ای او بی آئی پنشن میں 20 فیصد اضافے کی سمری کابینہ کو ارسال

احتشام مفتی  بدھ 9 جنوری 2019
ماہانہ پنشن5ہزار250روپے سے بڑھ کر6500 روپے ہوجائیگی فوٹو: فائل

ماہانہ پنشن5ہزار250روپے سے بڑھ کر6500 روپے ہوجائیگی فوٹو: فائل

 کراچی:  ایمپلائیز اولڈ ایج بینفٹس انسٹیٹیوشن (ای او بی آئی) کے پنشنرز کی ماہانہ پنشن میں 20فیصد اضافے کی سمری منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے۔

اضافے کے نتیجے میں ہر پینشنرکی ماہانہ پنشن 5 ہزار250روپے سے بڑھ کر6500روپے ہوجائے گی۔ ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس سلسلے میں متعلقہ وفاقی وزارت نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے سمری ارسال کردی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے پہلے منی بجٹ میں ای اوبی آئی کے پنشنروں کی ماہانہ پنشن میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ای اوبی آئی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھی اپنے18ویں ایمرجینٹ اجلاس میں مزید10فیصد اضافے کی منظوری دی تھی۔

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ای او بی آئی کے6لاکھ5ہزار736 پنشنرز استفادہ کر سکیں گے جن میں 4 لاکھ1 ہزار 135 عمر رسیدہ، 1لاکھ94ہزار145پسماندگان اور 10 ہزار 456 معذور پنشنرز شامل ہیں۔ فی الوقت ملک بھر کے 1 لاکھ 22 ہزار 205 ادارے یا آجر ای اوبی آئی میں رجسٹرڈ ہیں اور ان اداروں کے8لاکھ 3ہزار سے زائد ملازمین بھی رجسٹرڈ ہیں جبکہ ای اوبی آئی سے پینشن حاصل کرنے والوں کی مجموعی تعداد 6 لاکھ5ہزار736تک پہنچ گئی ہے۔ ای اوبی آئی کو وقت کے ساتھ مختلف چیلنجز کاسامنا ہے۔

جس میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے باعث کم ازکم اجرتوں کا تنازع سرفہرست ہے جس کے باعث آجران رائج کم ازکم 15000 روپے اجرت کے برعکس سال2008 کی کم ازکم 8 ہزار روپے ماہانہ اجرت کی بنیاد پر ای اوبی آئی کنٹری بیوشن جمع کرارہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کنٹری بیوشن کی وصولیوں میں عدم توازن کی وجہ سے ای اوبی آئی کا پنشن فنڈ بتدریج تنزلی کا شکار ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد 2014 سے ای اوبی آئی کو آجروں سے کنٹری بیوشن کی مد میں ماہانہ وصولیاں 55فیصد گھٹ کرتقریبا1ارب روپے رہ گئی ہیں جبکہ ادارہ اپنے پنشنرز کو ماہانہ 2 ارب 20 کروڑ روپے کی باقاعدگی کے ساتھ ادائیگیاں کررہا ہے، اس طرح سے ای اوبی آئی ماہانہ تقریبا1ارب 20 تا 25 کروڑروپے اپنی سرمایہ کاری سے نکال کر پنشنروں کو ادا کررہا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔