پاکستانی شہریت اور افغان پناہ گزین

محمد علی خان، نوشہرہ  ہفتہ 12 جنوری 2019
مانا کہ تمام افغانی دہشت گرد نہیں، مگر پاکستان کےلیے نرم گوشہ رکھنے والے افغانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

مانا کہ تمام افغانی دہشت گرد نہیں، مگر پاکستان کےلیے نرم گوشہ رکھنے والے افغانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

حال ہی میں تبدیلی کے علمبردار اور نوجوانوں کی اُمید کی کرن جناب عمران خان صاحب نے کراچی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے افغان پناہ گزین، برما اور بنگلادیش کے تارکینِ وطن کو پاکستانی شہریت دینے کی بات کی ہے۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر عوام نے اِس پر ردِعمل کا اظہار بھی کیا۔ برما اور بنگلادیش کے شہریوں پر تو کسی نے اعتراض نہیں کیا، مگر افغان پناہ گزینوں سے متعلق اکثریت نے شدید مخالفت کی۔ شاید اسی وجہ سے حکومت نے اس پر خاموشی اختیار کرلی۔

افغان پناہ گزین کو پاکستانی شہریت دینے کی بات کرکے وزیرِاعظم صاحب نے ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جس کا ایک پہلو پاکستانی قوم کےلیے تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ خان صاحب نے یہ بات یورپ سے متاثر ہوکے کہی، مگر ایسا لگ رہا ہے کہ نہ تو انہیں پاکستان (باالخصوص خیبر پختونخواہ) کے عوام کے جذبات کا پتہ ہے اور نہ اِس کے نتائج کا۔ میں کم از کم خیبر پختونخواہ کے حوالے سے تو سو فیصد کہتا ہوں کہ یہ سیاسی خودکشی ہوگی۔ پی ٹی آئی کے کارکنان آج لیڈر کی ہر پالیسی یا اقدام کا دفاع کر رہے ہیں؛ سوائے اِس ایشو کے۔ کیونکہ کارکنان خود بھی اِس کے خلاف ہیں۔

چند دِن پہلے میں نے پی ٹی آئی کے ایک باریش کارکن کو جمیعت کے کارکن کے ساتھ بحث کرتے ہوئے دیکھا جو ہر قیمت پر یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ عمران خان مولانا سے بہتر لیڈر ہے۔ مگر جونہی افغان پناہ گزین کےلیے پاکستانی شہریت والی بات آئی، اُس باریش کارکن نے خود بھی اِس پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پرویز خٹک سمیت خیبر پختونخواہ کے دیگر پارٹی ارکان نے اِس حوالے سے عمران خان کو بریف نہیں کیا۔

برما، بنگلادیش اور افغانستان کوایک ہی پلڑے میں ڈالنا کسی بھی صورت دانشمندی نہیں۔ برما اور بنگلا دیش سے جو تارکین وطن پاکستان آئے سو آئے۔ اِن ممالک سے اور لوگ نہیں آسکتے اور اِن کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ اور میرے خیال میں جو ہیں وہ بھی صرف کراچی تک محدود ہیں۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ یہ لوگ کبھی پاکستان کے خلاف کسی بیرونی سازش کاحِصہ نہیں بنے۔ دوسری طرف اگر تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کو اگر پاکستانی شہریت دے کر یہ فاش غلطی کی گئی تو بے انتہاء مصائب کا شکار پاکستانی قوم اپنے ناتواں کندھوں پر یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکے گی۔

یہ تیس لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزین پاکستان میں پہلے ہی بہت سے مسائل کی وجہ ہیں، اور اگر کوئی معیار بنا کر کچھ افغان پناہ گزینوں کو پاکستانی شہریت دے دی گئی تو پھر یہ نہ ختم ہونے والا ایک ایسا سلسلہ شہروع ہوجائے گا جو شاید پاکستان کی تباہی پر ہی رکے۔ افغانی پاکستان کی تباہی کےلیے بننے والی کسی سازش کاحِصہ بننے میں دیر نہیں کرتے۔

پشاور اے پی ایس اور ہمارے سکیورٹی اِداروں پر ہونے والے لاتعداد حملوں میں افغانوں کے کِردار سے یہ بات پوری طرح ثابت شدہ ہے۔ جبکہ حال ہی میں شہید ہونے والے مولانا سمیع الحق اور ایس پی طاہر خان داوڑ ابھی تازہ مثالیں ہیں۔ حال تو یہ ہے کہ ہمارے پہلے وزیرِاعظم جناب لیاقت علی خان کو قتل کرنے والا بھی ایک افغان شہری سید اکبر تھا۔ اٹھارہ اکتوپر 2018 کے اخبارات اُٹھا کر دیکھ لیں، سیکیورٹی فورسز نے چار افغانوں کو گرفتار کیا جو حلقہ پی کے 71 میں ہونے والے ضمنی انتخابات پردہشت گردی کی منصوبہ بندی کرچُکے تھے۔ مانا کہ تمام افغانی دہشت گرد نہیں، مگر پاکستان کےلیے نرم گوشہ رکھنے والے افغانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے اور اِس کی وجہ حسد، جلن اور بغض ہے۔

چند سال پہلے جب وطنِ عزیز میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات ہوئے اور ان میں افغانوں کا کِردار پایا گیا تو افغان پناہ گزینوں میں وطن واپسی کی ایک لہر چل پڑی۔ اگر یاد ہو تو خیبرپختونخواہ کی چند سیاسی جماعتیں (اے این پی، قومی وطن پارٹی، جے یو آئی (ف اور س) اور جماعت اسلامی) نے ہنگامی اجلاس بُلائے اور وفاقی وصوبائی حکومتوں پر دباؤ ڈالا کہ افغان پناہ گزینوں کو واپسی پر مجبور نہ کیا جائے؛ جِس کی وجہ سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کاعمل پھر رُک گیا۔

اول تو میں اِن جماعتوں کی قیادت سے یہ پوچھتا ہوں کہ جب افغانستان میں پاکستانی شہریوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے، تو اس کےلیے کبھی اِس طرح بیٹھک بُلائی ہے؟ یا افغان حکومت سے اِس حوالے سے کبھی کوئی بات کی ہے؟ یا کبھی اِس کی مذمت کی ہے؟ تو اس کا جواب ہے… کبھی نہیں!! جناب یہ افغانستان میں قتل کیے جانے والے وہی پاکستانی شہری ہوتے ہیں جن سے آپ ووٹ مانگتے ہیں۔ اس حوالے سے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی یہ یاد دِلانا چاہتا ہوں کہ جمہوری معاشروں میں ایک اصول ہوتا ہے کہ ہمیشہ اُن سیاسی جماعتوں کی آراء کو اہمیت دی جاتی ہے جِن کے پاس عوامی مینڈیٹ ہو۔ اِن جماعتوں کے پاست کتنا عوامی مینڈیٹ ہے؟

افغان پناہ گزین ایک قومی مسئلہ ہے، صرف خیبرپختونخواہ کا تو نہیں۔ قومی سطح پر اِن سیاسی جماعتوں کی کیا حیثیت ہے؟ کیا اِن کی پالیسی کو پوری قوم پر مسلط کیا جاسکتا ہے؟ حال تو یہ ہے کہ مذکورہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی اپنے حلقے کے عوام مسترد کرتے رہتے ہیں۔ اِس بار جو اِن کا حال ہوا ہے یہ پہلی بار نہیں ہوا، ایسی عزت افزائی اِن کی پہلے بھی ہوئی ہے۔ دھاندلی کا ڈھنڈورا تو محض شرمندگی سے بچنے کےلیے پیٹا جا رہا ہے۔

اِس بات کا قوی امکان ہے کہ پاک فوج بھی افغان پناہ گزینوں کو پاکستانی شہریت دینے کے حق میں نہیں ہوگی۔ کیونکہ پاک فوج متواتر اِن کے انخلاء پر زور دیتی رہی ہے۔ یقیناً پاک فوج کو اِس حوالے سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا بھی ادراک ہوگا۔ کیونکہ اگر اِن کو پاکستانی شہریت دے دی گئی تو پھر یہ لوگ پاکستان کے تمام محکموں میں ملازمتوں کے حقدار ہونگے۔ ایسے میں اگر یہ لوگ حساس نوعیت جیسے پاکستان کی جوہری توانائی کا شعبہ ہے، میں گُھس گئے تو اِس کے کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، اِس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

ابھی بھی جن افغانوں کے پاس پاکستان کے شناختی کارڈ ہیں، یہ لوگ پاکستان کی سلامتی کےلیے خطرہ ہیں۔ کیونکہ انڈیا کی طرح اِن لوگوں نے بھی دِل سے پاکستان کوکبھی تسلیم نہیں کیا۔ یہ بات 47ء میں قیام پاکستان سے ہی عیاں ہے۔ کرکٹ کے بین القوامی ٹورنامنٹس ہوں یا تجارت، پاکستان کے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کوئی موقع اِنہوں کبھی ضائع نہیں کیا۔ ہر معاملے میں کھلے عام بھارتی سازش کاحصـہ بنتے ہیں۔ ہمیں نقصان پہنچانے کےلیے انڈیا، اسرائیل اور امریکہ کو افغانیوں کی شکل میں جو افرادی قوت میسـر ہے، وہ اُن کو دُنیا میں کہیں نہیں مل سکتی۔ افغان پناہ گزینوں کا ہمارے ساتھ ہمارے ملک میں رہنے کے بعد ہمیں کم ازکم اس بات کاتو یقین ہوگیا ہے کہ اِن کے دِلوں میں ہمارے لیے بغض کبھی ختم نہیں ہوگی۔

آخر میں وزیرِاعظم پاکستان سے یہ التجا کرتا ہوں کہ خدارا پاکستانی قوم اور آئندہ نسلوں پر ظلم نہ کریں۔ آپ کی حکومت آج ہے، نہیں معلوم کل ہوگی یا نہیں۔ لیکن اگر یہ فاش غلطی کر ڈالی تو ہماری آئندہ نسلوں کی بددعائیں ہمیشہ آپ کا پیچھا کرینگی۔ پاکستان یورپ کی طرح کوئی خوشحال ملک نہیں، بلکہ بے پناہ مصائب کاشکار ہے۔ ہم اِن کو شہریت تو کیا، اب بطورِ پناہ گزین بھی اِن کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتے۔ اور اگر آپ نے اِن کو پاکستانی شہریت دینے کا مصمۤم ارداہ کرہی لیا ہے تو پھر برائے مہربانی ہماری شہریت منسوخ کرکے ہمیں کسی اور ملک بھیج دیں۔ کیونکہ ہم خیبر پختونخواہ کو فلسطین اور پاکستان کو افغآنستان بنتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد علی خان، نوشہرہ

محمد علی خان، نوشہرہ

بلاگر ماہرِ تعلیم ہیں اور ایک نجی اسکول میں پرنسپل کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔