قانون سازوں کی نظرِ کرم کے منتظر کچھ بنیادی اصول

سلمان نثار شیخ  بدھ 9 جنوری 2019
کسی سیاستدان کی کرپشن کا ذکر کرنے کا مطلب ہوتا ہے جمہوریت پر حملہ کرنا۔ فوٹو: انٹرنیٹ

کسی سیاستدان کی کرپشن کا ذکر کرنے کا مطلب ہوتا ہے جمہوریت پر حملہ کرنا۔ فوٹو: انٹرنیٹ

سالہاسال کے متواتر تجربات کے بعد اب کم از کم کچھ بنیادی اصول ہمیں طے کر لینے چاہیں تاکہ ہم کچھ بیکار بحثیں چھوڑ کر آگے بڑھ سکیں۔ کیونکہ یہ مباحثے نہ صرف یہ کہ مسائل کا حل نہیں ہیں، بلکہ وقت کے ضیاع کا بھی سبب ہیں۔ اور اگر ہم یہ مباحثے چھوڑ دیں اور ان کی جگہ کچھ دیگر سنجیدہ اور اہم مسائل کے حل کی تلاش پر اپنی توجہ مرکوز کر دیں تو بلاشبہ یہ بہت بڑی نیکی ہوگی۔

پہلا اصول یہ کہ کسی سیاستدان کی کرپشن کا ذکر کرنے کا مطلب ہوتا ہے جمہوریت پر حملہ کرنا، رائے عامہ کو بلڈوز کرنے کی کوشش کرنا یا ووٹ کے تقدس کو پامال کرنا!

دوسرا اصول یہ کہ کسی مدرس کو سیاست چھوڑ کر پڑھانے یا نئے زمانے کی ضروریات کے مطابق اپنے علم کو اپ ڈیٹ کرتے رہنے کی درخواست کرنے کا مطلب ہے قوم کے مستقبل کے معماروں کی شبانہ روز محنت اور عظمت کا انکار کرنا، قوم کے مستقبل کے خلاف گھناؤنی سازش کرنا یا نئی نسل کے مستقبل سے کھلواڑ کرنا!

تیسرا اصول یہ کہ کسی ڈاکٹر کو مظاہرے اور ہڑتالیں چھوڑ کر مریضوں کے علاج پر توجہ مرکوز کرنے کا کہنے کا مطلب ہے قوم کے مسیحاؤں کی خدمات کو جھٹلانا، مسیحائی کرنے والوں کے احسانات کو فراموش کرنا یا انہیں قوم کی مسیحائی کرنے کی سزا دینا!

چوتھا اصول یہ کہ کسی صنعتکار، تاجر یا سرمایہ دار کو ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، غیرمعیاری اشیاء کی پیداوار یا فروخت یا ٹیکس چوری وغیرہ سے روکنے کا مطلب ہے اسے اس ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی سزا دینا، ملک میں مہنگائی کو فروغ دینے کی کوشش کرنا، لاکھوں مزدوروں کو بیروزگار کرنے کی کوشش کرنا، سرمایہ دار کو اپنی دولت ملک سے لے جانے پر مجبور کرنا، اسے اندرون ملک کاروبار کرنے سے روکنے کی کوشش کرنا وغیرہ وغیرہ۔

پانچواں اصول یہ کہ کسی منصف کو سالہاسال سے پس پشت ڈالے مقدمات کو نمٹانے اور صرف اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھنے اور نادیدہ قوتوں کے دباؤ کو مسترد کرنے کا کہنے کا مطلب ہے عدلیہ کی آزادی پر حملہ کرنا!

چھٹا اصول یہ کہ کسی صحافی کو کسی سیاسی جماعت یا کسی پریشر گروپ یا اسٹیبلشمنٹ یا اپنے مفادات کی ترجمانی چھوڑ کر اپنے پیشے کے تقدس کا خیال رکھنے کا کہنے کا مطلب ہے آزادی اظہار اور آزادی صحافت پر حملہ کرنا!

ساتواں اصول یہ کہ نادیدہ قوتوں کو سیاست میں عدم مداخلت یا اپنے امور پر توجہ بڑھانے یا کاروباری سرگرمیوں سے دور رہنے کی درخواست کرنے کا مطلب ہے قومی سلامتی پر حملہ کرنا اور دشمن کا ایجنٹ بننا!

ملک کے تمام قانون سازوں اور قانون ساز اداروں سے التماس ہے کہ اب کی بار اگر کبھی وہ قانون سازی کا ارادہ کریں تو ان نکات کو بھی اپنی نظرِکرم کا مرکز بنائیں، تاکہ کم از کم ہمارے قول و فعل کا تضاد تو ختم ہو سکے۔ اور ہمارے مستقل رویوں اور عمرانی معاہدے میں وہ ہم آہنگی آسکے جو ہمیں جھوٹ اور منافقت کی اس دلدل سے نکال کر اپنی معذوریوں سمیت ہی سہی، آگے بڑھنے کے قابل تو بنائے۔

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سلمان نثار شیخ

سلمان نثار شیخ

بلاگر قلمکار، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔