یہ کِسے ساتھ لے گیا ہے وقت

عبداللطیف ابو شامل  اتوار 6 جنوری 2019
ایک فلسفی جس نے لوگوں کو ایسا آئینہ دکھایا جس میں ہر ایک اپنی شکل دیکھ کر بے اختیار قہقہہ لگانے پر مجبور ہوگیا

ایک فلسفی جس نے لوگوں کو ایسا آئینہ دکھایا جس میں ہر ایک اپنی شکل دیکھ کر بے اختیار قہقہہ لگانے پر مجبور ہوگیا

اس میں حیرت کیسی کہ جب ایک فلسفی ان لوگوں کو جنہیں اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا اور وہ دوسروں کی آنکھ کا تنکا تلاش کرکے ان پر طنز کا چرکا لگاتے ہیں، ایسے لوگوں کو آئینہ دکھانا کسی عام انسان کے بس میں کہاں کہ یہ تو ایک زیرک فلسفی ہی کرسکتا ہے جو شجر کے ثمر کے ساتھ اس کی جڑوں پر بھی نگاہ رکھے ہوئے ہو، اور تکریم انسانیت کا ایسا خُوگر جو انہیں آئینہ دکھاتے ہوئے ان کی عزت نفس کو بھی مجروح نہ ہونے دے اور انہیں ایسا آئینہ دکھائے کہ وہ خود بھی اس میں اپنی شکل دیکھ کر پہلے سہم جائیں، پھر خود کو پہچان کر بے اختیار مسکرائیں اور پھر تھوڑی دیر کے بعد بے اختیار ہوکر خود پر جان دار قہقہہ لگانے پر مجبور ہوجائیں۔

ایسا بھلا طنز تو کوئی بھلا مانس ہی کرسکتا ہے اور وہ بھلا مانس کوئی فلسفی بھی ہو تو کیا کہنے، بس واہ ہی کہنے کو جی کرتا ہے، ورنہ تو یہاں پھکڑ پن کو مزاح کہا جانے لگا ہے لیکن اس فلسفی نے ایسے تمام پھکڑ بازوں کا ہمیشہ کے لیے ناطقہ بند کردیا ہے۔ چلیے تمہیدِطولانی سے گریز کرتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں کہ آگے ایک ایسے ہی نابغہ روزگار فلسفی کے مزاح پر گفت گو ہوگی، جسے بیس سو اٹھارہ کا سال اپنے ساتھ لے گیا۔

لیکن ساتھیو! ایسا ہوا کہ ایک یوسف زئی پٹھان جب پشاور پہنچا تو لوگوں کے رویے سے اس قدر رنجیدہ ہوا کہ اس نے یوسف زئی کو یوسفی میں بدل دیا۔ ہاں ایسا ہی ہوا، یہ یوسف زئی پٹھان جو یوسفی کہلانے لگا عبدالکریم تھا۔ تفصیل اس اجمال کی ظفر سید نے کچھ اس طرح بتائی: ’’ بیسویں صدی کے اولین عشروں کی بات ہے کہ انڈین شہر جے پور سے عبدالکریم یوسف زئی نامی ایک شخص کسی کام کے سلسلے میں پشاور گیا۔ لیکن جب انھوں نے وہاں اپنا تعارف یوسف زئی پٹھان کے طور پر کروایا تو مقامی لوگ ہنس دیے۔

وجہ یہ تھی کہ عبدالکریم کا خاندان قبائلی علاقہ چھوڑ کر کئی صدیاں قبل ریاست راجستھان میں جا آباد ہوا تھا اور وہ شکل و صورت، زبان، لہجے اور چال ڈھال سے مکمل طور پر مارواڑی روپ میں ڈھل چکے تھے۔ عبدالکریم، جو جے پور کے پہلے گریجویٹ مسلمان تھے، اس واقعے سے اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ انھوں نے اپنا نام ہی یوسف زئی سے بدل کر یوسفی کر ڈالا۔ عبد الکریم کے ہاں چار ستمبر 1923 کو ایک بچے کی ولادت ہوئی جس کا نام مشتاق احمد خان رکھا گیا۔ یہی بچہ آگے چل کر اردو کا صاحبِ طرز مزاح نگار اور تخلیقی نثرنگار مشتاق احمد یوسفی کہلایا۔‘‘

مشتاق احمد یوسفی کے والد پہلے مقامی مسلمان تھے جنھوں نے1914ء میں مہاراجہ کالج جے پور سے بی، اے کی ڈگری اعزاز کے ساتھ حاصل کی تھی۔ ابتدائی اور مذہبی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے بھی اسی کالج میں داخلہ لیا، جہاں ان کے والد اور دادا نے تعلیمی منازل طے کی تھیں۔ انہوں نے 1942ء میں مہاراجہ کالج سے بی، اے فائنل کے امتحان میں پورے راجستھان اجمیر سینٹرل انڈیا میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔ 1945 میں انھوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا اور اول پوزیشن حاصل کی۔

1946 میں سول سروس کا امتحان پاس کرکے مشتاق احمد یوسفی ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مقرر ہوگئے۔ اسی سال ان کی شادی ادریس فاطمہ سے ہوئی جو خود بھی ایم اے فلسفہ کی طالبہ تھیں۔ اگلے ہی برس ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا جس کے بعد ان کے خاندان کے افراد پاکستان ہجرت کرنے لگے۔ یکم جنوری 1950 کو مشتاق احمد یوسفی کھوکھراپار عبور کرکے کراچی آبسے۔ کراچی آنے کے بعد انہوں نے سول سروس کے بہ جائے بینکاری کا شعبہ اپنالیا اور مسلم کمرشل بینک سے منسلک ہوگئے۔ 1974 میں وہ یونائٹیڈ بینک کے صدر مقرر ہوئے اور بعد میں بینکنگ کونسل آف پاکستان کے چیئرمین بھی رہے۔ 1979 میں انھوں نے لندن میں بی سی سی آئی کے مشیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں، اور بالآخر 1990 میں ریٹائرڈ ہوکر مستقل کراچی میں مقیم رہے۔ وہ کراچی جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا: ’’ ہم نے تو سوچا تھا کراچی چھوٹا سا جہنّم ہے، جہنّم تو بڑا سا کراچی نکلا ‘‘

یوسفی صاحب نے جب ہوش سنبھالا وہ تقسیم برصغیر کا وہ بہت پُرآشوب دور تھا، لوگ غیریقینی صورت حال کا شکار تھے، کرب و اضطراب کے مہیب سائے ہر طرف چھائے ہوئے تھے اور معاشی ناہم واریوں کا ایک طوفان بلاخیز تھا، جس میں سب ہی تنکے کی طرح بہے چلے جارہے تھے۔ اس حوصلہ شکن ماحول میں جہاں نفسانفسی کا عالم تھا اور لوگ مستقبل کے حالات کے بارے میں تشویش اور غیریقینی کا شکار تھے، ان مخدوش حالات میں جب زندگی ذہن و دماغ کو کسی اور پہلو کی طرف سوچنے کی مہلت ہی نہیں دیتی۔ ادب و انشاء کی طرف مشتاق یوسفی کا رجحان ان کے شعور میں ادبیت، موزونیت اور فطرت میں تخلیقی صلاحیتوں کا پتا دیتا ہے۔ اس وقت لاہور اور کراچی میں قدآور ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں کی ایک کہکشاں آباد تھی۔ ان حالات میں ایک نووارد کے لیے اپنی شناخت قائم کرنا دشوار تھا۔ مگر مشتاق احمد یوسفی نے نہ صرف یہ کہ اپنی تحریروں کے بانکپن کے ذریعے ادب کے خزانے میں قابل قدر اضافہ کیا بلکہ اصناف ادب میں نسبتاً مشکل اور دشوار صنف طنزیہ کو اختیار کرکے جہاں اپنی عظیم شناخت قائم کی وہیں اس فن کو اپنے عروج تک بھی پہنچایا۔

مشتاق احمد یوسفی نے پہلا باقاعدہ مضمون 1955 میں ’’صنفِ لاغر‘‘ کے نام سے لکھا اور جب اپنے زمانے کے مشہور رسالے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں اشاعت کے لیے بھیجا تو اس کے مدیر مرزا ادیب نے یہ کہہ کر واپس لوٹا دیا کہ وہ اس کے مرکزی خیال سے متفق نہیں ہیں۔ مشتاق یوسفی اس سے حوصلہ نہ ہارے اور انھوں نے یہی مضمون ترقی پسند رسالے ’’سویرا‘‘ کو بھیج دیا، جس کے مدیر حنیف رامے نے نہ صرف اسے شایع کیا بل کہ مشتاق احمد یوسفی کو مزید لکھنے کی ترغیب بھی دی۔ یہ وہی حنیف رامے ہیں جنہوں نے سیاسی میدان میں بھی شہرت کمائی، اس کے ساتھ ہی حنیف رامے ایک بلند پایہ مصور بھی تھے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حنیف رامے کا ایک بڑا کارنامہ اردو ادب کو مشتاق یوسفی سے رُوشناس کرانا ہے۔

حنیف رامے ہی کی تحریک پر مشتاق یوسفی نے مختلف رسائل میں مضامین لکھنا شروع کیے جو ’’صنفِ لاغر‘‘ سمیت 1961 میں یوسفی کی پہلی کتاب ’’ چراغ تلے‘‘ کا حصہ بنے۔ یہ کتاب اس قدر مقبول ہوئی کہ اب تک اس کے درجنوں ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔ ان کی اگلی کتاب کے لیے بھی ان کے مداحوں کو نو سال کا انتظار کرنا پڑا۔ جب ’’ خاکم بدہن‘‘ 1970 میں شایع ہوئی۔ اگلے برس اس کتاب کو اس دور کے سرکردہ ادبی اعزاز آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہی ایوارڈ 1976 میں یوسفی کی تیسری کتاب ’’ زرگزشت‘‘ کو بھی دیا گیا۔ جسے ان کی خودنوشت سرگزشت بھی کہا جاسکتا ہے۔ خود یوسفی نے اسے اپنی ’’ سوانحِ نوعمری‘‘ قرار دیا تھا۔ جب کہ اس کی کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب یوسفی نے پاکستان آکر بینکاری کے شعبے میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مشتاق یوسفی کی چوتھی کتاب جسے کچھ لوگوں نے ناول قرار دیا ’’آبِ گم‘‘ ہے، جو 1989 میں شایع ہوئی۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد خیال کیا جانے لگا جیسے انہوں نے کچھ لکھنا چھوڑ دیا ہو، لیکن2014 میں اس تاثر کی اس وقت نفی ہوگئی جب مشتاق یوسفی کی پانچویں کتاب ’’شام شعر یاراں‘‘ اہتمام سے شایع ہوئی، جو مختلف ادوار میں لکھے گئے مضامین، خطبات اور تقاریر پر مشتمل ہے۔

مشتاق احمد یوسفی نے تخلیقات کا انبار نہیں لگایا ہے، لیکن ان کے زرنگار قلم سے ادب کی تعمیر و تزئین کا جو کام ہوا ہے وہ تخلیقی فن اور تیکنیکی بیان کے لحاظ سے انتہائی بلند مقام پر ہے، ایسا مقام بلند جس پر رشک ہی کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گراں قدر تخلیقات پر مشتمل کتابیں جو زیور طبع سے آراستہ ہوئیں وہ صرف پانچ کی تعداد میں چراغ تلے، خاکم بدہن، زرگزشت، آب گم اور شام شعر یاراں کے نام سے منظر عام پر آئیں۔

مشتاق احمد خان یوسفی کی تحریروں میں بلا کی جاذبیت، سلاست، برجستگی اور شگفتگی پائی جاتی ہے۔ ادیب کا یہ امتیازی وصف ہے کہ روز مرہ کے معمولی واقعات جو عام انسانوں کی نگاہوں سے یکسر اوجھل رہتے ہیں اس کی باریک نگاہ انہیں دیکھ لیتی ہے اور پھر انھیں واقعات میں وہ زندگی کا راز اور پیغام تلاش کرلیتی ہے۔ ان کے مثبت و منفی پہلوؤں سے صحت مند نتائج اخذ کر کے حسین پیرائے میں دنیا کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ مشتاق یوسفی کی تمام تحریروں میں یہ فن کارانہ مہارت پوری آب و تاب سے دکھائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے سماج میں جو بے اعتنائیاں پائی جاتی تھیں اس پر انہوں نے اس انداز سے ظریفانہ نشتر چلایا ہے کہ پورا منظرنامہ نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے۔

2007 میں 60 برس سے زیادہ کی رفاقت کے بعد ان کی اہلیہ ادریس فاطمہ کا انتقال ہوگیا۔ اس واقعے کے بعد مشتاق یوسفی ٹوٹ کر رہ گئے تھے۔ ان کی تمام تحریروں میں ان کا ذکر جہاں بھی آیا ہے وہاں یوسفی کے قلم سے محبت اور خلوص ٹپکتا محسوس ہوتا ہے۔

یہ عظیم فلسفی جس نے لطیف پیرائے میں لوگوں کے تضادات بیان کیے تھے، 20 جون 2018 کو 94 سال کی عمر میں لوگوں کو روتا ہوا چھوڑ کر ہنستا ہوا چلا گیا۔n

مشتاق احمد خان یوسفی کے کچھ شاہ کار جُملے

٭ چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ ’’کافی‘‘ لگی ہوئی۔

٭ بچپن ہی سے میری صحت خراب اور صحبت اچھی رہی ہے۔

٭ آپ نے بعض میاں بیوی کو ہواخوری کرتے دیکھا ہوگا۔ عورتوں کا انجام ہمیں نہیں معلوم لیکن یہ ضرور دیکھا ہے کہ بہت سے ’’ہواخور‘‘ رفتہ رفتہ ’’حواخور‘‘ ہوجاتے ہیں۔

٭ معتبر بزرگوں سے سنا ہے کہ حقہ پینے سے تفکرات پاس نہیں پھٹکتے۔ بلکہ میں تو عرض کروں گا کہ اگر تمباکو خراب ہو تو تفکرات ہی پر کیا موقوف ہے، کوئی بھی پاس نہیں پھٹکتا۔

٭ اختصار ظرافت اور زنانہ لباس کی جان ہے۔

٭ ان کی بعض غلطیاں فاش اور فاحش ہی نہیں، فحش بھی تھیں۔

٭ جب نورجہاں کے ہاتھ سے کبوتر اڑ گیا تو جہانگیر نے اسے پہلی بار ’’خصم گیں‘‘ نگاہوں سے دیکھا۔

٭ لفظوں کی جنگ میں فتح کسی بھی فریق کی ہو، شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے۔

٭ دشمنوں کے حسب عداوت تین درجے ہیں: دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار۔

٭ مسلمان کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کرکے کھا نہ سکیں۔

٭ آدمی ایک بار پروفیسر ہوجائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے، خواہ بعد میں سمجھ داری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔

٭ مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کرلیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

٭ امریکا کی ترقی کا سبب یہی ہے کہ اس کا کوئی ماضی نہیں۔

٭ پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔

٭ فقیر کے لیے آنکھیں نہ ہونا بڑی نعمت ہے۔

٭ محبت اندھی ہوتی ہے، چنانچہ عورت کے لیے خوب صورت ہونا ضروری نہیں، بس مرد کا نابینا ہونا کافی ہوتا ہے۔

٭ بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکی داری میں ذرا فرق نہیں، سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے۔

٭ مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔

٭ آپ راشی، زانی اور شرابی کو ہمیشہ خوش اخلاق، ملنسار اور میٹھا پائیں گے کیوں کہ وہ نخوت، سخت گیری اور بدمزاجی افورڈ ہی نہیں کرسکتا۔

٭ یہ بات ہم نے شیشم کی لکڑی، کانسی کی لٹیا، بالی عمریا اور چگی داڑھی میں ہی دیکھی کہ جتنا ہاتھ پھیرو، اتنا ہی چمکتی ہے۔

٭آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا کرکے چھوڑتے ہیں۔

٭ تماشے میں جان تماشائی کی تالی سے پڑتی ہے، مداری کی ڈگڈگی سے نہیں۔

٭ فرضی بیماریوں کے لیے یونانی دوائیں تیر بہ ہدف ہوتی ہیں۔

٭ جس بات کو کہنے والے اور سننے والے دونوں ہی جھوٹ سمجھیں اس کا گناہ نہیں ہوتا۔

٭ مطلق العنانیت کی جڑیں دراصل مطلق الانانیت میں پیوست ہوتی ہیں۔

٭ یورپین فرنیچر صرف بیٹھنے کے لیے ہوتا ہے، جب کہ ہم کسی ایسی چیز پر بیٹھتے ہی نہیں جس پر لیٹا نہ جاسکے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔