مشکل ہے مگر ناممکن نہیں!

نادیہ حسین  منگل 8 جنوری 2019
آپ چھوٹے پیمانے پر کاروبار کا آغاز کر کے منہگائی کا مقابلہ کرسکتی ہیں

آپ چھوٹے پیمانے پر کاروبار کا آغاز کر کے منہگائی کا مقابلہ کرسکتی ہیں

کم آمدن اور تنخواہ دار طبقے کے لیے ملک میں بڑھتی ہوئی منہگائی کا مقابلہ کرنا اور زندگی کی ضروریات پوری کرنا یقیناً آسان نہیں رہا۔ کفایت شعاری سے کام لینے اور غیرضروری اخراجات نہ کرنے باوجود بھی جب گزارہ مشکل ہوجائے تو گھر کا کفیل پریشان اور فکر مند ہی ہو گا، لیکن کیا اس طرح پریشان ہونا کسی کی مالی حیثیت میں اضافہ اور اس کی ضروریات کی تکمیل کرسکتا ہے؟ ایسا نہیں ہوتا بلکہ اندیشے، خدشے اور مالی ضروریات پوری کرنے کی فکر آپ کو ذہنی اور جسمانی امراض کا شکار بنا دیتی ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ آپ اپنی موجودہ مالی حیثیت کے ساتھ ذرائع آمدن بڑھانے اور تمام مصروفیات کے بعد دست یاب وقت کو کام میں لانے کا سوچیں؟ بس تھوڑی سی ہمت اور محنت کی ضرورت ہے۔

ہمارے یہاں لیبر قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے علاوہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے حکومتی سطح پر کوئی جامع پالیسی اور ان کی مالی مشکلات گھٹانے کے لیے اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے بھی مسائل بڑھے ہیں اور معاشی تنگ دستی کا سب سے زیادہ شکار مزدور اور ملازمت پیشہ طبقہ ہے۔ ان حالات میں کم آمدن والا طبقہ اب چھوٹے پیمانے پر کاروبار کی طرف متوجہ ہوا ہے، لیکن اس کے لیے بھی کچھ سرمایہ تو درکار ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ اگر آپ باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہیں تو آپ تھوڑی سی ہمت کر کے اپنا کاروبار شروع کر سکتی ہیں۔

اس مقصد کے لیے وہ بچت جو آپ کسی طرح ماہانہ اخراجات سے کرتی رہی ہیں، کام آسکتی ہے۔ یاد رکھیے کوئی بھی بڑا کاروبار ہمیشہ چھوٹے پیمانے سے ہی شروع ہوتا ہے۔ جیسے جیسے آمدنی بڑھتی جاتی ہے، اسی تناسب سے کاروبار کو وسعت دی جاسکتی ہے۔ اکثر لوگ سوچتے ہیں کہ کسی سے قرض لے کر کاروبار شروع کیا جائے، لیکن یہ بھی درست ہے کہ قرض دینے والا اسی صورت میں قرض دیتا ہے جب اسے اپنی رقم کی واپسی کا یقین ہو اور اگر آپ کسی کو اس حوالے سے مطمئن نہیں کرسکیں تو رقم بھی نہیں ملے گی۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ کاروبار کے لیے اپنے وسائل پر بھروسا کریں۔

دنیا کے بیش تر ممالک میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ہنر مند خواتین نے چھوٹے پیمانے پر ذاتی کاروبار شروع کر کے نہ صرف اپنے گھرانوں کو معاشی طور پر خوش حال کیا بلکہ ملکی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوگئیں۔ کہتے ہیں چین جو آج معاشی طور پر مستحکم ہے اس کی شان دار ترقی اور خوش حالی کے پیچھے انہی گھریلو صنعتوں کا ہاتھ ہے جنہیں ہنر مند خواتین اپنے زور بازو پر چلا رہی ہیں۔ ان کی تیار کردہ اشیا دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کی مثال بھی دی جاسکتی ہے جہاں ہنر مند خواتین نے بینکوں سے قرض لے کر گھریلو صنعتیں قائم کیں اور اپنے کنبوں کی کفالت کرتے ہوئے گھرانوں کو غربت سے نکالا۔

وہ خواتین جو گھریلو یا چھوٹے پیمانے پر کوئی کاروبار کرتی ہیں، ان کے لیے سہولت موجود ہے کہ وہ بینک سے قرض لے کر اپنے چلتے ہوئے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔ تقریباً تمام بینک اس مقصد کے لیے چھوٹے قرضے فراہم کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کے قائم کردہ مائیکرو فنانس بینک نے لاکھوں افراد کو سرمایہ فراہم کر کے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع دیا اور دیگر افراد کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

اگر آپ کوئی کاروبار کرنا چاہتی ہیں تو یہ دیکھیں کہ آپ کیا کام بہتر طور پر کر سکتی ہیں۔ آپ اپنا ہنر اور اپنی صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہیں۔ اس لیے یہ فیصلہ آپ کو ہی کرنا ہے کہ کس کام کا آغاز کریں۔ اسی طرح جو خواتین پہلے ہی کوئی چھوٹا موٹا کاروبار اور گھریلو صنعت چلا رہی ہیں وہ اپنے کاروبار کو وسعت دینے کی خواہش مند ہیں تو بینکوں سے قرض لے سکتی ہیں۔ تاہم اس کے لیے مالیاتی اداروں کی کچھ شرائط اور کاغذی کارروائی پوری کرنا ہوتی ہے۔ کسی مائیکرو فنانس بینک سے قرض حاصل کرنے کے لیے آپ کا قومی شنا ختی کارڈ ہونا لازمی ہے جس کے ذریعے آپ کی عمر، پتا اور دیگر ضروری معلومات بینک تک پہنچ جاتی ہیں اور اس کے بعد یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ درخواست دینے والی خاتون کسی بھی مالیاتی ادارے کی نادہندہ تو نہیں ہیں۔ بینک سے قرض کے حصول کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ درخواست دہندہ کے پاس زر ضمانت موجود ہو جس کی بنیاد پر اسے قرض دیا جاتا ہے۔

اس مقصد کے لیے سونے کے زیورات یا خام سونا بھی پیش کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کے جاری کردہ سیونگ سرٹیفکیٹس بھی بطور زر ضمانت قابل قبول ہیں۔ قرض کی ادائی کی مدت کا معاملہ ہے تو اس کے لیے تین سے بارہ مہینے کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ بینک کو قرض واپس کرنے کے لیے آپ اپنی سہولت کے مطابق مختلف آپشنز استعمال کر سکتی ہیں۔ آپ ماہانہ اقساط کی شکل میں قرض ادا کر سکتی ہیں۔ یہ رقم مختلف بینکوں کی پالیسی کے مطابق اور آپ کے کاروبار کے حجم کے لحاظ سے فراہم کیا جاتا ہے۔

بینک کو رقم کی بر وقت واپسی کی صورت میں اس کی نظر میں آپ کی کاروباری ساکھ بھی بہتر ہو جاتی ہے اور کوئی بھی بینک مستقبل میں آپ کو قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر مزید سہولیات فراہم کرتا ہے۔ آپ اگر کوئی کام شروع کرنا چاہتی ہیں تو اس کے لیے پہلے اپنے مالی وسائل پر غور کریں اور اس کے بعد مشاورت کی طرف توجہ دیں۔ ایسے لوگوں سے رابطہ کریں جو کوئی کاروبار کر رہے ہیں اور ایسی کوئی گھریلو صنعت کا تجربہ رکھتے ہوں جس میں آپ بھی دل چسپی لے رہی ہیں۔ ان سے اہم معاملات پر مشاورت کریں اور جب خود کو اس قابل سمجھیں کہ آپ یہ کاروبار شروع کرسکتی ہیں تو بینک سے رجوع کریں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔