انتخابات2018ء کئی اعتبار سے تاریخی ثابت ہوئے

عبید اللہ عابد  اتوار 6 جنوری 2019
گزشتہ انتخابات کی طرح جولائی کے الیکشن میں بھی تنازعہ 35سیٹوں ہی کا رہا

گزشتہ انتخابات کی طرح جولائی کے الیکشن میں بھی تنازعہ 35سیٹوں ہی کا رہا

بیرونی دنیا پاکستان میں ہونے والے انتخابات کو اس لئے اہم سمجھتی ہے کہ20کروڑ آبادی کا حامل یہ ملک سب سے زیادہ آبادی والے مسلم ممالک میں سے ایک ہے، نیوکلیئر بھارت کا حریف ہے جبکہ دنیا کی ترقی پذیر معیشتوں میں سے ایک ہے اور جس میں ابھرنے اور ایک طاقت بننے کی بے پناہ صلاحیت اور مواقع ہیں۔ جس ملک میں یہ سب عنوانات اکٹھے ہو جائیں، وہ  پوری دنیا بالخصوص اقوام مغرب کے لئے غیراہم نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی طاقتوں کے لئے یہاں حکومتیں بننا اور بگڑنا نہایت اہم ہوتاہے، وہ  پاکستان میں ہونے والے تمام سیاسی اور معاشی واقعات  پر خصوصی نظر رکھتی ہیں۔

اکیسویں صدی اس اعتبار سے خاصی مبارک ثابت ہوئی کہ2002ء کے بعد ہر برسراقتدار جماعت نے اپنی مدت اقتدار پوری کی، اس کے بعد عام انتخابات اپنے وقت پر منعقد ہوئے، تاہم ایک حکمران جماعت دوسری مدت کے لئے منتخب نہ ہو سکی اور اگلی حکمران جماعت نے پرامن ماحول میں باگ ڈور سنبھالی تاہم یہ دلچسپ حقائق ہیں کہ اولاً : اکیسویں صدی میں پاکستان میں کوئی بھی جماعت اگلی مدت کے لئے حکمران نہ بن سکی۔

ثانیاً :گزشتہ ہرمدت اقتدار کے دوران میں حکمرانی ایک جماعت کی رہی تاہم  وزیراعظم ایک نہ رہا۔ سن 2002ء سے 2008ء تک مسلم لیگ ق برسراقتدار رہی لیکن ان پانچ برسوں کے دوران پہلیمیرظفراللہ خان جمالی، پھر چودھری شجاعت حسین اور پھر شوکت عزیز وزرائے اعظم رہے،2008ء سے 2013ء تک پیپلز پارٹی برسراقتدار رہی، اس کے پہلے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی تھے پھر راجہ پرویزاشرف یہ ذمہ داری اداکرتے رہے۔ 2013ء سے2018ء تک اقتدار مسلم لیگ ن ہی کا رہا لیکن پہلے میاں محمد نوازشریف اور پھر شاہدخاقان عباسی وزیراعظم رہے۔ یوسف رضاگیلانی اور میاں محمد نوازشریف سپریم کورٹ کے فیصلوں کا شکار ہوئے ، کہا جاتا ہے کہ میرظفراللہ خان جمالی کو اُس وقت کے صدرجنرل پرویزمشرف نے استعفیٰ دینے کو کہا تھا، نتیجتاً چودھری شجاعت حسین عبوری مدت کے لئے وزیراعظم بنے۔

یوسف رضاگیلانی کو توہین عدالت کرنے کے جرم میں رکن پارلیمان اور وزارت عظمیٰ کے منصب سے نااہل کیاگیا جبکہ میاں محمد نوازشریف کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے اور چھپانے کے جرم میں۔ سپریم کورٹ نے موخرالذکر کو نااہل قراردیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے انتخابات2013ء کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی میں نہیں بتایا کہ وہ دبئی میں ایک کمپنی کے ملازم بھی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو کو حکم دیا کہ وہ میاں نوازشریف، ان کے بچوں اور سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار پر مقدمہ چلائے۔

میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد حکمران جماعت نے باقی مدت کے لئے شاہدخاقان عباسی کو وزیراعظم مقررکیا۔ انھوں نے یکم اگست 2017ء کو یہ منصب سنبھالا اور 31 مئی 2018ء تک یہ ذمہ داری ادا کرتے رہے۔ اپنے قیام ہی سے پاکستان میں سول، ملٹری کشمکش دیکھنے کو ملی۔ اگرچہ یہ تیسرا موقع تھا کہ ایک سویلین حکومت انتخابات کے بروقت انعقاد کا ماحول بنا رہی تھی، تاہم ملک کی مجموعی سیاست پر مسلم لیگ ن اور فوج کے درمیان شدید تناؤ دیکھنے کو مل رہاتھا۔ مسلم لیگ ن کے ذمہ داران اور کارکنان شکوہ کناں تھے کہ انھیں ہرانے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔

دھونس دھمکی کے ذریعے ان کے لوگوں کو پارٹی چھوڑنے اور تحریک انصاف کی حمایت کرنے کو کہا جا رہا ہے، ان کے مطابق ملک کی طاقتور ترین سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ مسلم لیگی کارکنوںکے خلاف کریک ڈاؤن کرا رہی ہے، قریباً 17000 رہنماؤں اور کارکنوں پر مقدمات قائم ہوئے۔ دوسری طرف میڈیا کے بعض اداروں کی طرف سے شکایات سامنے آئیں کہ انھیں سنسرشپ کا سامنا ہے جبکہ بعض حلقے انتخابات میں عسکریت پسندوں اور شدت پسندوں کے متحرک ہونے پر تشویش ظاہر کرتے رہے۔ پاکستا ن میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے ادارے ’انسانی حقوق کمیشن‘ نے عام انتخابات کو ’گندے ترین‘، ’مہنگے ترین‘،  ’پولارائزڈ الیکشن‘ اور ’بکواس الیکشن‘ قراردیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ الیکشن میں انجیئنرنگ کرائی جا رہی ہے۔

انسانی حقوق کمیشن نے انتخابات کے انعقاد کے لئے سکیورٹی فورسز کو سول اداروں کا مینڈیٹ اور اختیارات دیے جانے پر شدید تحفظات، امیدواروں کو ہراساں کرنے کی خبروں پر بھی تشویش کا اظہار کیا  اور کہا کہ تشدد کے متاثرین مخصوص جماعت کے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے مطابق سارے قوانین بھی کچھ معتوب پارٹیوں کیلئے ہیں۔

سارے پولیس کے ضابطے بھی معتوب پارٹیوں کیلئے ہیں، ریلی روکنا، بین کرنا یہ بھی صرف معتوب پارٹیوں کیلئے ہے، پسندیدہ لوگوں کو کھلی چھوٹ لیکن مخصوص پارٹیوں کے جلسوں میں دہشت گردی ہو رہی ہے۔  انسانی حقوق کے کمیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس حقیقت کا پتہ بھی شاید اصغر خان کے کیس کی طرح کئی دہائیوں بعد چلے گا۔ انتخابی مہم کے دوران  تشدد کے اکادکا واقعات ہوئے تاہم 13جولائی کو تشدد کا بدترین واقعہ ہوا جب کوئٹہ میں ایک ریلی پر خودکش حملہ میں 150 افراد جاں بحق ہوئے۔  اس تناظر میں انتخابات سیکورٹی فورسز کی بھاری تعداد کے ساتھ منعقد ہوئے جس میں صرف پاک فوج کے تین لاکھ 71جوان تھے جبکہ مجموعی طور پر85 ہزار پولنگ سٹیشنز پر متعین حفاظتی اہلکاروں کی تعدادآٹھ لاکھ تھی۔

عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کا خیال تھا کہ انتخابی نتائج ثابت کریں گے کہ پاکستانی عوام کرپشن میں لتھڑے ہوئے سیاست دانوں سے بے زار ہے جبکہ مسلم لیگ ن پرامید تھی کہ انتخابات میاں نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کو غلط ثابت کردیں گے، پاکستان پیپلزپارٹی جو 2013 کے انتخابات میں ایک صوبے تک محدود ہوکے رہ گئی تھی، بھی بڑی کامیابی کے مسلسل دعوے کرتی رہی۔ اسی طرح مذہبی جماعتوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل بھی خصوصی طور پر صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حکومت سازی کے لئے پرامید تھا۔ تاہم25 جولائی کی رات انتخابی نتائج تحریک انصاف کے علاوہ باقی تمام جماعتوں کے لئے حیران کن تھے۔ سن 2013ء کے انتخابات میں محض 28 نشستیں جیتنے والی تحریک انصاف نے 112نشستیں جیتیں جبکہ مسلم لیگ ن61 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی2013ء میں اس کی نشستیں 126 تھیں، پیپلزپارٹی نے42 نشستیں جیتیں، 2013ء میں اس کی نشستوں کی تعداد 32 تھی۔  پیپلزپارٹی کا نقصان یہ ہے کہ وہ اب تیسرے درجے کی جماعت بن گئی۔ متحدہ مجلس عمل چوتھے نمبر پر رہی، اس کی نشستوں کی تعداد16تھی۔ اس بار آزاد امیدوار بڑی تعداد میں جیتے۔

گزشتہ 35برسوں سے کراچی پر تن تنہا حکمرانی کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ کو اس بار مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑا، دیگرتمام جماعتوں نے بھی کھل کر انتخابی جنگ لڑی۔ تحریک انصاف نے کراچی کی 21 نشستوں میں 14سیٹیں جیت لیں۔  ایک اہم واقعہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا اپنے گڑھ لیاری سے ہارنا بھی تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی کو بھی 2013ء جیسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ انتخابات کا ایک اہم اور حیران کن پہلو تحریک لبیک پاکستان کا بریلوی مکتب فکر کے ووٹ بنک کو اکٹھا کرنا اور اسے اپنا بنانا تھا۔ اگرچہ اس نے سندھ اسمبلی کی محض دو سیٹیں جیتیں تاہم بریلوی مکتب فکر جو ایک طویل عرصہ سے بکھرا ہواتھا، کو اکٹھا کرنا اس کا اہم کارنامہ شمار کیاگیا۔

اس کے امیدواروں نے بہت سے حلقوں میں اوسطاً 10ہزار ووٹ حاصل کئے، بعض امیدواروں نے 42 ہزار تک ووٹ حاصل کئے۔ ان انتخابات میں اہل سنت والجماعت (سابقہ سپاہ صحابہ)، ملی مسلم لیگ (سابقہ لشکرطیبہ) اور  متحدہ قومی موومنٹ سے ٹوٹنے والی جماعت ’پاک سرزمین پارٹی‘ بھی بری طرح ناکام رہی۔  انتخابات کا ایک دلچسپ اور اہم واقعہ تین ہندو امیدواروں کی کامیابی بھی تھی۔ ایک قومی اسمبلی اور دو سندھ اسمبلی کے ارکان ہیں۔ تینوں کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے۔

تحریک انصاف کی جیت میں شمالی، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ملنے والی کامیابی نے اہم ترین کردار ادا کیا۔  اسے حکومت سازی کے لئے مجموعی طور پر 137سیٹوں کی ضرورت تھی، آزاد امیدواروں اور دیگرچھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر وفاق اور تین صوبوں میں حکومت قائم کرلی گئی۔ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور متحدہ مجلس عمل نے دھاندلی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ گنتی کے دوران گڑ بڑ کی گئی۔کم ازکم چھ جماعتوں کا کہناتھا کہ ان کے سٹاف کو گنتی کے دوران وہاں سے باہرنکال دیاگیا، حتمی نتائج مرتب کرتے ہوئے بھی ضابطے کی خلاف ورزی کی گئی۔  بعض میڈیا اداروں کی طرف سے بھی شکایات ملیں کہ صحافیوں کو پولنگ سٹیشنز میں داخل ہونے سے روک دیاگیا، حالانکہ ان کے پاس خصوصی طور پر جاری ہونے والے داخلہ کارڈز بھی تھے۔

انتخابات کو مانیٹر کرنے والے ایک ادارے ’فافین‘ کے مطابق کم ازکم 35 انتخابی حلقوں میںجیت کا مارجن مسترد شدہ ووٹوں سے کم تھا۔ ایسا ہو تو عمومی طور پر خیال نتائج تبدیل کئے جانے کی طرف جاتا ہے۔ یاد رہے کہ 2013ء میں بھی 35حلقوں میں یہی صورت حال تھی جس کی وجہ سے تحریک انصاف نے 35 حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا اور 35 پنکچر کی اصطلاح استعمال کی۔ یورپی مبصرین کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران ہر ایک کو یکساں مواقع میسر نہ آئے جبکہ آزادی اظہار پر پابندیاں بھی دیکھنے کو ملیں۔  2013ء میں دھاندلی کا الزام عائد کرنے والے عمران خان نے کہا کہ وہ انتخابی بے ضابطگیوں کی کھلے دل سے تحقیقات کے لئے تیار ہیں۔ اپوزیشن کی طرف سے دھاندلی پر احتجاج تو کیاگیا لیکن مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام کے علاوہ کسی نے بھی شدید احتجاج کی طرف جانے کا ارادہ ظاہر نہ کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے پہلے اسمبلیوں میں حلف نہ اٹھانے کی بات کی لیکن دیگراپوزیشن جماعتوں نے اس معا ملے میں ساتھ نہ دیا۔

صدارتی انتخاب

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے صدرممنون حسین کی مدت صدارت نوستمبر کو ختم ہونا تھی چنانچہ چارستمبر کو صدارتی انتخابات منعقد ہوئے جس میں تحریک انصاف کے رہنما بہ آسانی صدر منتخب ہوگئے۔ وہ پاکستان کے تیرھویں صدرمملکت ہیں۔ انھوں نے 352 ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مقابلے میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مولانا فضل الرحمن نے 184جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار اعتزازاحسن نے 124ووٹ حاصل کئے۔  اگرچہ مولانا فضل الرحمن  اور دیگراپوزیشن رہنماؤں نے پیپلزپارٹی سے درخواست کی کہ صدارتی انتخاب متحد ہوکر لڑا جائے لیکن پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نہ مانے۔  وہ کیوں راضی نہ ہوئے؟ یہ ایک معمہ ہے تاہم دیگراپوزیشن جماعتیں اس سوال کا جواب دینے کے بجائے معنی خیز مسکراہٹ پر ہی اکتفا کرتی ہیں۔

ضمنی انتخابات

انتخابات 2018ء کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں حکمران تحریک انصاف کو بعض حلقوں میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وہ اپنی جیتی ہوئی نشستوں پر ہار گئی۔ مثلاً این اے35 بنوں جہاں سے عمران خان نے کامیابی حاصل کی تھی، ضمنی انتخاب میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اکرم خان درانی کے بیٹے  اور متحدہ مجلس عمل کے امیدوار زاہد درانی نے تحریک انصاف کو شکست دی۔ این اے56 کی نشست بھی حکمران جماعت کے ہاتھوں سے نکل گئی۔ اسی طرح لاہور کے حلقے این اے124اور این اے 131بھی مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف سے واپس چھین لئے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج  کی بنیاد پر مسلم لیگ ن نے حکمران جماعت کو طعنہ دیا کہ جولائی 2018ء کے انتخابات میں اس کی کامیابی جعلی تھی ، یہی وجہ ہے کہ اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔