سب اچھا ہے

طلعت حسین  جمعـء 12 جولائ 2013
www.facebook.com/syedtalathussain.official

www.facebook.com/syedtalathussain.official

نہ جانے دنیا ہم سے کیوں نالاں رہتی ہے؟ ہمارے محاسن کا بھلا کوئی شمار ہو گا؟ فراخ دلی کو ہی لیجیے۔ اس وصف میں ہماری قوم یکتا ہے۔ ایسے ایسے کام کر دیتی ہے کہ حاتم طائی خود کو کم ظرف اور بخیل سمجھنے پر مجبور ہو جائے۔ ہم اپنا آپ دوسروں پر مٹادینے میں اول ہیں۔ یقین نہیں آتا تو ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کا مطالعہ کر لیں، اس میں وہ سب کچھ درج ہے جسے پڑھ کر ہم بجا طور اپنی بلائیں لے سکتے ہیں۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے انداز سے ہی ہماری ذہنی کشادگی ثابت ہوتی ہے۔ ہم نے قطر کے چینل الجزیرہ کو یہ تحفہ عنایت کیا ہے اگرچہ قانونی اور اخلاقی طور پر اس عمل کو واجبِ سزاء یا قابل تنقید سمجھا جاتا ہو گا مگر ہمیں اپنے دوست ممالک کے ذرایع ابلاغ کو فروغ دینے کے لیے ایسے اقدامات پر کوئی ندامت نہیں‘ اگرچہ الجزیرہ اپنی تمام تر آزادی کے باوجود قطر کے بارے میں ایک لفظ کی نکتہ چینی نہیں کر سکتا مگر یہ اُن کا اندرونی معاملہ ہے۔

ہم نے قومی ہزیمت کی اس داستان کو اُن کے ذریعے طشت از بام کرا کر اپنی بڑائی کی مثال قائم کی ہے۔ اضافی رعایت یہ دی ہے کہ سرکاری طور پر اس رپورٹ کو اب  بھی سامنے نہیں آنے دیا جا رہا۔ اِس طر ح اِس کے تمام پڑھنے والے دنیا بھر سے الجزیرہ کی ویب سائٹ کا رُخ کر رہے ہیں۔ اِس سے یہ چینل مزید ترقی کررہا ہے۔ ہمیں اس کی بہت خوشی ہے۔ ہم نے ایسا ہی کچھ حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ کے ساتھ بھی کیا تھا۔ اگرچہ ہندوستان ایک سڑیل ملک ہے اور اُس کا میڈیا ہمیشہ ہماری برائیاں کرتا ہے مگر ہم اپنی بہترین اقدار کو انتقام یا جذباتیت کے ہاتھوں تباہ نہیں ہونے دیتے۔ اس کمیشن کی رپورٹ کے غیر رسمی اجراء کا سہرا ہم نے اپنے دشمن کو حق ہمسائیگی کے صدقے عطا کیا۔ وہ خو ش رہیں ہماری خیر ہے۔

ایبٹ ا باد کمیشن رپورٹ (الجزیرہ ایڈیشن) کا ہر جملہ ہمار ے ان بہترین کارناموں کی ایک شاندار یاد داشت ہے۔ جسے بغض کے مار ے ہو ئے تجزیہ کاروں کے بیمار ذہن ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ قصور اُن چند متعصب حلقوں کا نہیں ہے، اُن کے ذہنوں، آنکھوں اور دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔ یہ اچھی بات نہیں سمجھ سکتے ہیں اور نہ دوسروں کی بھلائی میں خود کو قربان کرنے کی اُس آسودگی سے آ گاہ ہیں جو صر ف ہمارا نصیب ہے۔ دو مئی تک کے تمام واقعات کی تفصیل اور پھر اُس دن امریکی کارروائی ( نہ جا نے کمیشن اس کو ’’ اعلا ن جنگ‘‘ کیوں کہہ رہا ہے؟ جنگ تو وہ ہو تی ہے جو لڑ ی جا ئے۔ دو مئی کو کارروائی ہو ئی تھی۔ امریکی جہازوں کے جانے کے بعد ہم نے بھی ’کارروائی‘ ڈالی۔ جنگ کا دو مئی سے کیا تعلق؟) میں ہماری دریا دلی نے قابل قدر حصہ ڈالا۔ یوں تو بتانے کو بہت کچھ مگر آپ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی ذاتی کاوشوں کو ہی دیکھ لیں۔ حسین حقانی کی دھڑا دھڑ ویز ے جاری کرنے کی عظیم قومی خدمت ماند پڑجائے گی۔

اگرچہ دونوں اپنے افکار، طریقۂ کار میں دوسروں سے مختلف ہیں۔ ڈاکٹر موصوف نے ایک این جی او کے ساتھ  پولیو اور ہیپاٹائٹس کی ایک ایسی مہم کا آغاز کیا جس کا اُن کے اپنے ادارے کو بھی علم نہیں تھا۔ دو امریکی بہنوں (سو اور کیٹ) کی خواہش پر اس محلے میں خواتین ہیلتھ ورکرز کا جال بچھا دیا جہاں پر اسامہ بن لادن اور اُس کے خاندان کے موجود ہونے کے بار ے میں CIA نے کافی شواہد اکٹھے کر لیے تھے۔ اس خدمت کے نتیجے میں بچوں اور خواتین کی صحت کو بہتر بنانے کے نام پر بھاری رقوم اپنے اکائونٹ میں براہ راست منگواتے رہے اور اس تما م کارروائی کے دوران اُن کے معصوم ذہن میں کبھی یہ خدشہ یا وہم نہیں آیا کہ کہیں اُن کے ہاتھوں کوئی قانون شکنی نہ ہو جائے۔ ایسے سادہ لوح انسانیت پرست کیا کہیں اور ملتے ہو ں گے؟ ہمارے قانون کے نفاذ کرنے والے اداروں کی فیاضی اور اعلیٰ ظرفی بھی کچھ کم نہیں رہی۔ شکیل آفریدی کو دو مئی کے واقعا ت کے ہفتوں بعد گرفتار کرکے اُس خوبصو رت انداز میں مقدمہ تیار کیا گیا کہ کسی آزاد عدالت میں وہ پہلی پیشی پر بری ہو جا ئے۔

ہم نے اس تنظیم کے اُس وقت کے سربراہ کو باہر جانے دیا جنہوں نے اپنی رہائشگاہ پر ڈاکٹر شکیل آفریدی اور اُن کی منہ بولی بہنوں کے درمیان مقدس رشتہ جوڑا تھا۔ آ ج بھی یہ تنظیم پاکستان کے آدھے سے زیادہ اضلاع میں کام کر رہی ہے۔ کم از کم کمیشن کی رپورٹ میں تو یہی لکھا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرا امدادی ادارہ جس کے اسٹاف کی آڑ لیتے ہوئے سی آئی اے نے اسامہ کو پکڑنے کے لیے زمین تیار کی‘ اب بھی ہمارے ملک میں ہر جگہ فخر سے پاکستانیوں کی زندگیاں بدلنے کی کارروائیوں میں مصروف نظر آتا ہے۔ ہمارے چینلز اور اخبارات ان کی خوب تشہیر کرتے ہیں۔ ظاہر ہے ہم یہ جان چکے ہیں کہ اس طرح کی تنظیمیں ہماری فلاح پر مامور ہیں اور ویسے بھی مہمان نواز اقوام کو تنگ نظری جچتی نہیں۔ کبھی کبھار 2 مئی جیسے واقعات ہوجانے سے وقتی طور پر جی آزردہ ہو جاتا ہے مگر پھر یہ سوچ کہ ہم اپنی ساکھ کے رکھوالے ہیں، دوبارہ سے ہشاش بشاش کر دیتی ہے۔ اس طرح ہم دنیا کی خدمت میں نئی توانائی کے ساتھ جُت جاتے ہیں۔

ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ میں اتنا کچھ ہے کہ اگر میر ے بس میں ہو تو میں اس کو پاکستان کے ہر اسی ادار ے کے بنیادی نصاب کا حصہ بنا دوں جو قومی سلامتی سے متعلق ہے۔ اس رپورٹ میں قومی دفاع کے جدید تصور کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ یہ دو بنیادی اصولوں پر مبنی ہے۔ پہلا اصول “کچھ نہ کرو” کا ہے‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر اسامہ بن لادن جیسے کردار ہماری سرزمین پر پائے جاتے ہیں یا سی آئی اے جیسی ایجنسیاں ان کو پکڑنے کے لیے سالوں سے کام کر رہی ہیں تو اس کے جواب میں صرف یہ کرو کہ “کچھ نہ کرو”۔ دوسرا اصول اس سے بھی اہم ہے اس کو ہم خاموش احتجاج، برداشت اور بھول جانے کی صلاحیت کے مکمل مظاہرے کا امتزاج کہہ سکتے ہیں۔ ایک ضمنی مگر اہم قاعدہ “سب اچھا ہے” کا ہے۔ یہ ان دونوں اصولوں کو جوڑتا ہے جس سے ہم نے دفاعِ مملکت کے نئے تصور کو پایا ہے۔ اگر کوئی پھر بھی ہماری اچھائی کی تعریف نہیں کرتا یا اس سے غلط  فائدہ اٹھاتا ہے تو یہ اس کا اپنا چھوٹا پن ہے۔ یہ جواز بالکل صحیح ہے کہ امریکا نے ہم کو دغا دیا۔ ہماری کوئی غلطی نہیں تھی۔ ہم اچھے ہیں، ہم اچھے رہیں گے، بالکل تبدیل نہیں ہوں گے اور ہمارے دروازے اب بھی سب کے لیے کھلے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔