کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے لیگی رہنماؤں کی ملاقات

ویب ڈیسک  جمعرات 10 جنوری 2019
نواز شریف کو  العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید سنائی گئی ہے، فوٹو: فائل

نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید سنائی گئی ہے، فوٹو: فائل

 لاہور: العزیزیہ ریفرنس میں سزا پانے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے جیل میں ان کے اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں نے ملاقات کی ہے۔

جمعرات کا دن کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف سے ملاقاتوں کے لیے مختص ہے، جس کے پیش نظر مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور کارکن صبح سے ہی کوٹ لکھپت جیل کے باہر پہنچنا شروع ہوگئے۔ نواز شریف سے ملاقات کرنے والے پارٹی رہنماؤں میں مشاہد اللہ خان، خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ، ملک ندیم کامران، منشاء اللہ بٹ اور عثمان ابراہیم سمیر دیگر شامل ہیں۔

سیاست کو صراط مستقیم پر چلانے کا جرم

ملاقات سے قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد اللہ خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف سیاست کے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں، وہ ملکی سیاست کو صراط مستقیم پر چلانے کے جرم میں کوٹ لکھپت جیل میں ہیں، وہ ہماری پارٹی کے لیڈر ہیں، انہیں زمین کی ساتویں تہہ میں بھی بند کر دیں تو بھی عوام کی محبت ختم نہیں کی جا سکتی۔

عمران خان آلہ کار ہیں

کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان نے کینٹینر پر چڑھ کر ملک میں عدم استحکام پیدا کیا، عمران خان آلہ کار ہیں اور انہیں جعلی مینڈیٹ کے تحت لایا گیا، آج عام آدمی بھی سوال کر رہا ہے کہ اس حکومت کو کیوں جتوایا گیا، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ انہیں کون لایا ہے۔ نواز شریف انتقامی احتساب کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں ناحق اور نا انصافی سے قید کیا گیا ہے، کوئی بھی ملک عدم استحکام میں ترقی نہیں کرسکتا، ملک میں کاروبار منجمد ہو کر رہ گیا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو ملک دیوالیہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 24 دسمبر کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید سنائی ہے۔ نواز شریف کی درخواست پر ہی انہیں اڈیالہ جیل راولپنڈی کے بجائے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں رکھا گیا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔