دوست ممالک سے مدد لینے کے ساتھ برآمدات بھی بڑھانا ہوں گی

ارشاد انصاری  بدھ 9 جنوری 2019
دوست ممالک کے ساتھ ساتھ حکومت کو خود بھی کچھ کرکے دکھانا ہوگا

دوست ممالک کے ساتھ ساتھ حکومت کو خود بھی کچھ کرکے دکھانا ہوگا

 اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی حکومت گذشتہ ساڑھے چار ماہ سے ملکی غیر ملکی قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دبے اور ناقابلِ برداشت تجارتی خسارے سے دو چار زبوں حال معیشت کی بحالی کیلئے کوشاں ہے اور ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی دوست ممالک نے مشکل کی اس گھڑی میں بھرپور ساتھ دیا ہے اور وزیراعظم عمران خان کے دوست ممالک کے دوروں کے ثمرات بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

سعودی عرب کے بعد یو اے ای کے پیکج کا اعلان اور پھر چین کی جانب سے بھی پاکستان کو امداد کی فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار حکومت اور ریاست کیلئے نوید کی ایک کرن ہے۔ مگر دوست ممالک کے ساتھ ساتھ حکومت کو خود بھی کچھ کرکے دکھانا ہوگا کیونکہ اب تک کی صورتحال سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت دو قدم آگے جاتی ہے تو ساتھ ہی دو قدم پیچھے آجاتی ہے اور دوست ممالک کی جانب سے امداد ملنے کے باوجود مسائل کم ہونے کی بجائے وقت کے ساتھ بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اگرچہ وزیراعظم عمران خان پُرعزم ہیں اور 2019 کو بحالی کا سال بھی قرار دیا ہے مگر اس کیلئے ضروری ہوگا کہ حکومت دوست ممالک سے کئے گئے مالی بندوبست کو ضائع ہونے سے بچائے کیونکہ رواں سہہ ماہی حکومت کیلئے ایک بہت بڑا امتحان ہے۔ اس سہہ ماہی میں بیرونی ادائیگیوں کیلئے بھاری فنڈز دستیاب ہیں تو وہیں بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے سے نمٹنا بھی اور ترسیلات زر کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ برآمدات کو بڑھانا بھی ایک بڑی آزمائش ہے۔ ابھی سعودی عرب،یو اے ای اور چین و ترکی کے دوروں سے حکومت کو حوصلہ ملا ہے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات ایک دوسرے سے گہرے روابط میں منسلک ہیں دونوں ملکوں کے وفود کی سطح پر مذاکرات میں طے کیا گیا ہے کہ باہمی تجارت بڑھانے کیلئے ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جس سے پاکستان کا بیرونی ادائیگیوں کا توازن بہتر ہو سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو سعودی عرب، یو اے ای، چین، ملائشیاء اور ترکی کے دوروں میں غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے اور ان دوست ممالک نے آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے جس سے پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کیلئے12 ارب ڈالر کی جس خطیر رقم کی ضرورت تھی اس سے دوست ممالک کی مالی امداد سے کسی حد تک سہولت تو میسر آئی ہے مگر یہ سہولت ایک سال کیلئے ہے اور پھر یہ بھی کہ ملکی قرضوں کا بوجھ بھی کم ہونے کی بجائے بڑھتا جا رہا ہے اور وہ قیادت جو کبھی قرضوں کے خلاف واضح و دوٹوک بیانیہ رکھتی تھی اب وہ بیانیہ یوٹرن کی نذر ہو چکا ہے اور یوں معلوم ہو رہا ہے کہ حکومت اب تک امور ریاست سمجھ نہیں سکی ہے اور قابلیت و صلاحیت کا فقدان کچھ کر گزرنے کے عزم کی راہ میں رکاوٹ دکھائی دے رہا ہے اور پھر کپتان کی ٹیم بھی ایک پیج پر نہیں ہے۔ ٹیم ممبران کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کنفیوژن کا سبب بن رہے ہیں۔

حال ہی میں یو اے ای کے کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زید النیہان کے مختصر دورہ پاکستان کے حوالے سے بھی کپتان کی ٹیم میں یکسوئی کا فقدان دیکھنے میں آیا جہاں حکومت کا ترجمان و وزیر اطلاعات سعودی ولی عہد کے پاکستان کے دورے بارے کچھ بیان دے رہا ہے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی کچھ اور بیان دے رہے ہیں اور ملکی معیشت و سیاست بارے جو شعلہ بیانی ہو رہی ہے وہ ماضی سے کچھ مختلف نہیں ہے ، صرف آواز اور انداز کا فرق ہے باتیں وہی ہیں جملے وہی ہیں جو کبھی پاکستان مسلم لیگ(ن) حکومت میں ادا کیاکرتی تھی اور پاکستان پیپلز پارٹی عوام کے سامنے پیش کیا کرتی تھی، لیکن پی ٹی آئی کی حکومت سے عوام کی توقعات مختلف تھیں مگر اب وہ توقعات بھی دھیرے دھیرے ختم ہوتی معلوم ہو رہی ہے اور اب سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ عوامی اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی حمایت کھو رہی ہے۔

ملکی معیشت کو سہارا دینے کیلئے دوست ممالک کے ساتھ ساتھ متبادل کے طور پر بین ا لاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ نئے پروگرام کے آپشن کو بھی ابھی حکومت نے ختم نہیں کیا ہے اور وہ بھی معاملات ساتھ ساتھ چلائے جا رہے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بھی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ پروگرام ابھی فائنل نہیں ہوا لیکن اس سے پہلے ہی ڈالر کی قیمت میں اضافی اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے علاوہ ڈیڑھ سو ارب روپے سے زائد کے اضافی ٹیکسوں کی شکل میں عوام پر بوجھ پہلے ہی بڑھایا جاچکا ہے جبکہ دوسرے منی بجٹ کی تیاریاں بھی اب حتمی مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہیں اور ترکی سے واپسی پر وزیز خزانہ اسد عمر اجلاس کی صدارت کر چکے ہیں جس میں دوسرے ضمنی بجٹ کے مسودے پر غور کیا جاچکا ہے اور اسے حتمی شکل دینے کیلئے اگلے چند روز میں فسکل پالیسی بورڈ کے اجلاس شروع ہونے جا رہے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ رواں ماہ دوسرے عشرے میں یہ ضمنی بجٹ آجائیگا۔

دوسری جانب ملک کی سیاسی صورتحال بھی تیزی سے بدل رہی ہے حکومت کے خلاف عدم اعتماد اور سیاسی گٹھ جوڑ کی باتیں زور پکڑ رہی ہیں، حال ہی میں آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی ہے اس کے علاوہ حکومت کے وزیر مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی کے بھتیجے سے منشیات کی برآمدگی اور گرفتاری بھی پی ٹی آئی قیادت کیلئے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس وزیر مملکت برائے داخلہ کا اپنا بھتیجا منشیات میں ملوث نکلے تو اس پر سوال تو اٹھیں گے۔

اگرچہ بھتیجے کی گرفتاری کی خبر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شہریار آفریدی اسے بھی اپنے لئے کریڈٹ قرار دے رہے ہیں مگر بطور قوم یہ ایک لمحہ فکریہ بھی ہے وزیر مملکت شہر یار آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیر کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہو جاتا۔سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ رواں سال سیاسی لحاظ سے اہم سال ہے اور اس میں بھی سیاسی گرما گرمی عروج پر رہنے کا امکان ہے اور سیاسی حلقوںکا خیال ہے کہ بڑے سیاسی رہنماوں کی گرفتاریوں کا خطرہ فی الوقت ٹل گیا ہے مگر ختم نہیں ہوا ہے اور مستقبل میں مزید گرفتاریوں کے امکانات موجود ہیں۔ البتہ کچھ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت دوسری نسل کے ہاتھوں جانے کے بھی امکانات ہیں اور سیاسی شطرنج کے پُرانے کھلاڑی پس پردہ کردار ادا کریں گے مگر وہیں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ حالات جس سمت بڑھ رہے ہیں اس سے قومی حکومت کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور پھر سترہ جنوری کے بعد سُپریم کورٹ آف پاکستان میں تبدیلی رونما ہونے جا رہی ہے اور نئے چیف جسٹس آف پاکستان کا نوٹیفکیشن بھی ہو چکا ہے اور حکومت کے ساتھ ساتھ دوسری سیاسی جماعتیں بھی اس انتظار میں ہیں کہ نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی آمد پر حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔