کوئی ہے ۔۔۔ ایڈورڈ سنوڈین کو لانے والا؟

محمد ابو بکر جمیل  اتوار 14 جولائ 2013
بولیویا کے صدارتی طیارے کی تلاشی کا ڈرامہ کب اور کیسے تیار ہوا؟ اندھی طاقت کی ایک شرم نا ک حرکت.  فوٹو: فائل

بولیویا کے صدارتی طیارے کی تلاشی کا ڈرامہ کب اور کیسے تیار ہوا؟ اندھی طاقت کی ایک شرم نا ک حرکت. فوٹو: فائل

بولیوین ائیر فورس کی فلائیٹ FAB-001 جب ماسکو ائیر پورٹ سے اپنی منزل ’’ لا پز‘‘ La Paz کی جانب روانہ ہوئی تو اس کے مسافر بولیویا کے صدر Evo Morales کے خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ ان سے ہزاروں میل دور امریکا اور یورپ میں بیٹھے ہو ئے کچھ لوگ ان کے طیار ے کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ایک شیطانی حکمت عملی ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔

Dassault Falcon 900EX طیارہ فضاؤں کو چیرتا پرتگال کی جانب رواں دواں تھا، اس نے وہاں سے ایندھن لے کر دوبارہ بولیویا کی جانب سفر کرنا تھا۔ طیارہ یورپ کی فضائی حدود میں داخل ہو ا ہی تھا کہ کچھ دیر بعد اچانک اس نے غیر متوقع طور پر اپنی سمت تبدیل کرلی اور تیزی سے مڑ کر آسٹریا کی جانب بڑھنے لگا، اس کے ساتھ ہی آسٹریا کے شہر ویانا کے ائیر پورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی تیاریاںشروع ہو گئیں۔

ائیر ٹریفک کنٹرول روم میں ڈیوٹی پر موجودایک اہل کار کی فلائیٹFAB-001 کے گھبرائے ہوئے پائلٹ سے بات ہوئی تھی جس نے اس کو مطلع کیا تھا کہ اس کے طیارے کا ایندھن خطرناک حد تک کم ہو چکا ہے اور پرتگال، اسپین ، اٹلی اور فرانس نے اس کو اپنی سرزمین پر طیارہ لینڈ کرنے اجازت دینے سے معذرت کر لی ہے اس لیے اس کو فوری طور پر ویانا میں لینڈ کرنے کی اجازت دی جائے ورنہ طیارہ کسی حادثے کا شکار ہو سکتا ہے اور اس کے وی آئی پی مسافر بولیویا کے صدر کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ویانا کے ائیر پورٹ کی انتظامیہ کے لیے صورت حال ذرہ بھر بھی غیرمتوقع نہیں تھی ، ہوائی اڈے پر موجود کچھ اہل کاراس طیارے کے پائلٹ کی کال کا پہلے ہی سے انتظار کر رہے تھے، ہر ہر، لمحہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے عین مطابق پیش آرہا تھا جس کی ان کو خبر دی جا چکی تھی۔ حکم کے مطابق انہوں نے طیارے کو ویانا ائیر پورٹ پر لینڈ کر نے کی اجازت دے دی اور رن وے پر موجودسیکیو رٹی اہل کاروں کے ہم راہ طیارے کے اترنے کا انتظار کرنے لگے جو اگلے چند لمحوں میں وہاں پہنچنے والا تھا، پھر جیسے ہی طیارہ رن وے پر اتر کر رکا اس کو چاروں اطراف سے سیکیورٹی اہل کاروں نے گھیر لیا ، بولیویا کے صدر اور طیارے کے عملے کو فوری طور پر ائیر پورٹ کے ایک مخصوص حصے کی جانب روانہ کر دیا گیا اور طیارے کی تلاشی لینے کا عمل شروع ہو گیا، ائیر پورٹ کی عمارت میں محصور بولیویا کے صدر اور جہاز کا باقی عملہ حیران و پریشان تھا کہ وہ کونسی طاقت تھی جس کے ایماء پر ایک ملک کے صدر کے سرکاری طیارے کو یوں اغواء کر کے ویانا میں یرغمال بنالیا گیا ؟ بے دھیانی میں کوئی جرم سرزد ہوگیا؟ طیارے کے پائلٹ نے کسی ممنوعہ منطقے کو عبور کیا؟ کہیں اُن کے ملک میں کوئی ناگہانی آن پڑی ؟ سو طرح کے وسوسے، خدشے لیکن۔۔۔۔ کسی کی سمجھ کچھ آیائے تو بتائے ۔

بہ ہر حال منظر کھلتے کچھ بہت زیادہ دیر بھی نہیں لگی، معلوم ہوا کہ کہ یہ سب کیا دھرا ’’عالمی بدمعاش‘‘ انکل سام کا ہے اور اس کو تلاش ہے ایڈورڈ سنوڈ ین کی، جی ہاں؛ وہ ہی ایڈورڈ سنوڈین، جس نے چند ہفتے قبل امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی NSA کے مکروہ چہرے پر چڑھا خوب صورت مکھوٹا اتار کر امریکا کو بوکھلا دیا اور دنیا جہان کو انگشت بہ دنداں کر دیا، امریکا کو اس کے اپنے ہی شہری نے جگ میں رسوا کیا، امریکی صدر بارک اوباما کو امریکی عوام اور باقی دنیاکے سامنے جواب دہ بھی ہونا پڑا اور بات اب تک ان کے قابو میں نہیں آئی، آنکھیں اب بھی غصے سے لال دھائی دیتی ہیں۔

ایڈورڈ سنوڈین جو امریکہ سے بھاگ کر ہانگ کانگ پہنچا تھا ، پھر اس کے بعد NSA کے رازوں کو افشا کر کے ماسکو کے بین الاقوامی ائیرپورٹ کے لاؤنج میں پناہ گیر ہوا تھا اور امریکا کی تمام تر سر توڑ کوششوں کے باوجود وہ تاحال اس کے ہاتھ نہیں لگا ہے اور وہ آج کل کسی بھی ملک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ سنوڈین کا امریکی پاسپورٹ چوں کہ امریکا منسوخ کر چکا ہے اس لیے اب انکل کو خدشہ یہ لاحق تھا کہ وہ کسی دوسرے طریقے سے ماسکو سے فرار ہو کرلاطینی امریکا نہ پہنچ جائے۔

ان ہی وسوسوں کی فضا میں بولیویا کے صدر ماسکو میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے وہاں پہنچے ہوئے تھے، بوکھلائی ہوئی امریکی ایجنسیوں کو اس وہم نے لپیٹ میں لے لیا کہ ہو نہ ہو بولیویا کا صدر سنوڈین کو واپسی پر اپنے ذاتی طیارے میں ماسکو سے فرار کرا کے لے جائے گا، یہ بے پر کی دھیان میں آتے ہی اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور ڈپلومیسی کی علمی اخلاقیات کو بھاڑ میں جھونکنے کی ٹھان لی۔ فوری طور پر یورپ بھر کی تاریں کھڑک گئیں ، انکل نے جلالی حکم صادر کر دیا، اب کس کی مجال ہے کہ سرِ مو انحراف کرے، سو جب بولیویا کے صدر کا طیارہ یورپ کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو ویانا کی طرف مڑنے کو کہا گیا، لاکھ سمجھایا گیا کہ جناب یہ بولیویا کا سرکاری طیارہ ہے، صرف یہ ہی نہیں بل کہ اس وقت اس میں بولیویا کا صدر بہ نفسِ نفیس محو پرواز بھی ہے اور یہ حرکت جو کی جا رہی ہے،

مسلمہ بین الاقوامی اصولوں کی پامالی ہے ، جواب ملتا ہے ، کون صدر، کہاں کا صدر ۔۔۔۔ ادھر تلاشی دیتے جاؤ۔ امریکی حکام کو واضح طور پر معلوم تھا کہ طیارے کو ایندھن کے لیے پرتگال اترنا ہے، اس لیے پرتگال کے ساتھ ساتھ امریکا نے قریبی ممالک اسپین، فرانس اور اٹلی کو بھی اس بات پر راضی کیا کہ وہ بولیویا کے صدارتی طیارے کو اپنی سرزمین پر اترنے کی اجازت دینے سے انکار کردیں، اس صورت میں مجبورہو کر پائلٹ کو طیارہ آسٹریا میں اتارنا پڑے گا اور وہاں طیارے کی اطمینان سے تلاشی لی جا سکے گی۔

جب طیارے کی تلاشی لے لی گئی تو ایک بار پھر امریکا کے ہاتھ سوائے خفت و ذلت کے کچھ بھی نہ آیا، و اقعہ کے فوراً بعد لاطینی امریکا کے عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا اور مختلف لاطینی امریکی ممالک کے اعلیٰ عہدے داروں نے امریکہ اور یورپ پر بے نقط کے تبرے بھیجے اور بے بھاؤبھیجے۔

’’ اگر امریکا یہ سمجھتا ہے وہ ایسی حرکتیں کر کے مجھے ڈرانے دھمکانے میں کام یاب ہو جائے گا تو یہ اس کی بھول ہے ، لاطینی امریکا ایسی بدمعاشیوں سے مرعوب ہونے والا نہیں‘‘۔ بولیویا کے صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ جب وہ چودہ گھنٹے آسٹریا میں روکے جانے کے بعد وہاں سے روانہ ہونے لگے تھے تو دنیا کے لیے یہ ایک حیران کن بات تھی کہ امریکا اتنا طاقت ور ملک ہے کہ وہ امریکا سے باہر کسی بھی ملک پر دباؤ ڈال کرکسی صدارتی طیارے کو زبردستی کہیں بھی لینڈ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ امریکا کی اندھی طاقت کا یہ ایک کھلا ثبوت ہے جس نے لاطینی امریکا میں پائے جانے والے امریکا مخالف جذبات کو اور ہوا دے دی ہے۔ یہ اس بات کا بھی ثبوت تھا کہ ایڈورڈ سنوڈین امریکا کے حواس پر طاری ہوچکا ہے اور اس کو گرفتار کرنے میں مسلسل ناکامی امریکا کی خفیہ ایجنسیوں سے ہضم نہیں ہو رہی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ اب اوچھی حرکتوں پر بھی اتر آئی ہیں۔

بولیویا کی وزات خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں امریکا اور یورپ کی اس مشترکہ حرکت کوبین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا گیا اور بولیویا کی جانب سے اقوام متحدہ کے سامنے اس واقعے کی شدید مذمت کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ پیش آنے سے قبل بولیویا کے صدر نے ماسکو میں دیے گئے ایک بیان میں ایڈورڈ سنوڈین کو امریکی ہیرو قرار دیا تھا، جس کو سن کر امریکی حکام کو یوں لگا کہ بولیویا ایڈورڈ سنوڈین کو سیاسی پناہ دینے کا فیصلہ کر چکا ہے اور ہو سکتا ہے کہ بولیویا کے صدراس کو ماسکو سے اپنے صدارتی طیارے میں ساتھ لے چلیں، پھر ایڈورڈ سنوڈین کو قابو کرنے کے لیے امریکی حکام نے بولیویا کے صدر کی زندگی بھی خطرے سے دوچار کر ڈالی۔

یاد رہے کہ بولیویا ان درجن بھر سے زیادہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن سے ایڈورڈ سنوڈین نے سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی اور زیادہ امکان اسی بات کا تھا کہ کوئی لاطینی امریکی ملک ہی سنوڈین کو پناہ دے گا جیسے اس سے پہلے وکی لیکس کے جولیئن اسانجے کو ایکواڈور نے سیاسی پناہ دے رکھی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیاسی پناہ کے حصول میں بھی جولیئن اسانجے ہی سنوڈین کی مدد کر رہا ہے۔ امریکا اپنی بے پناہ طاقت کے خمار میں پہلے ہی ساری دنیا میں منادی کرا رکھی ہے کہ چوں کہ ایڈورڈ سنوڈین امریکا کا غدار ہے، اس لیے جس ملک نے بھی اس کو اپنے ہاں پناہ دی، کولہو میں پلوا دیا جائے گا، اب کون ہے جو امریکا سے دشمنی مول لینے کی سوچ بھی سکے۔

یورپ میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد ارجنٹائن کی صدر کرسٹینا فرنینڈیز نے احتجاج کرتے ہوئے بیان دیا ہے ’’ یہ اقدام لاطینی امریکا کی ہتک کرنے کے مترادف ہے ،کسی بھی ملک کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کو اس طرح ہراساں کر سکے، ایسا کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور قابل مذ مت بھی ہے۔ ایوی ایشن حکام کے مطابق ’’ کسی ملک کی اعلیٰ سرکاری شخصیت کے طیارے کو اپنی سرزمین پر اترنے سے انکار کرنے کا حق یا پھر اس کو اپنی سرزمین پہ اتار کر اس کی تلاشی لینے کا حق اگرچہ کوئی غیر قانونی عمل نہیں مگر حالیہ تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال بھی نہیں ملتی ، اس لیے یورپی ممالک کا یہ اقدام غیر معمولی ہے‘‘۔

اس سلسلے میں جب امریکی حکام سے رابطہ کیا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا امریکا کے ایما پر بولیویا کے صدارتی طیارے پر یورپی ایئر اسپیس بند کی گئی تو امریکی حکام نے کسی قسم کا تبصرے کرنے سے معذرت کر لی ، دوسری طرف پرتگال، اسپین، فرانس اور اٹلی نے یہ بات ماننے سے ہی انکار کر دیا کہ انہوں نے اپنی فضائی حدود بولیویا کے صدارتی طیارے پر بند کی تھی تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے تسلیم کیا کہ ان سے اجازت دینے میں تاخیر سرزد ہوئی جس پر وہ بولیویا کی وازرت خارجہ سے معذرت خواہ ہیں، یہ بہ ہرحال ایک عذرِ لنگ ہے اور نامعقول بھی۔

لاطینی امریکی ممالک کے بارے میں امریکا کے ماضی کے رویے کو مد نظر رکھتے ہوئے ان ممالک کا تاثر ہے کہ امریکہ ہی اصل میں اس سارے ڈرامے کا خالق ہے اور یہ کوئی ان ہونی بات نہیں ۔

ابھی تک کسی بھی لاطینی امریکی ملک نے واضح طور پر ایڈورڈ سنوڈین کو سیاسی پناہ دینے کا عندیہ تو نہیں دیا البتہ بولیویا کے صدر کے ساتھ پیش آنے والے اس حالیہ واقعے کے بعد اب دیکھنے والی بات یہ ہو گی کہ کیا امریکی حکام کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بولیویا یا کوئی اور لاطینی امریکی مملک ایڈورڈ سنوڈین کو سیاسی پناہ دے کر اپنے خطے کی بے عزتی کا بدلہ چکائے گا یا ٹھنڈے پیٹوں یہ تذلیل برداشت کر جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔