نظریاتی سیاست اور شخصیت پرستی

رضی کاظمی  بدھ 9 جنوری 2019
آج ہر جماعت شخصیت پرستی کی معراج پر ہے، نظریے اور منشور کی سیاست کہیں دفن ہو چکی ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

آج ہر جماعت شخصیت پرستی کی معراج پر ہے، نظریے اور منشور کی سیاست کہیں دفن ہو چکی ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

1970ء کی دہائی میں جو حکومت وجود میں آئی اسے پاکستان کی پہلی عوامی حکومت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اکثریتی پارٹی کو اقتدار نہ ملنے سے ملک کو جو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، اُس کا ازالہ کبھی نہ ہو سکا۔ مگر اُس وقت کے دونوں لیڈران جنہیں مشرقی اور مغربی پاکستان میں کامیابی حاصل ہوئی، نے ایک خاص نظریے پر الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عوامی تحریک کے نتیجے میں عوامی قائد کے طور پر سامنے آئے۔ وہ تحریک شاید پاکستان کی واحد تحریک تھی جس کی جڑیں مکمل طور پر عوام میں تھیں۔

پاکستانی عوام خصوصاً سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بچ جانے والے مغربی پاکستان کے عوام نے کسی شخصیت سے زیادہ ایک نظریے کو ووٹ دیا۔ پیپلزپارٹی ایک نظریاتی جماعت کے طور پر وجود میں آئی جس کے پہلے اجلادس میں محنت کشوں اور مزدوروں کے نمائندوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ بھٹو صاحب کی شخصیت کے کرشماتی ہونے سے انکار نہیں، مگر دراصل یہ نظریہ ہی تھا جس کی بنیاد پر بھٹو صاحب کی طرف سے کھمبا کھڑے کرنے پر بھی امیدوار کے جیتنے کے امکانات روشن تھے۔

ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک کے نتیجے میں جنم لینے والی پیپلزپارٹی اُس وقت کے بائیں بازو کی نمائندہ عام لوگوں کی جماعت تھی۔ اسلام ہمارا دین اور سوشلزم ہماری معیشت کے فلسفے نے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا تھا۔ بھٹو صاحب جیت گئے اور نظریہ سرخرو ہوا، مگر پھر سب کچھ ویسا نہ ہو سکا جیسے وعدے کیے گئے تھے۔

بھٹو سوشلزم تو کیا نافذ کرتے وہ جاگیرداری کو بھی ختم نہ کر سکے۔ نظریہ کی جگہ شخصیت کو طاقتور بنا دیا گیا۔ اب ملک کسی اور ہی سمت چل نکلا۔ شخصیات کی اہمیت اپنی جگہ مسلم، مگر نظریات ہی کسی قوم کی اولین ترجیح ہونے چاہئیں، ورنہ شخصیت پرستی قوموں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ ایوب خان کے خلاف چلنے والی عظیم عوامی تحریک کے بعد ہم کوئی تحریک نہ چلا سکے؛ کیونکہ نظریات اپنی موت آپ مر چکے تھے۔

بھٹو جیسی مقبول عوامی شخصیت کو پھانسی دینے کے باوجود ضیاءالحق کی آمریت اُس کی موت کے نتیجے میں ہی ختم ہوسکی۔ پیپلزپارٹی جو عوام کی پارٹی تھی، جسے محنت کشوں اور مزدوروں نے بنایا تھا، شخصیت پرستی کا سب سے بڑا گڑھ بن گئی۔ بھٹو کو زندہ رکھا گیا مگر اُس کے نظریے کو دفن کر دیا گیا۔ ضیاءالحق نے تقسیم کرواور حکومت کرو کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے مذہبی انتہاپسندی،  فرقہ واریت، لسانیت اور صوبائیت کو ہوا دی۔ اُس کے جانے کے  بھی یہ ناسُور پھلتے پھولتے رہے۔

محترمہ کی جدوجہد قابلِ تعریف اور تحسین کے قابل ہے، مگر اُن کو اقتدار اپنے والد اور اپنی شخصیت کی بنا پر ملا، نہ کہ کسی نظریے کی بنیاد پر۔ محترمہ کی حکومت سازشوں کا شکار ہونے پر ضیاء کی باقیات نے اقتدار سنبھالا تو اُن کے پاس کوئی نظریہ موجود نہیں تھا۔ باریاں لینے کا سلسلہ مشرف کی آمریت پر منتج ہوا اور ہماری شخصیت پرست قوم نے ایک بار پھر آمر سے توقعات باندھیں۔ ایوب کی نام نہاد ترقی اور ضیاء کی مذہب کے نام پر دئیے گئے لالی پاپ کو ہم بھلا چکے تھے. مارشل لاء لگنے پر پورے ملک میں مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے بعد مشرف سے امیدیں ٹوٹیں اور محترمہ بی بی کی شہادت پر ملنے والے ہمدردی کے ووٹ نے اقتدارآصف زرداری کی جھولی میں ڈال دیا۔ پیپلزپارٹی اب فقط بھٹوز کے نام پر ووٹ لیتی ہے۔

آج بھی پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ غریب محنت کشوں کی جماعت ہے، مگر نظریاتی اور عملی طور پر ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ آصف زرداری کی حکومت کی کارکردگی کو صفر ثابت کرنے اور بھٹو بننے کی ایکٹنگ کرنے پر ہم نے پھر شریف خاندان کو اپنا حاکم چُنا۔ معیشت کی بہتری کا جھوٹ بولا گیا اور پانچ سال بعد خالی خزانے کے ساتھ اقتدار عمران خان صاحب کو نصیب ہوا۔

تحریکِ انصاف کے کارکنان بظاہر کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر خان ٹھیک نہ چلا تو ہم اُس کا ساتھ بھی نہیں دیں گے۔ حقیقت میں عمران خان کے ہر غلط صحیح کام کی وکالت کرکے وہ خود ہی اپنی نفی کرتے ہیں۔ تحریکِ انصاف کا نظریہ کیا ہے؟ یہ شاید خود عمران خان صاحب کو بھی نہیں پتا۔ فقط کرپشن کے خاتمے کے آدرشی نعرے کیا ملک کے غریب عوام کی حالت بدلنے کے لیے کافی ہیں؟

تحریکِ انصاف کے لیڈروں سے لے کر عام کارکنان تک، سب فقط یہی کہتے نظر آتے ہیں کہ خان یہ کرے گا خان وہ کرے گا، یعنی وہ شخصیت پرستی کی معراج پر ہیں۔ ایسے میں نظریے اور منشور کی سیاست کہیں دفن ہو چکی ہے۔

شخصیت پرستی ہی کرپٹ عناصر کا ہتھیار ہے۔ اور اگر اِس ناسور کا خاتمہ نہ ہو سکا تو مُلک کے غریب محنت کش عوام کی زندگیوں میں بہتری فقط ایک دیوانے کا خواب ہی رہے گی۔ اِس ملک کو ایک بار پھر کسی بڑی عوامی تحریک کی ضرورت ہے جو نظریات اور اجتماعی لیڈرشپ کو جنم دے؛ اور شخصیت پرستی کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک ایسی نظریاتی جماعت کی تشکیل کرے جو حقیق تبدیلی لا سکے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

 

رضی کاظمی

رضی کاظمی

رضی کاظمی شاعری، ناول نگاری اور کہانی نویسی کا شوق رکھتے ہیں۔ سوشیالوجی میں بی ایس آنرز کیا ہے۔ مارکسزم، صوفی ازم جیسے موضوعات پر قلم اٹھانے کی جسارت کا ارادہ ہے



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔