ایک عقلمند کی تین نصیحتیں

ڈاکٹر رانا عامر نواب  جمعـء 11 جنوری 2019
عقلمند نے اسے تین نصیحتیں کی جنہوں نے اس کی زندگی بدل دی۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

عقلمند نے اسے تین نصیحتیں کی جنہوں نے اس کی زندگی بدل دی۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کچھ عرصہ پیچھے چلے جائیں تو بڑے، بچوں کو بہلانے کےلیے کہانیاں سناتے تھے۔ کبھی ایک حصہ، کبھی آدھی اور کبھی پوری کہانی سنتے سنتے بچوں کو نیند آجاتی اور ایسے ہی کہانیوں کا یہ سلسلہ بچوں میں منتقل ہوتا رہا۔ بزرگ ان کہانیوں میں مختلف واقعات اور حالات بیان کرتے جو انسان کو مشکل وقت میں سنبھلنے، درست فیصلہ کرنے اور بہتر زندگی گزارنے کےلیے رہنمائی کرتے۔ ایسی ہی ایک کہانی ملاحظہ فرمائیے۔

رابعہ اور رؤف کا آپس میں کزن کا رشتہ تھا۔ دونوں کی رضامندی سے شادی ہوئی۔ کچھ عرصہ گزارنے کے بعد گھر کے حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے گھر والوں نے مل بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ رؤف کو کام کےلیے شہر جانا چاہیے۔ رؤف نے اس فیصلے پر رضامندی کا اظہار کیا۔ رابعہ نے اپنی کُل جمع پُونجی 300 روپے اور کچھ سکے رؤف کو دیئے، سامان تیار کیا، رخصت کیا، ساتھ چلتے چلتے دعائیں دیں اور کچھ نصیحتیں کیں۔ آخری نصیحت یہ تھی کہ اپنی صحت کا خیال رکھنا اور جیسے ہی حالات بہتر ہوجائیں، چِٹھی (خط) کے ذریعے ہمیں آگاہ کردینا، تسلی ہو جائے گی۔ رؤف نے ہاں کہتے ہوئے سر ہلادیا۔

والدین، گھر، محلے اور دوستوں کو چھوڑنا آسان نہیں ہوتا لیکن رؤف کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ رؤف ایک درخت کے پیچھے کھڑا سرسبز درختوں، اڑتے ہوئے پرندوں، کھیلتے ہوئے بچوں اور لہلہاتے کھیت کو دیکھنے میں محو تھا کہ اتنے میں ایک بیل گاڑی آپہنچی۔ اپنا سامان رکھا اور بیل گاڑی پر سوار ہو گیا۔

بیل گاڑی پر پہلے سے ایک خوش شکل نوجوان بیٹھا تھا۔ رؤف نے سلام کیا اور بات آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ آپ کا تعارف۔ اس شخص نے جواب دیا عقلمند۔ رؤف نے کہا کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟ نوجوان بولا عقلمند۔ رؤف نے مسکراتے ہوئے پوچھا کس شہر میں رہتے ہو۔ نوجوان نے جواب دیا عقلمند۔ رؤف بولا واہ بھائی عقلمند مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ عقلمند نے کہا میں مفت میں نصیحت نہیں کرتا۔ پیسے لگیں گے۔ رؤف نے پوچھا کتنے پیسے لیں گے؟ عقلمند نے بتایا کہ ایک بات سنانے کے 100 روپے۔ نوجوان نے رؤف کو تین باتیں بتائیں۔ یہ نصیحتیں آگے مندرجہ ذیل بیان کی گئی ہیں۔ رؤف نے جیب میں ہاتھ ڈال، تھیلی نکالی اور 100 کے تین نوٹ نکال کر نوجوان کو تھمادیئے۔

عقلمند نے پہلی نصیحت یہ کی کہ اکیلے سفر نہ کرو۔ بہتر ہے کسی جانور یا پرندے کو ساتھ لے لو۔ کچھ فاصلے پر رؤف بیل گاڑی سے نیچے اترا، سامان اٹھایا، دو سکے بیل گاڑی والے کو دیئے اور اپنا ٹھکانا تلاش کرنے لگا۔ چلتے چلتے دائیں طرف ایک خارپشت (چھوٹی گیند کی طرح کانٹوں سے ڈھکا ہُوا، کالے رنگ کا جانور جو اکثر رات کے وقت پرانے گھروں میں دیکھنے کو ملتا ہے) نظر آیا۔ رؤف نے خِارپشت کو دیکھ کر پہلے تو نظر انداز کیا لیکن پھر اچانک اسے نصیحت یاد آئی کہ اکیلے سفر نہیں کرنا۔ رؤف واپس پلٹا اور خارپشت کو اٹھالیا۔ خاصا فاصلہ طے کرنے کے بعد رؤف ایک درخت کے قریب پہنچا۔ خارپشت کو زمین پر رکھا اور لیٹ گیا۔ تھکاوٹ کی وجہ سے فوراً نیند آگئی۔ درخت پر ایک سانپ تھا جو شکار کے انتظار میں تھا۔ سانپ نیچے آیا، رؤف کو کاٹا اور واپس جانے لگا۔ خارپشت نے سانپ کو دُم سے پکڑ لیا۔ سانپ بولا چھوٹے بھائی میں نے تمہار کیا بگاڑا ہے؟ خارپشت بولا تو پھر اس انسان نے تمہارا کیا نقصان کیا تھا؟ سانپ بڑی دیر منت سماجت کرتا اور معافی مانگتا رہا تب خارپشت اُس بات پر راضی ہوا کہ اگر تم اس کے جسم سے زہر واپس کھینچ لو تو تمہاری جان بخشی ہو سکتی ہے۔ سانپ نے اس کے جسم سے زہر واپس کھینچا۔ رؤف کو ہوش آیا، حیران و پریشان ہوا اور پھر اس نے دل ہی دل میں عقلمند کا شکریہ ادا کیا اور سوچا کہ 100 روپے کام آگئے۔

شام کا وقت ہو چکا تھا، رات گزارنے کےلیے رؤف نے اِدھر اُدھر دیکھا تو بہت دُور ایک مدہم سی روشنی نظر آئی۔ قریب پہنچا تو ایک کچا مکان تھا۔ دستک دی، ایک بُڑھیا باہر آئی۔ رؤف نے رات گزارنے کےلیے جگہ دینے کی درخواست کی۔ بُڑھیا نے اندر آنے کو کہا۔ جیسے ہی میں اندر داخل ہُوا تو اس کی نظر سامنے دیوار پر پڑی۔ دیوار میں ایک طاق بنا تھا، اس طاق میں ایک چراغ تھا جو کبھی مدھم اور کبھی تیز روشنی سے جل رہا تھا۔ تھوڑے فاصلے پر دو عدد چارپائیاں پڑی تھیں۔ داہنے ہاتھ کو پانی کا گھڑا تھا اور ساتھ میں مٹی کا برتن رکھا تھا۔ بائیں طرف کونے میں کچھ کیاریاں بنی تھیں۔ ان کیاریوں میں مختلف رنگ کے پھول تھے۔ ان پھولوں سے برآمدے میں خوشبو پھیل رہی تھی جو ہر قسم کی تھکاوٹ، پریشانی اور تکلیف کو کھینچ رہی تھی جیسا کہ درد ختم کرنے والی کوئی گولی ہو۔

بُڑھیا سیدھے ہاتھ والی چارپائی پر بیٹھ گئی اور اسے سامنے والی چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ بیٹھنے لگا کہ عقلمند کی دوسری نصیحت یاد آگئی۔ عقلمند نے دوسری نصیحت یہ کی تھی کہ بیٹھنے سے پہلے تسلی کرلو کہ جگہ آرام دہ ہے یا نقصان دہ۔ رؤف نے چارپائی سے چادر اٹھائی تو دیکھا کہ نیچے ایک گہرا کنواں تھا جس میں انسانوں کے ڈھانچے تھے۔ اس کی تو جیسے اوپر کی سانسیں اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئیں۔ وہ وہاں سے بہانہ بنا کر دوڑا اور بہت دور پہنچ کر سُکھ کا سانس لیا۔ ایک بار پھر اس نے دل ہی دل میں عقلمند کا شکریہ ادا کیا۔ سوچا کہ ایک اور 100 روپے کام آگئے کہ جان ہے تو جہان ہے۔

اب اس نے ایک درخت کے نیچے آرام کیا۔ صبح ہوئی اور اپنا سفر دوبارہ شروع کیا۔ چلتے چلتے سامنے ایک محل نظر آیا۔ قریب پہنچا، درخواست کی کہ میں کام کےلیے نکلا ہوں۔ بادشاہ کے دربار میں اسے باغات کی صفائی ستھرائی کا کام مِل گیا۔ بہت دنوں کے بعد اسے معلوم ہوا کہ ایک قافلہ اس کے گاؤں کی طرف روانہ ہونے والا ہے تو اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ کچھ کھانے پینے کےلیے سامان اس کے گھر والوں کو بھجوا دیا جائے۔ اونٹو ں پر اناج کی بوریاں لاد دی گئیں۔ اس نے ایک خط قافلے والوں کو دیا اور قافلہ روانہ ہو گیا۔

جب قافلہ دوسری سلطنت کے قریب پہنچا تو لوگوں کا ہجوم تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ قحط سالی کی وجہ سے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ اگر یہ غلہ ہمیں دے دیا جائے تو بدلے میں جو مرضی چاہیں سونا اور چاندی لے لیں۔ قافلے والوں نے انسانی ہمدردی کی خاطر غلہ ان کے حوالے کیا۔ لوگوں نے بوریوں میں سونا اور چاندی بھر کر اونٹوں پر لاد دیا اور دعاؤں کے ساتھ قافلے کو روانہ کر دیا۔ کچھ دنوں بعد قافلہ رؤف کے گاؤں پہنچا۔ سونے اور چاندی سے بھری بوریاں قافلے والوں نے رؤف کے گھر والوں کے حوالے کیں اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ کچھ سال گزر جانے کے بعد رؤف نے گھر جانے کےلیے بادشاہ سے درخواست کی اور بادشاہ نے گھر جانے کی اجازت دے دی اور ساتھ ہی تحفے میں سواری کےلیے ایک گھوڑا بھی دے دیا تاکہ سفر آسانی سے ہوجائے۔ اس طرح مہینوں کا سفر کچھ دِنوں میں طے ہوگیا اور رؤف گھر پہنچ گیا۔ سب کچھ بدل چکا تھا۔ اس کے گھر کی جگہ ایک عالی شان کوٹھی بنی تھی۔

لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ تو اپنا ہی گھر ہے۔ اندر داخل ہوا تو سامنے کچھ کمرے بنے تھے، چلتے چلتے ایک کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک چارپائی پر نوجوان لڑکا لیٹا ہے اور دوسری چارپائی پر اس کی بیوی سوئی ہوئی ہے۔ رؤف سے دیکھا نہ گیا، سامنے دیوار سے تلوار اٹھائی اور اس نوجوان کو قتل کرنے لگا تھا کہ عقلمند کی تیسری نصیحت یاد آئی: کوئی کام کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لو اور مشورہ کرلو، یہ نہ ہو کہ بعد میں پچھتانا پڑے۔ رؤف دوسری چارپائی کے قریب پہنچا بیوی کو خاموشی سے جگایا تو معلوم ہو کہ یہ اس کا اپنا ہی بیٹا ہے۔ تلوار رؤف کے ہاتھ سے چھوٹی، زمین سے ٹکرائی اور اس کا بیٹا جاگ گیا۔ رؤف نے آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو گلے سے لگالیا۔

رؤف نے سب گھر والوں کو عقلمند کا قصہ سنایا تو سب ہی نے عقلمند کا غائبانہ شکریہ ادا کیا۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے معاشرے میں بھی ایسے عقلمند پیدا فرمائے جو لوگوں کو درست نصیحتیں کریں، اچھا مشورہ دیں، انسان کو انسان سمجھیں اور مشکل میں لوگوں کا سہارا بن جائیں (آمین)۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔