیثیت نہیں، اصل بات تو یہ ہے کہ ہم انہی اعلیٰ اوصاف کو اپنائیں اورحکمت کو اپنی گمشدہ میرات سمجھتے ہوئے حاصل کریں۔ جس کی بنیاد پر ہمارے آبا نے دنیا پر ہی نہیں، دنیا والوں کے دلوں پر بھی حکمرانی کی تھی۔
اقبال نے دورہ اسپین کے دوران اندلس اور قرطبہ پر بے شمار اشعار لکھے۔ درج ذیل اشعار بال جبریل کی نظم مسجد قرطبہ سے لیے گئے ہیں:
آہ وہ مردان حق! وہ عربی شہسوار
حاملِ خلق عظیم، صاحب صدق و یقیں
جن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریب
سلطنت اہل دل فقر ہے ، شاہی نہیں
جن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غرب
ظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں
جن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسی
خوش دل و گرم اختلاط ، سادہ و روشن جبیں
آج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزال
اور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیں
بوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے
رنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہے
دیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں ، آسماں
آہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاں
کون سی وادی میں ہے ، کون سی منزل میں ہے
عشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاں!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

فراز احمد خان

فراز احمد خان

فراز احمد خان صحافی اور لکھاری ہیں، تاریخ میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ آج کل ایک چینل میں اسائمنٹ ایڈیٹر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔