پولیس افسر پر حملے اور بم دھماکے میں زخمی ہونیوالے 2 افراد چل بسے

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 23 اگست 2012
محمد یوسف کی ہلاکت کے بعد پولیس افسر پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی۔ فوٹو: فائل

محمد یوسف کی ہلاکت کے بعد پولیس افسر پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 5 ہوگئی۔ فوٹو: فائل

کراچی: ملیر ہالٹ میں ایس ایس پی ملیر رائو انوار کے قافلے پر کیے گئے خود کش حملے اور گلشن اقبال میں سفاری پارک کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں زخمی ہونے والے 2 افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج اسپتال میں چل بسے ، ملیر دھماکے کا زخمی غربت کے باعث اپنا علاج معالجہ جاری نہیں رکھ سکا تھا ، زخم انتہائی خراب ہوگئے تھے ، دوسری جانب گلشن اقبال میں دھماکے کا مقدمہ تاحال درج نہیں ہوسکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات 5 اپریل کو ملیر ہالٹ میں ایس ایس پی ملیر رائو انوار کے قافلے پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں 4 افراد 20 سالہ محمد عدیل ، 50 سالہ لال بادشاہ ، 60 سالہ عطا محمد اور ایک نامعلوم شخص ہلاک ہوگئے تھے ، نامعلوم شخص کو بھی ایدھی فائونڈیشن کے تحت کچھ عرصے بعد سپرد خاک کردیا گیا تھا ، واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے ، زخمیوں میں شامل محمد یوسف دوران علاج چل بسا۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد یوسف کا آبائی تعلق بدین سے تھا جبکہ وہ کراچی میں محنت مزدوری کی غرض سے رہائش پذیر تھا ، واقعے کے وقت وہ ملیر ہالٹ سے گزر رہا تھا کہ دھماکے کی زد میں آگیا ، محمد یوسف غربت کے باعث اپنا علاج معالجہ نہیں کراسکا تھا جبکہ اس کے زخموں کی حالت انتہائی خراب ہوگئی تھی،اسپتال ذرائع نے مزید بتایا کہ اس کے زخم بگڑنے کی وجہ سے کینسر کی سی کیفیت پیدا ہوگئی تھی ، محمد یوسف کی ہلاکت کے بعد دھماکے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 5 ہوگئی ، مقتول کی میت بدین لے جائی گئی۔

ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر ایس ایچ او ماڈل کالونی انسپکٹر ارشد نے بتایا کہ زخمی کے ہلاک ہونے سے متعلق لاعلم ہیں اور اس سلسلے میں پولیس کو مطلع نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس کی تدفین کے بارے میں بھی معلوم نہیں ہوسکا ہے ، علاوہ ازیں 17 اگست کو جمعۃ الوداع کے موقع پر گلشن اقبال میں سفاری پارک کے مرکزی دروازے کے قریب سڑک کے کنارے نصب شدہ بم پھٹنے سے 2 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

گلشن اقبال پولیس کے مطابق واقعے کا ایک زخمی نظام الدین دم توڑ گیا ہے ، اس سے قبل منظور حسین اور امتیاز نامی 2 افراد ہلاک ہوئے تھے جن کی میتیں گلگت روانہ کی گئی تھیں ، نظام الدین کا آبائی تعلق اٹک سے تھا جس کی میت تدفین کیلیے اٹک روانہ کردی گئی ، واقعے میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 3 ہوگئی ، گلشن اقبال پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ تاحال درج نہیں کرایا گیا ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔