سینیٹ کی نشست پر ضمنی الیکشن، سیاسی جوڑ توڑ شروع

رضا الرحمٰن  بدھ 9 جنوری 2019
 پشتونخواملی عوامی پارٹی نے بھی اپنے اُمیدوار کیلئے اس نشست پر اپوزیشن جماعتوں سے تعاون مانگا تھا۔

پشتونخواملی عوامی پارٹی نے بھی اپنے اُمیدوار کیلئے اس نشست پر اپوزیشن جماعتوں سے تعاون مانگا تھا۔

کوئٹہ: بلوچستان میں چودہ جنوری کو سردار اعظم موسیٰ خیل کی وفات سے خالی ہونے والی سینیٹ کی نشست پر ضمنی الیکشن ہونے جا رہا ہے۔ اس حوالے سے  بلوچستان  اسمبلی میں پارلیمانی جماعتوں نے کوئٹہ کے سرد موسم کو گرما دیا ہے اور ان سیاسی جماعتوں نے سرگرم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی اختلافات بھلا کر بڑے پیمانے پر ایک دوسرے سے رابطوں کا آغاز کیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں سب سے بڑی سیاسی پارلیمانی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی نے اس نشست پر اپنے سیکرٹری جنرل کو میدان میں اُتارا ہے جبکہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھی بڑی پارلیمانی جماعتیں بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) اور متحدہ مجلس عمل نے بھی اپنے اپنے اُمیدوار کی کامیابی کیلئے کوششیں شروع کردی ہیں۔جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے بی اے پی کے اُمیدوار منظور کاکڑ کے حق میں اپنا اُمیدوار دستبردار کرکے  بلوچستان عوامی پارٹی کے اُمیدوار کی پوزیشن کو مستحکم کردیا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں اس وقت کانٹے دار مقابلہ دیکھنے میں آئے گا جب اپوزیشن جماعتیں کوئی مشترکہ اُمیدوار سامنے لائیں گی۔

مخلوط صوبائی حکومت میں شامل عوامی نیشنل پارٹی نے اپنا اُمیدوار دستبردار کرنے سے قبل اپوزیشن جماعتو ں بی این پی مینگل اور متحدہ مجلس عمل سے بھی رابطے کئے تھے اور ان سے اس نشست پر اپنے اُمیدوار کی حمایت کرنے کی درخواست کی تھی تاہم بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ اور وزیراعلیٰ جام کمال نے مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی گروپ کا اجلاس طلب کرکے باہمی مشاورت کے بعد مخلوط حکومت کا مشترکہ اُمیدوار منظور کاکڑ کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد ان کی اتحادی جماعت اے این پی نے بھی اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اپنے سنجیدہ اُمیدوار ڈاکٹر عنایت اﷲ کو منظور کاکڑ کے حق میں دستبردار کرنے کا اعلان کیا۔

جبکہ اس سے قبل پشتونخواملی عوامی پارٹی نے بھی اپنے اُمیدوار کیلئے اس نشست پر اپوزیشن جماعتوں سے تعاون مانگا تھا۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی نے حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی اور جے ڈبلیو پی سے بھی رابطے کئے ہیں۔ جبکہ اپوزیشن جماعت بی این پی(مینگل) بھی اپنے اُمیدوار کیلئے سنجیدگی سے پارلیمانی جماعتوں سے رابطے کررہی ہے اور پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت سے رابطہ کرکے انہیںصدر، وزیراعظم، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر کے انتخابات میں غیر مشروط حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹ کے اس الیکشن میں اپنے اُمیدوار کیلئے سپورٹ مانگی ہے۔

اسی طرح بی این پی(مینگل) نے اس طرف بھی اشارہ دیا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اُمیدوار اُن کی جماعت سے ہو سکتا ہے؟۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس بات میں اس لئے بھی وزن ہے کہ بی این پی اس سے قبل اپوزیشن لیڈر کے چناؤ میں متحدہ مجلس عمل کے اُمیدوار کی حمایت کر چکی ہے وڈھ،تربت اور کوئٹہ کی صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ضمنی انتخابات میں بھی ان دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کی بھرپور حمایت کی ہے اس لئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ بی این پی،متحدہ مجلس عمل کو اس نشست پر اپنا مشترکہ اُمیدوار لانے کیلئے قائل کر لے گی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ  سینیٹ کی اس نشست پر اگر اپوزیشن جماعتیں بھی حکومتی اتحاد کی طرح اپنا مشترکہ اُمیدوار میدان میں لاتی ہیں تو صوبائی مخلوط حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں ون ٹو ون کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس تمام صورتحال میں تحریک انصاف کے ووٹ اور حمایت کی اہمیت بڑھ جائے گی جس کے مذاکرات اس حوالے سے بلوچستان عوامی پارٹی اور بی این پی کے ساتھ جاری ہیں تاہم چند روز قبل تحریک انصاف بلوچستان کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر نصیب اﷲ مری کا یہ بیان سامنے آچکا ہے کہ ان کی جماعت سینیٹ انتخابات میں اتحادی جماعت بی اے پی کے اُمیدوار کی حمایت کرے گی لیکن بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی جانب سے تحریک انصاف سے سینیٹ کیلئے اپنے اُمیدوار کیلئے ووٹ مانگنے کے بیان نے تحریک انصاف کی مرکزی و صوبائی قیادت کو تذبذب کا شکار کردیا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ تحریک انصاف کی مرکزی اور صوبائی قیادت اس حوالے سے کیا فیصلہ کرتی ہے کیونکہ تحریک انصاف کے فیصلے کے اثرات مرکز اور صوبے کی سیاست پر بھی مستقبل میں اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے صدر اور بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے پارلیمانی نظام حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے ملک کی بہتری کیلئے صدارتی نظام حکومت کی حمایت کرکے سیاسی حلقوں میں نہ صرف ایک نئی بحث کا آغاز کرادیا ہے بلکہ ان کے اس بیان سے یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ  وہ پارٹی کے بعض فیصلوں اور اقدامات سے ناراض ہیں۔ اُنہوں نے اپنے اس بیان میں یہ بات بھی واضح کی ہے کہ یہ انکی ذاتی رائے ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سردار یار محمد رند بلوچستان میں حکومت سازی سے لے کر اب تک پارٹی کے بعض اہم رہنماؤں کی جانب سے تواتر کے ساتھ صوبائی معاملات میں مداخلت بعض فیصلوں میں انہیں بائی پاس کرنے اور پارٹی کے بعض فیصلوں اور اقدامات سے نالاں تھے تاہم وہ خاموشی سے اس تمام صورتحال کاجائزہ لے رہے تھے شاید اب انہیں ان کے قریبی ساتھیوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ خاموش رہنا بہتر نہیں لہٰذا اُنہوں نے چپ کا روزہ توڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی حکومت نے اپنے چار ماہ کے دور اقتدار میں کارکردگی کے حوالے سے چالیس اقدامات کی ایک فہرست جاری کی ہے جس میں وفاقی حکومت اور چینی حکام سے متعدد ملاقاتوں کے دوران سی پیک منصوبے میں بلوچستان کیلئے خصوصی نو فیصد حصے کا مطالبہ، آٹھویں جے سی سی میٹنگ کیلئے ماہی گیری، معدنیات، صنعتی اور دیگر شعبوں میں معاونت، چیف منسٹر اسپیشل سپورٹ پروگرام برائے امراض کینسر، تھیلیسیمیا، اوپن ہارٹ سرجری کیلئے اقدامات، شعبہ تعلیم اور صحت میں ایمرجنسی  ڈکلیئر کرنے کے ساتھ ساتھ واٹر ٹاسک فورس کا قیام، خشک سالی سے متعلق امداد کیلئے پچاس کروڑ روپے مختص کرنا، بیس ہزار خالی آسامیوں کیلئے فارمولہ واضح کرنا، خالی آسامیوں پر کاغذات جمع کرانے کیلئے عمر کی حد بڑھا کر43 سال مقرر کرنا،

سرکاری ملازمین کیلئے بلوچستان اسمبلی سے انڈولمنٹ فنڈ بل میں موثر اصلاحات، صوبائی اسمبلی سے گوادر میں یونیورسٹی کیلئے قرار داد کی منظوری منصوبے کیلئے پانچ سو ایکڑ اراضی اور منصوبے پر عملدآمد کیلئے ایک ارب روپے کا اعلان، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو خصوصی اختیارات دینے کے ساتھ ساتھ تمام اضلاع کیلئے 150ملین اضافی ترقیاتی فنڈز کی منظوری، چھ سو ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کے اجراء کا فیصلہ، تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے بلوچستان لازمی ایجوکیشن سروس بل کی کابینہ سے منظوری، لینڈ ریونیو ترمیمی بل2018ء کی کابینہ سے منظوری، 300 میگا واٹ گوادر کول فیلڈ پاور پلانٹ کی بنیاد، معذور افراد کیلئے اسپیشل ایجوکیشن کالج کوئٹہ کے منصوبے پر عملدرآمد، انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے منصوبے پر عملدرآمد کا اعلان، ایکسائز و ٹیکسیشن محکمے میں نئی رجسٹریشن بک اور نمبر پلیٹ کو متعارف کرانے جیسے فیصلے سمیت محکموں میں کرپشن کے مبینہ کیسز کی نشاندہی اور وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کے ذریعے ماضی کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے چھان بین اور اُن میں ہونے والی خورد برد کے کیسز کو منظر عام پر لانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق جام کمال کی حکومت نے بلاشبہ چار ماہ کے دوران  بعض اہم فیصلے کئے ہیں لیکن ان فیصلوں اور اقدامات پر عملدرآمد کا معاملہ انتہائی سست روی کا شکار رہا ہے خصوصاً سب سے اہم مسئلہ مختلف صوبائی محکموں میں خالی آسامیوں کو پر کرنے کا ہے جس پر حکومت کی طرف سے اب تک کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہ آنا تعلیم یافتہ نوجوانوں میں مایوسی کا سبب بن رہا ہے۔ دوسری جانب صوبائی مخلوط حکومت کی طرف سے مالی بحران کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔