جعلی بینک اکاؤنٹس کیس، عدالتی فیصلے سے پیپلز پارٹی پر دباؤ میں کمی

جی ایم جمالی  بدھ 9 جنوری 2019
کیا وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اپنے منصب پر برقرار رہ سکیں گے اور کیا پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی حکومت بچا سکے گی؟

کیا وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اپنے منصب پر برقرار رہ سکیں گے اور کیا پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی حکومت بچا سکے گی؟

 کراچی: سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے جعلی بینک اکاؤنٹس کا کیس نیب کے حوالے کرنے اور اس کیس کی ازسر نو تفتیش کے حکم کے بعد سندھ حکومت کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی مہم ازخود غیر موثر ہو گئی ہے اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی حکومت کے حوالے سے بیورو کریسی میں پائی جانے والی بے یقینی کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے۔ دوسری طرف سندھ کابینہ نے گریڈ 1 سے 15 تک کی ہزاروں اسامیوں پر بھرتیاں کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام پیپلز پارٹی کے لیے سیاسی طور پر سندھ میں بہت مفید ثابت ہوگا لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت مستقبل میں پیش آنے والی مشکلات کے پیش نظر سیاسی حکمت عملی بھی وضع کر رہی ہے۔

گذشتہ پیر کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی اور اس حوالے سے قائم کردہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر مزید کوئی کارروائی کرنے کی بجائے یہ کیس ازسرنو تفتیش کے لیے قومی احتساب بیورو ( نیب ) کے حوالے کر دیا۔ سپریم کورٹ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین  بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا نام نکالنے کا بھی حکم دیا۔ کچھ لوگ یہ توقع کر رہے تھے کہ سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی رپورٹ پرکوئی فوری احکامات جاری کرے گی، جن کی وجہ سے نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی بلکہ وزیر اعلی سندھ کا اپنے منصب پر رہنا بھی مشکل ہو جائے گا لیکن ان لوگوں کی یہ توقع پوری نہیں ہوئی۔ بعض حلقوں کا کہنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو سپریم کورٹ کے ان احکامات سے وقتی طور پر ریلیف ملا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں حکومت کو گرانے، پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے یا صوبے میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لیے جو سیاسی دباؤ بڑھایا تھا، وہ دباؤ ازخود ختم ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف کی سیاسی مہم کا جواز موجود نہیں رہا ہے۔

قبل ازیں جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے اور بلاول بھٹو، آصف علی زرداری، فریال تالپور اور سید مراد علی شاہ سمیت 172 افراد کے نام ای سی ایل میں آنے کے بعد خود پیپلز پارٹی کے حلقوں میں مایوسی اور بے یقینی پیدا ہو گئی تھی اور لوگ ایک دوسرے سے سوال کر نے لگے تھے کہ پیپلز پارٹی کا مستقبل کیا ہے اور سندھ حکومت چلے گی یا نہیں؟ وزیر اعلی سندھ سید  مراد علی شاہ کے بارے میں ایک مضبوط وزیر اعلی کا تاثر بھی برقرار رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔ خاص طور پر سندھ کی بیوروکریسی’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ کی پالیسی اپنا رہی تھی اور سندھ حکومت میں معمول کے کام متاثر ہو رہے تھے ۔

مگر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تحریک انصاف نے مراد علی شاہ کو ہٹانے کے لیے جو مہم چلائی تھی، وہ نہ صرف اپنا سیاسی جواز کھو چکی ہے بلکہ اس مہم کے دوران سندھ میں اپوزیشن کی تقسیم کا جو عمل شروع ہوا تھا، وہ اب مزید گہرا ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کے سربراہ ، حروں کے روحانی پیشوا اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ( جی ڈی اے ) کے سربراہ پیر پگارا نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ مسلم لیگ (فنکشنل) سندھ حکومت کو گرانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ منگل کو دوبارہ اپنی پارٹی کے اجلاس میں انہوں نے یہ بات مزید واضح انداز میں کہہ دی ۔ پیر پگارا بوجوہ سید مراد علی شاہ کی کبھی بھی مخالفت نہیں کریں گے ۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی سندھ حکومت کے خلاف تحریک انصاف کا ساتھ نہ دینے کا اعلان کیا تھا ۔ اب ان دونوں جماعتوں کے مابین مزید فاصلے بڑھنے کا امکان ہے۔ جی ڈی اے بھی اس  معاملے پر تقسیم ہو گئی تھی۔ اب اس میں اور زیادہ اختلافات سامنے آ سکتے ہیں ۔ سید مراد علی شاہ اور ان کی حکومت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی ہے۔

سندھ کابینہ نے گریڈ ۔1 سے 15 تک ہزاروں اسامیوں پر بھرتی کی منظوری دے دی ہے ۔ سندھ کے بیروزگار نوجوان اب ان اسامیوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے ، انٹرویوز اور بھاگ دوڑ میں مصروف ہو جائیں گے ۔ ایک اندازے کے مطابق فوری طور پر 35 ہزار سے زائد اسامیاں پر کی جائیں گی۔ ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی حکومت بڑے پیمانے پر روزگار مہیا کرنے جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ 2017-18 کے بجٹ کے موقع پر خالی اسامیاں پر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ اس حوالے سے اخباروں میں اشتہارات شائع کر دیئے گئے۔ لاکھوں امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی تھیں لیکن پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اپنی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ الیکشن سے پہلے بھرتیاں نہ کی جائیں کیونکہ جن لوگوں کو نوکریاں نہیں ملیں گی ، وہ ناراض ہو جائیں گے ۔ اس سے الیکشن میں امیدواروں کو مسائل کا سامنا ہو گا ۔ اس طرح الیکشن سے پہلے کوئی بھرتیاں نہیں کی گئیں ۔ صرف پولیس میں ضرورت کے مطابق بھرتیاں ہوئیں ۔ اب فوری طور پر 35 ہزار سے زائد اسامیوں پر بھرتیاں ہوں گی ۔ یہ اقدام سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کے لیے بہت اہم ہو گا ۔ لیکن پیپلزپارٹی ان مشکلات سے بھی بے خبر نہیں ہے، جو مستقبل قریب میں پیش ا ٓسکتے ہیں ۔ اس کے لیے سیاسی حکمت عملی پر کام جاری ہے ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔