دورہ جنوبی افریقا؛ ناکامیوں کی طویل داستان میں نئی شرمندگی کا اضافہ

محمد یوسف انجم  منگل 8 جنوری 2019
جنوبی افریقا کی سرزمین پر پاکستان کوئی ٹیسٹ سیریز جیت نہیں سکا (فوٹو: فائل)

جنوبی افریقا کی سرزمین پر پاکستان کوئی ٹیسٹ سیریز جیت نہیں سکا (فوٹو: فائل)

 لاہور: جنوبی افریقا میں حالیہ ٹیسٹ سیریز ہارنے والے سرفراز احمد قومی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان نہیں۔ اور ان کو عہدے سے الگ کرنے کا مطالبہ کرنے والوں میں وہ بھی شامل ہیں جو خود شکست کا طوق گلے میں لٹکا کر واپس آتے رہے ہیں۔ ان شکست خوردہ لیڈرز میں سلیم ملک، راشد لطیف، وقار یونس، انضمام اور مصباح الحق بھی ہیں۔

پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان آخری ٹیسٹ 11 جنوری سے جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔ سنچورین اور کیپ ٹاون ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد سرفراز کو قیادت چھوڑنے ، کوچ مکی آرتھر کو ہٹانے کے مشوروں کے ساتھ ہر دانش ور ٹیم کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہے۔ ایسے وقت میں جب کھلاڑیوں کو سپورٹ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن ناقدین ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں مصروف ہیں۔

جنوبی افریقا میں سرفراز احمد کی قیادت میں قومی ٹیم کی مایوس کن پرفارمنس نے پہلی دفعہ شائقین کے دل نہیں توڑے۔ اور سرفراز احمد ناکام رہنے والے پہلے کپتان بھی نہیں۔ پاکستان نے اب تک جنوبی افریقا میں پانچ سیریز کھیلی ہیں ، جس میں سلیم ملک، راشد لطیف، وقاریونس، انضمام الحق اور مصباح الحق کو شکست فاش ہوئیں۔

پاکستان نے جنوبی افریقا میں صرف 2 ٹیسٹ میچز ہی جیتے ہیں جس میں سعید انور، اظہر محمود، انضمام الحق، مشتاق احمد، محمد آصف، شعیب اختر اور دانش کنیریا کا نمایاں ہاتھ رہاہے۔ پاکستان کی ناکامیوں کی ایک طویل داستان ہے جس میں اب ایک نئی شرمندگی کا اضافہ ہواہے۔ آئیے اب تک کھیلی جانے والی سیریز کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔

اولین پاک جنوبی افریقا سیریز

95-1994 میں سلیم ملک کی قیادت میں پاکستان نے پہلی بار جنوبی افریقا کی سرزمین پر سیریز کھیلی، راشدلطیف ان کے نائب کپتان تھے۔ عامر سہیل، سعید انور،آصف مجتبٰی، اعجاز احمد، انضمام الحق، معین خان، وسیم اکرم، کبیر خان، عاقب جاوید ،عامر نذیر، باسط علی، منظور الہٰی، اکرم رضا اور شکیل احمد پر مشتمل ٹیم کو جوہانسبرگ میں کھیلے گئے واحد ٹیسٹ میں 324 رنز سے شکست ہوئی۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 460 رنز بنائے جب کہ دوسری اننگز 259 رنز بناکر ڈیکلیئر کردی تھی۔ پاکستانی ٹیم 230 اور 165 رنز تک ہی محدود رہی۔ سلیم ملک پہلی اننگز میں 99 رنز بناکر نمایاں رہے، دوسری باری میں انضمام الحق نے 95 رنز بناکر مزاحمت کی۔

پروٹیز کے خلاف راشد لطیف کی کپتانی

اب ذکر کرتے ہیں قومی ٹیم کے 98-1997 کے ٹور کا، جس میں قیادت کا تاج وکٹ کیپر بیٹسمین راشد لطیف کے سر سجا، عامر سہیل نے نائب کپتان کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ سعید انور، اعجاز احمد،انضمام الحق،محمدیوسف، معین خان،محمد وسیم، ثقلین مشتاق، اظہر محمود، علی نقوی، شعیب اختر، محمد اکرم، وقاریونس اور مشتاق احمد ٹیم کا حصہ تھے، جوہانسبرگ کا پہلا ٹیسٹ ڈرا ہوا، ڈربن ٹیسٹ پاکستان نے 29 رنز سے جیتا، پہلی اننگز میں اظہر محمود نے 132 رنز اور شعیب اختر نے 5 وکٹ لے کر دھوم مچائی تو دوسری اننگز میں سعید انور نے 118 اور مشتاق احمد کے 6 وکٹ یادگار پرفارمنس کے ساتھ مین آف دی میچ رہے۔ پورٹ الزبتھ ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم کو 259 رنز سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، پاکستانی بیٹنگ لائن پہلی باری میں 106 اور دوسری میں 134 رنز بناسکی۔ یوں تین میچز کی یہ سیریز ایک ایک سے برابر رہی۔

جنوبی افریقا میں بورے والہ ایکسپریس

2002-03 کی سیریز وقار یونس المعروف بورے والہ ایکسپریس کی قیادت میں کھیلی، اس وقت انضمام الحق ان کے نائب تھے۔ اسکواڈ میں حسن رضا، محمدیوسف، مصباح الحق، محمدسمیع، فیصل اقبال،توفیق عمر، شعیب اختر، کامران اکمل، سلیم الہی، ثقلین مشتاق، وسیم اکرم، محمد زاہد، شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کو لیا گیا، ڈربن ٹیسٹ میزبان ٹیم نے 10 وکٹ سے اپنےنام کیا۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 368 رنز بورڈ پر سجائے۔ جواب میں پاکستانی بلے باز 161 پر پویلین لوٹ گئے۔ فالو آن کے بعد قومی ٹیم 250 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی، جنوبی افریقا نے 45 رنز کا ہدف بغیر کسی نقصان کے پورا کیا۔ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ قومی ٹیم ایک اننگز اور 42 رنز سے ہاری، جنوبی افریقا نے 7 وکٹ پر 627 رنز بناکر اننگز ختم کی۔ ہرشل گبز نے 228 اور اسمتھ نے 151 اسکورکیا۔ ثقلین مشتاق نے 3 وکٹ کے لیے 237 رنز دیئے۔ وقاریونس نے 121، محمد سمیع نے 124 جب کہ محمد زاہد نے 108 رنز دیئے۔ جواب میں قومی ٹیم 252 اور 226 رمز پر ڈھیر ہوئی۔ توفیق عمر نے 135 رنز کی اننگز کھیلی۔ یوں سیریز کے دونوں ٹیسٹ جنوبی افریقا کےنام رہے۔

موجودہ چیف سلیکٹر بحیثیت کپتان

07-2006 میں پاکستانی ٹیم ایک بار پھر جنوبی افریقا کی مہمان بنی۔ کپتان موجودہ چیف سلیکٹر انضمام الحق تھے، کھلاڑیوں میں محمد حفیظ، عمران فرحت، یاسر حمید،یونس خان، فیصل اقبال، کامران اکمل، شاہد نذیر، رانا نوید الحسن، دانش کنیریا اور محمد آصف نے سنچورین ٹیسٹ کھیلا جس میں جنوبی افریقا 7 وکٹ سے سرخرو رہا۔ پاکستان نے 313 اور 302 رنز اسکور کئے۔ جنوبی افریقا نے 417 اور 3 وکٹ پر 199 رنز بنائے۔ اس ٹیسٹ میں یونس خان اور عمران فرحت کے 68،68 اور یاسر حمید کے 65 رنز کے ساتھ محمد آصف کے پانچ وکٹ نمایاں پرفارمنس تھی۔ پورٹ الزبتھ ٹیسٹ میں پاکستان نے 5 وکٹ سے کامیابی پائی۔ شعیب اختر کے 4، دانش کنیریا کے 3 اور محمد آصف کے 2 وکٹ کی بدولت جنوبی افریقا کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 124 رنزہی بنا پائی۔ انضمام الحق کے ناقابل شکست 92 رنز کے ذریعے پاکستانی ٹیم 265 رنز بنانے میں سرخرو ہوئی۔ دوسری باری میں مہمان ٹیم نے 331 رنز کا مجموعہ بنایا۔ محمد آصف 5 وکٹ لے کر ہیرو بنے۔ دانش کنیریا نے 4 وکٹ لیے۔ پاکستان نے 191 رنز کا ہدف پانچ وکٹ گنوا کر پورا کیا، یونس خان نے 67 رنز کا حصہ ڈالا۔ کیپ ٹاؤن کے آخری ٹیسٹ میں جنوبی افریقا نے 5 وکٹ سے فتح پاکر سیریز 1-2 سے اپنے کھاتے میں درج کروائی۔ اس میچ میں پاکستان نے 157 اور 186 رنز بنائے۔ جنوبی افریقا نے 183 اور 5 وکٹ پر 161 رنز کے ساتھ برتری پائی۔ میچ میں پاکستان کی جانب سے محمد یوسف کے 83، محمد آصف اور دانش کنیریا کے پہلی اننگزمیں 3،3 وکٹ نمایاں تھے۔ دوسری باری میں بھی محمد آصف اور دانش کنیریا کے 2،2 وکٹ تھے۔

مسٹر ٹک ٹک کی قیادت

2013 کے دورے میں مصباح الحق کی قیادت میں محمد حفیظ، ناصر جمشید، اظہر علی، یونس خان، اسد شفیق، سرفراز احمد، عمر گل، سعید اجمل، جنید خان اور راحت کی موجودگی میں قومی ٹیم کو جوہانسبرگ ٹیسٹ میں 211 رنز سے شرمندگی ہوئی۔ جنوبی افریقا کے 253 رنز کے جواب میں پاکستانی ٹیم صرف 49 رنز پر ڈھیر ہوئی۔ اظہر علی 13 اور مصباح الحق 12 رنز بنا کر ڈبل فیگر تک رسائی پانے والے بلے باز تھے۔ دوسری باری جنوبی افریقا نے 3 وکٹ پر 275 رنز پر ڈکلیئر کی۔ پاکستانی بلےباز 480 رنز کے تعاقب میں 268 بنا پائے۔ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میزبان ٹیم نے 4 وکٹ سے جیتا۔ اس میچ کی میں تنویر احمد اور محمد عرفان کو بولنگ اسکواڈ کا حصہ بنایا۔ قومی ٹیم نے 338 اور 169 اسکور کیا۔ مصباح اور اسد شفیق پہلی باری میں سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوئے۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگز میں 326 اور دوسری میں 6 وکٹ پر 182 رنز کے ساتھ کامیابی پائی۔ سعید اجمل پہلی اننگز میں 6 اور دوسری میں 4 وکٹ لے کر نمایاں رہے۔ سنچورین ٹیسٹ میزبان ٹیم نے ایک اننگز اور 18 رنز سے اپنے نام کیا۔ پاکستان نے احسان عادل کو کھلایا۔ جنوبی افریقا نے پہلی اننگزمیں 409 رنز بنائے۔ راحت علی نے 127 رنز دے کر 6 وکٹ لیے۔ قومی بلے باز 156 اور 235 رنز ہی بناسکے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔